- Advertisement -
ضلع چاغی خشک سالی کی لپیٹ میں حکومت اقدامات نہ ہونے کے برابر لوگ نکل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں
اس وقت بلوچستان ضلع چاغی خشک سالی کی لپیٹ میں ہے 2015کے بعد چاغی میں بارشوں کا تناسب بہت کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے علاقہ مکین شہریوں کی طرف نکل مکانے کررہے ہیں اس مسئلہ کو صوبائی حکومت سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں اس حوالے سے کئی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں اس حوالے سے بات ہوگی گئی ہے لیکن تاحال اس حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے دیئے گئے اقدامات نہ ہونے کی برابر ہے 50ٹرک پی ڈی ایم اے کی جانب سے ان علاقوں میں بیجھا گیا ہے وہ بھی ابھی تک علاقہ مکینوں میں قسطوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ابھی تک کوداموںمیں امدادی اشیاءپڑے ہوئے ہیں 20ہزار کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں جانور مررہے ہیں چارگائیں خشک ہوگئے ہیں وہاں پر جب جانور چرنے جاتے ہیں ان جڑی بھوٹیوں پر مٹھی پڑے ہوئے ہیں جس کو کھانے سے جانوروںمیں مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہے ہیں جبکہ ہزاروںکے قریب جانورمرچکے ہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا کہنا ہے کہ ہم نے 8ہزار کے قریب بچوں کی اسکرینگ کی ہے ان میں سے 5ہزار کے قریب بچوں میں شدید غذائی قلت کا شکار ہے ان کو غذائیت کا فوری ضرورت ہے اور اسی وجہ سے یہاں بچوں کی مرنے کا تعداد بہت زیادہ ہے حکومت کو چاہیے اس مسئلہ کوئی سنجیدگی سے لے کر متاثرہ علاقوں کا سروے کرائے ان غریب لوگوں کی مدد کریں تاکہ کوئی بھی بڑا انسانی بحران پیدا نہ ہو۔