70ہزار افراد کیلئے بنائے جانے والے کوئٹہ شہر میں 35لاکھ افراد بستے ہیں جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے ،میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ

0

- Advertisement -

میئرکوئٹہ ڈاکٹرکلیم اللہ خان نے کہاہے کہ بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی کرنےوالوں اور غیر قانونی موٹرسائیکل اسٹینڈز مالکان کےخلاف کارروائی کیلئے مجسٹریٹس اور پولیس کی نفری نہیں رکھتے اس لئے کارروائی کیلئے ضلعی انتظامیہ کی مدد لے رہے ہیں ،70ہزار افراد کیلئے بنائے جانے والے شہر میں 35لاکھ افراد بستے ہیںجہاں ٹریفک پلازے نہ ہونے کے باعث عوام کو ٹریفک جام کے مسئلے کا سامنا ہے اس مسئلے میں کمی لانے کیلئے سرکلرروڈ پارکنگ پلازے کے مکمل شدہ فلور ہمارے حوالے کئے جانے چاہےے ،پارکنگ پلازے نہ ہونے کی وجہ سے تاجر اور عوام غیرقانونی پارکنگ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزصوبائی وزیر داخلہ سلیم کھوسہ ،رکن اسمبلی مبین خان خلجی ،اے ڈی سی ریونیوبتول اسدی ودیگر کے ہمراہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک مسائل ودیگر سے متعلق منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹرکلیم اللہ خان کاکہناتھاکہ کوئٹہ شہر 70ہزار افراد کیلئے بنایاگیا مگر اس وقت یہاں 35لاکھ کے لگ بھگ لوگ بستے ہیں ،آبادی میں اضافے اور پارکنگ پلازے نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا مسئلہ سنگین تر ہوگیاہے جسے نکلنے کیلئے ہم نے بارہا پارکنگ پلازے بنانے کیلئے پرپوزلز دئےے ہیں لیکن ان پرپوری طرح عملدرآمد ممکن نہیں ہوسکاہے ہماری کوشش ہے کہ شہر میں نئے پارکنگ پلازے بنا کر ٹریفک کے مسئلے سے چٹکارا حاصل کیاجاسکے ہم نے سرکلر روڈ بس اڈہ کی جگہ تعمیر ہونے والے پارکنگ پلازے کے مکمل فلور حوالگی کا بھی مطالبہ کیاہے تاکہ اسے کام لیاجاسکے ،ابھی تک مذکورہ پارکنگ پلازے کے مختلف فلورز پر کام کا سلسلہ جاری ہے ،انہوں نے کہاکہ مٹن مارکیٹ کی جگہ پارکنگ اور دیگر بنانے کیلئے میں نے ذاتی طورپرکوشش کرکے اپنے فنڈز سے 20کروڑ روپے مختص کئے ہیں شہر میں 5مقامات پر پارکنگ پلازے بنانے کیلئے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو نقشے دئےے گئے تھے جن میں سے صرف گوشت مارکیٹ کا29سال بعد گرانے کاکام ہواہے تاہم گوشت مارکیٹ کی جگہ نئے پارکنگ پلازے ودیگر بنانے کیلئے ہمیں این او سی کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کوئٹہ کیلئے 15ارب روپے کی منظوری دی تھی اس سلسلے میں ہم نے دستاویزات ودیگر پی اینڈ ڈی کے حوالے کئے تاہم اس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکاہے انہوں نے کہاکہ شہر میں غیرقانونی موٹرسائیکل اسٹینڈز کی موجودگی حقیقت ہے تاہم ان کے خلاف کارروائی کیلئے ہمارے پاس مجسٹریٹس اور پولیس کی نفری نہیں ہے اس لئے ہم نے ضلعی انتظامیہ کو رجسٹرڈ موٹرسائیکل اسٹینڈ کی فہرست فراہم کردی ہے تاکہ رجسٹرڈ موٹرسائیکل اسٹینڈ کے علاوہ دیگر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے ،انہوں نے کہاکہ پارکنگ پلازے نہ ہونے کی وجہ سے عوام اور خاص کر تاجر غیرقانونی پارکنگ کاارتکاب کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ گھروں سے کچرہ اٹھانے کے منصوبے پرعملدرآمد کاآغاز کردیاگیاہے اس سلسلے میں ہمیں چند ہفتے مزید لگیںگے تاہم اس منصوبے کے تحت باز وارڈز میں کام شروع کیاجاچکاہے انہوں نے کہاکہ بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے ہمیں سٹی انتظامیہ کی مدد لینا پڑتی ہے بلکہ اس سلسلے میں ہم انہیں مراسلے بھی بھیجتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ریڑھیوں کے خاتمے کیلئے اس کے متبادل جگہ کا بندوبست ضروری ہے اس کے خاتمے کیلئے کم ازکم شہر میں 10مقامات پر سستے بازار ہونے چاہےے جس کیلئے ہم کوشاں ہے انہوں نے کہاکہ 3ہزار فٹ اور اس سے زیادہ رقبے کی عمارت میں زیر زمین پارکنگ ضروری ہواکرتاہے ہماری عمارتوں کے مالکان سے اپیل ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ میٹروپولٹین کارپوریشن کے بجٹ کی منظوری کونسل اور ڈی سی سی دے چکی ہے مگر اس کے باوجود بھی ہمیں بجٹ کا رقم نہیں ملا جس کی وجہ سے میٹروپولٹین کارپوریشن مالی بحران کاشکارہے اور مختلف منصوبے رکے ہوئے ہیں ،سچ یہ ہے کہ اس وقت ہمیں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائےگی اور گاڑیوں کی ایندھن کیلئے بھی بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں اور ہمیں سخت مشکلات کاسامنا ہے اس وقت ہمارے پاس چند دنوں کی فیول کیلئے رقم موجود ہیں اگر فوری طورپر بجٹ کی رقم ریلیز نہ کی گئی تو تمام سسٹم ٹپ ہوسکتاہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.