گُوادر کلانچی پاڑا کا مسئلہ
- Advertisement -
سی پیک جیسے منصوبے میں بلوچستان کیلئے شہد کی نہریں بہے گی یا نہیں وہ رہی بعد کی بات مگر فی الحال موجودہ المیہ یہی ہے کہ گوادر کے مقامی باسی پانی، بجلی اور لینڈ و آبی مافیاز کے خلاف بیک وقت ایک جنگ لڑ رہے ہیں،بدقسمتی سے ہمارے چاگرد میں جب بات عام عوام کی استعصالیت کی آتی ہے تو اسے ڈالچار کرنا ہم سب کا فرض بن جاتا ہے،
گُوادر کے مغربی ساحلی کنارے شہر کے شمالی طرف زمانہ قدیم سے ایک سرکاری چراگاہ ہوا کرتا تھا جہاں بارش اور بہارگاہ ہونے کے بعد مالدار لوگ اپنے مال مویشی چرانے کیلئے گُوادر سے پیشوکان تک کے ساحلی کنارے آتے تھے،1992 میں گوادر کے زمینوں کا سروے سٹیلمنٹ مکمل ہوا، مقامی لوگوں کے مطابق اس سروے کے بعد جو زمین چراگاہوں کیلئے مختص کی گئی تھی جو 12 سے 13 ہزار ایکڑ پر مشتمل تھی جن میں رہائشی علاقے بھی شامل تھے اُسے ایک بااثر فیملی کے نام کردیا گیا اسکے بعد حکومت نے آنکاڑہ جنوبی اور شمبے اسماعیل کی ہزاروں ایکڑ زمین مقامی لوگوں سے چھین کر سرکار کے نام الاٹ کردی گئی.
کلانچی پاڑا گُوادر پورٹ سے تقریباً 9 کلومیٹر کی دوری پر ہے اور پاڑا کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ یہاں 1985 سے آباد ہیں اور سولہ سال ہوگئے کہ یہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دستیاب نہیں، اکیسویں صدی میں کوریڈور سے منسلک یہ پاڑا بجلی اور پانی کی سہولت سے تاحال محروم ہے، کلانچی پاڑا کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتِ بلوچستان کی طرف سے اسمارٹ پورٹ سٹی پروجیکٹ کلانچی پاڑا کے باسیوں کو شہر سے شفٹ کرنے کا ایک منصوبہ ہے جسے ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہرگز قبول نہیں کرسکتے.
اسی زمین پر 1985 سے آباد کلانچی پاڑا اور مونڈی کے رہائشی ہزاروں افراد کو مالکانہ حقوق نہیں دئیے گئے، اب ان 15 ہزار سے زائد آبادی کے دونوں علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھر سے بے دخل کرنے کا منصوبہ زیرِغور ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گوادر دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر اور جی ڈی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایات جاری کئے تھے کہ مقامی رہائشیوں کو گوادر شہر سے 40 کلومیٹر دور گراب ہاؤسنگ نامی ڈی جی اے ہاوسنگ اسکیم میں 120 اور 200 گز کے پلاٹ الاٹ کرکے انہیں کلانچی پاڑا اور مونڈی سے منتقل کیا جائے. اس معاملے پر میں نے کلانچی پاڑا کے ایک مقامی نوجوان امان اللہ بلوچ سے اس مسئلے کے بابت پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ جہاں میں رہائش پزیر ہوں اور میرا گھر ہے اُس علاقے کا نام کلانچی پاڑہ ہے اور یہ علاقہ گُوادر شہر کے اندر واقع ہے اور گُوادر پورٹ سے لگ بھگ 9 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہ علاقہ پچھلے 16 سالوں سے بجلی سے محروم ہے اور یہاں تقریباً 12 سے 15 ہزار لوگ رہتے ہیں جو 1985 سے یہاں آباد ہیں، مختلف سرکاری پروجیکٹس کے نام پر یہاں کے لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا رہا ہے،بااثر سرکاری لوگ علاقے کو سہولیات پہنچانے کیلئے پیسے لیتے ہیں مگر آج تک عملاً یہاں کوئی کام نہیں ہوا ہے، گُوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ہمارے علاقے کی بجلی اور پانی کے کنکشن یہ کہہ کر بند کردیئے کہ مستقبل میں یہاں ایجوکیشن کمپلیکس پر کام ہوگا، سرکاری ماسٹر پلانز کی وجہ سے ہمارا علاقہ بجلی اور پانی کی سہولیات سے محروم ہے. امان اللہ بلوچ نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم کلاچی پاڑا کے لوگ حکومت وقت سے گزارش کرتے ہیں کہ یہ علاقہ ہمارا آبائی علاقہ ہے ہم 1985 سے یہاں پر رہ رہے ہیں نہ ہمارے پاس پانی ہے اور نہ ہی بجلی کا کوئی نظام، مختلف پروجیکٹس کے نام سے اب ہمیں ہمارے آبائی علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر غلط ہے ہم حکومت سے دردمندانہ گذارش کرتے ہیں کہ ہمیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں جو ہمارا بنیادی حق ہے اور مالکانہ حقوق کے ساتھ ساتھ ہمیں بنیادی سہولیات بجلی اور پانی فراہم کرنے کا بندوبست کریں.