- Advertisement -
پرونشل ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی مینجر ڈاکٹر افضل خان زرکون نے کہاہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد3500سے بڑھ کر 5ہزار تک جاپہنچی ہے اب تک ایچ آئی وی ایڈز کے باعث پاکستان میں 6200افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں سے 231کا تعلق بلوچستان سے ہیں ،صوبے کے مختلف جیلوں میں قید افراد میں سے 71میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے بلکہ 10خواجہ سراﺅں میں ایچ آئی وی ایڈز کی موجودگی کاانکشاف ہواہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پرونشل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی منیجر ڈاکٹر داﺅد خان اچکزئی ،این جی او کوارڈینیٹرڈاکٹر ممتاز مگسی ،امان اللہ کاکڑ ،وطن یار خلجی اور محمد اشفاق یاسین زئی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کاکہناتھاکہ ورلڈایڈز ڈے منانے کا مقصد صوبے بھر میں اس مرض کے حوالے سے عوام میں شعور وآگاہی پیدا کرناہے اس سال بھی پرونشل ایڈز پروگرام یونیسف اور دیگر اداروں کی اشتراک سے ورلڈ ایڈز ڈے بھرپور انداز میں منائےگی ،اس سال ایڈز ڈے کا تیم ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک سے انکار اور get tested know your status ہے اس دن کو منانے کا مقصد ان لوگوں کو یادکرناہے جو اس لاعلاج مرض کے باعث دار فانی سے کوچ کرچکے ہیں انہوں نے کہاکہ ریڈ ربن عالمی سطح پر یکجہتی کانشان ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 3500سے بڑھ کر 5000 تک جا پہنچی ہے اور اس تعداد میں سے بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس صرف 1334 مریض رجسٹرڈ ہیںجن میں سے 911 کا علاج و معالجہ جاری ہے۔رجسٹرڈ مریضوں میں کوئٹہ میں 1033 جبکہ تربت میں 301 مریض شامل ہےں ،انہوں نے کہاکہ ایڈز کے مرض سے متاثرہ علاقوں میں قلعہ سیف اللہ ،ژوب ،شیرانی ،گوادر ،لورالائی ،لسبیلہ، نوشکی ،قلعہ عبد اللہ پشین میں بھی ہیں۔ بلوچستان کے گڈانی کوئٹہ تربت اور دیگر جیلوں میں قید 4404 قیدیوں کا جب ٹیسٹ کیا گیا توان میں سے 71 مریض ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا پائے گئے جو کہ ایک المیہ ہے ۔ پاکستان میں اب تک ایڈز سے مرنے والے مریضوں کی تعداد 6200 ہے جبکہ بلوچستان میں 231 افراد اب تک موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔بلوچستان میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایڈز کے خلاف لوگوں میں شعور و آگہی کو بیدار کریں ہم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ایڈز جیسی موذی امراض سے انسانی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔یہ جاننا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی کن ذریعوں سے پہیلتا ہے پاکستان اور باالخصوص بلوچستان انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے افراد زیادہ تر اس کے شکار ہوتے ہیں۔جنسی بے راہ روی جن میں مرد سے مرد اور عورت اور ہیجڑوں کے ساتہ جنسی تعلق استوار رکہنے حجام سے شیو کراتے وقت بلیڈ تبدیل نہ کرانے اور خون لگاتے وقت اس کی تشخیص نہ کرانا بھی ایڈز کا موجب بن رہا ہے ،کوئٹہ میں خواجہ سراءبھی ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہیں اب تک دس خواجہ سرا اس مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔دوسری جانب ہمارے معاشرے میں ایڈز میں مبتلا افراد سے امتیازی سلوک کا رویہ اپنایا جاتا ہے اور ان سے نفرت کیا جاتا ہے جبکہ یہ مریض پیار اور ہماری مدد کے مستحق ہوتے ہیں ہمیں ان مریضوں سے نہیں بلکہ ایڈز سے نفرت کرنا چاہےے ،،انہوں نے کہاکہ بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے موثر شعور وآگہی مہم کے بہتر نتائج آنا شروع ہوچکے ہیں ایڈز کے مریضوں میں ہم نے ٹیسٹ اور علاج سے خوف کی فضا ختم کردی ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اب اپنا ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ایڈز کنٹرول پروگرام نے بی ایم سی کوئٹہ اور تربت میں فری علاج کے مراکز قائم کئے ہیں۔تمام اضلاع میں اسکریننگ کی سہولتیں موجودہیں ایڈز کے مریضوں کو ادویات اور خوراک وغیرہ مفت باقاعدگی سے فراہم کئے جارہے ہیں۔بلوچستان میں لیبارٹری اسسٹنٹ اور ڈاکٹروں کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے جبکہ محمکہ تعلیم سول سوسائٹی کے اداروں میڈیا نمائندوں علما کرام کے لئے آگہی سیشنز کے اہتمام کئے گئے ہیں۔بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام ایڈز سے بچاﺅ کے لئے بہرپور انداز میں کام کررہی ہے