- تحریر محمد آصف
بلو چستان میں قبائلی جھگڑوں کے تصفیے میں خون بہا کے طور پر خواتین کی جبری شادیوں اور دیگر تصفیوں میں خواتین کے استعمال میں خاطر خواہ کمی آئی ہے حکومتی اقدامات، عورت فاونڈیشن، کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن، سمیت دیگر سماجی شعبوں میں کام کرنے والی تنظمیوں کی کاوشوں کی بدولت اس حساس نوعیت کے معاملات میں کمی دیکھنے میں آئی، خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ثنادرانی نے بتایا کہ بلو چستان میں خواتین اور بچیوں کومختلف طریقوں سے استعمال کیا جا تا ہے اب وقت آچکا ہے کہ ان پرانی روایات کا خاتمہ کیا جا ئے
انہوں نے کہا کہ آٹھ مہینے قبل پشتون قبائل کے نواب ایاز جو گیز ئی نے ایک جر گہ منعقد کیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ کسی لڑائی اور جھگڑے میں کسی پشتون خاتون کو نہیں گھسیٹا جا ئے گا اور نہ ہی کسی بچی اور خاتون کو خون بہا میں دیا جا ئے گا،میں سمجھتی ہوں یہ حوصلہ افزا بات ہے صوبے کے دیگر علا قوں میں بھی سیاسی جماعتوں اور قبائلی رہنماؤں کو بھی اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہیئے
انہوں نے ضلع نصیر آباد اور جعفر آباد کی مثال دیتے ہو ئے بتایا وہاں بڑے بڑے جاگیردار عام کسانوں کو سود پر پیسے دیتے ہیں اور جب یہ سود ادا نہیں کر پاتے تو اس کے بدلے ان کی خواتین اور بچوں اور بچیوں سے جبراً مشقت کروائی جا تی ہے،جو اس اکیسویں صدری میں نہیں ہونا چاہیے جب سود کے پیسے ڈبل ہو جاتے ہیں یا وہ یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہو تے ہیں تو ان کی پورے خاندان کو اس جاگیردار کا غلام بنایا جاتا ہے جب تک یہ پیسے ختم نہیں ہوتے ہیں ان سے کھیتوں،اور گھروں میں کام کروایا جاتا ہے
بلو چستان ہائیکورٹ کے وکیل محمد امین مگسی کا خواتین کو خون بہا یا فرسودہ روایات کے مطابق بچیوں کو ونی دینے کےحوالے سے کہناتھا کہ پاکستان میں اس طرح سے خواتین اور بچیوں کا استعمال قانوناً جرم ہے آئین تمام لو گوں کے حقوق کے لئے برابر ہے
- Advertisement -
وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے بلو چستان کے بعض علا قوں میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اگر کسی قبائل کے دوسرے قبائل کے ساتھ کو ئی لڑائی یا جھگڑا ہوتا ہے تو اس میں خواتین اور بچیوں کا کیا قصور ہے وہ اپنی پوری زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے اس طرح کے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں اسلامی حوالے سے بھی یہ غیرشرحی فعل ہے اور آئین میں بھی جرم ہے
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ایک آرڈینیس پاس کیا ہے کہ پندرہ سال کی کم عمر لڑکی کی شادی جرم ہے جو کہ ایک مثبت اور خوش آئند اقدام ہے
کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے سماجی کارکن اشفاق مینگل کے مطابق ماضی میں اس طرح کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن حال میں صو بے میں اس طرح کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس معاملے پر قبائلی عمائدین اور سرداروں سے میٹنگز کی ہیں قلعہ سیف اللہ میں نواب ایاز جو گیز ئی کا فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب تمام لو گ اس نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں
انہوں نے دالبندین میں نوتیز ی قبائل کے ایک جرگے کی مثال دیتے ہو ئے بتایا کہ وہاں سردار آصف شیر جمالدینی کی موجود گی میں فیصلہ ہوا کہ خون بہا میں خواتین اور بچیوں کو ونی نہیں کیا جا ئے گا جو کہ مثبت عمل ہے انہوں نے بتایا اب اگلے مرحلے میں ہم دیگر سرداروں سے ملیں گے تا کہ اس پرانے فرسودہ نظام کا بلو چستان سے مکمل خاتمہ ہو
خواتین اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ریجنل ڈائریکٹر عورت فانڈیشن علاالدین نے بتایا کہ قلعہ سیف اللہ میں نواب ایاز جو گیز ئی کا پروگرام ہم نے ترتیب دیا جس کے بعد تمام مکتبہ فکر کے لو گوں کی جانب سے مثبت رد عمل آیا ہے انہوں نے بتایا شعور اور آگاہی میں کمی کی وجہ سے پہلے صوبے کے دوردراز علا قوں میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہا ہے
اب ہماری کوشش ہے ہم ان معاملات میں سیاسی پارٹیوں کے رہنما،اور قبائلی عمائدین اور سرداروں کو بھی آن بورڈ لینگے امید ہے مثبت نتائج بر آمد ہونگے