رپورٹر ڈائری: مرتضیٰ زیب زہری
کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں دن کا آغاز معمول کی گہما گہمی سے ہوتا ہے، فائلیں ادھر سے ادھر جا رہی ہیں اور سائلین اپنی باری کے منتظر ہیں۔ لیکن اس ظاہری معمول کے پیچھے ایک ایسی طاقت کا راج ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کے اثرات ہر جگہ محسوس کیے جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک مصروف سرکاری دفتر میں بلند ہونے والی تلخ آوازوں نے میری توجہ کھینچی۔ یہ کسی دفتری مسئلے پر ہونے والی بحث نہیں تھی، بلکہ ایک بند کمرے سے چھن کر باہر آنے والی دھمکی آمیز آوازیں تھیں۔
یونین کے صدر اور جنرل سیکرٹری ادارے کے سربراہ پر اپنے ذاتی اور ناجائز مطالبات منوانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ لہجہ صاف بتا رہا تھا: “مطالبات مانو ورنہ احتجاج اور تالا بندی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
یہ واقعہ محض ایک جھلک ہے اس گہری جڑیں پکڑتی بیماری کی، جس نے بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے کو جکڑ رکھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یونین کے حقوق کی آئینی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور صریحاً بلیک میلنگ کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
پاکستان کا آئین آرٹیکل 17 کے تحت ہر شہری کو یونین بنانے کا حق دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ملازمین کو انتظامیہ کے استحصال سے بچانا، ان کی اجتماعی آواز بننا اور اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا تھا۔
یہ حق ملازمین کی ڈھال تھا، مگر بلوچستان کے کئی دفاتر میں یہ ڈھال اب انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ پولیس اور فوج جیسے حساس ادارے جہاں عوامی تحفظ داؤ پر ہو، وہاں اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔
محکموں کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ یونین سازی کا اصل مقصد کہیں گم ہو چکا ہے۔ اب یہ پلیٹ فارم اجتماعی بھلے کے بجائے چند بااثر عہدیداران کے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ بن گیا ہے۔
الزام ہے کہ احتجاج کے نام پر انتظامیہ کو دباؤ میں لا کر یہ ’طاقتور لیڈران‘ اپنے رشتہ داروں اور قریبی افراد کے لیے نوکریاں حاصل کرتے ہیں اور من پسند تبادلوں میں سہولت کاری کرتے ہیں۔
فیصلے میرٹ کے بجائے چند مخصوص افراد کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ عام اور محنتی ملازم کے حقیقی مسائل پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق بعض عہدیداران سرکاری ٹھیکوں اور مالی معاملات میں بھی حصہ مانگتے ہیں، جس سے یونین سازی کا پورا تصور ہی مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔
- Advertisement -
اس ساری صورتحال کا سب سے تکلیف دہ اور کریہہ پہلو ان لیڈران کا رویہ ہے جو عملی طور پر اپنی ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں۔ نہ وہ فائل ورک کرتے ہیں اور نہ ہی سروس ڈیلیوری میں کوئی حصہ ڈالتے ہیں
مگر یونین کے عہدے کو ڈھال بنا کر یہ افراد تنخواہیں اور تمام تر سرکاری مراعات باقاعدگی سے اور سب سے پہلے وصول کرتے ہیں۔ ان کے حصے کا کام اور بوجھ ایمانداری سے ڈیوٹی کرنے والے دیگر ملازمین کو اٹھانا پڑتا ہے۔
مفت کی تنخواہوں اور غیر حاضری کے اس کلچر نے اداروں کے اندر محنت کرنے والے ملازمین میں شدید احساس محرومی پیدا کر دیا ہے، جس سے یونین اور عام ورکر کے درمیان اعتماد مجروح ہوا ہے۔
جب قیادت خود کام کرنے کے بجائے صرف مراعات اور سیاست پر توجہ دے تو اس کا براہ راست نقصان عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بلوچستان کے تعلیم اور صحت جیسے اہم ترین محکمے اسی بحران کی زد میں ہیں۔
بطور صحافی، میں اس مسئلے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا۔ گزشتہ دنوں میں نے ایک وی لاگ کے ذریعے یہ دکھایا کہ ان یونینز کے ذاتی مفادات پر مبنی احتجاج کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے غریب سائلین کس طرح دفتروں کے چکر کاٹ کر رل رہے ہیں۔ میرا مقصد صرف عوامی مشکلات کو اجاگر کرنا اور اصلاح کی ضرورت پر زور دینا تھا۔
لیکن افسوس، حقیقت کا یہ آئینہ کچھ عناصر کو پسند نہیں آیا۔ وہی لوگ جو بلیک میلنگ اور احتجاج کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر مجھے ہدف بنانا شروع کر دیا۔
حیرت اور افسوس کا مقام یہ تھا کہ خود کو پڑھا لکھا کہنے والے سرکاری ملازمین بھی گالم گلوچ، الزامات اور “نام نہاد صحافی” کے طعنے دینے کی حد تک جا پہنچے۔
یہ جارحانہ رویہ واضح کرتا ہے کہ حقائق کا سامنا کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے، یہ عناصر تنقید کو دبانے کے لیے ذاتی حملوں کا راستہ اپناتے ہیں۔
لیکن ان ہتھکنڈوں سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ یونین سازی ایک مقدس حق ہے جسے چند مفاد پرستوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔
اگر انہیں آئینے میں اپنا عکس بدنما لگتا ہے تو یہ آئینہ دکھانے والے کا قصور نہیں۔ میں ایسے ناسوروں کے خلاف اور بلوچستان کے عام شہریوں کے حقوق کے لیے بولتا اور لکھتا رہوں گا، چاہے انہیں یہ سچ پسند آئے یا نہ آئے۔