تحریر محمد آصف

مستونگ خودکش حملے میں ایک ہی خاندان کے 12افراد دہشت گردی کاشکار
جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کے دن بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہونے والے خودکش حملے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا اس اہندوناک واقعے میں 60 سے زائدافراد لقمہ اجل بنے جبکہ 100سے زائد زخمی بھی رواں سال بلو چستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے ایک مر تبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ضلع مستونگ صو بہ بلو چستان کے کو ئٹہ سے متصل جنوب میں 60کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے مستونگ کے علا قے کھڈ کوچہ کے رہائشی پذیر ہدایت اللہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے 12افراد خودکش حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں
- Advertisement -

جب دھماکہ ہوا وہ بھی اس جگہ پر تھوڑے سے فاصلہ موجود تھا انہوں نے کہا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی ولادت کو جوش جذبے سے منانے کے لیے آئے تھے۔ آقا رسول اللہ ﷺ کے سچے عاشق ہیں اپنے پیاروں کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائیں لیکن ہمارا عزم مترزلزل نہیں ہوا ان کا کہنا تھا کہ ان 12افراد میں ان کے ماموں کے بیٹے ، چچا کے بیٹے اس واقعے میں شہید ہو گئے ان کے پورے کا پورا گھر اجڑ گیا ہمارے سارے رشتہ دار غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے محنت اور مزدوری کر کے اپنے گھروں کا گزارہ کر تے تھے مستونگ کا علاقہ کھڈ کوچہ اس سانحہ میں سب سے زیاد ہ متاثر ہوا ہے ہر گھر سے ایک دو دو لاشیں اٹھائی ہیں ایسا کو ئی گھر نہیں جہاں سے کسی کی لاش نہیں اٹھائی گئی ہوہدایت اللہ کا مزید کہنا تھا کہ شہدا میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو یہاں پر جھونپڑیوں میں رہائش پذیر تھے اسی طرح مستونگ سے تعلق رکھنے والی خاتون فیض بی بی نے بتایا کہ ان کا اکلوتا بھائی بھی اس سانحہ میں ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ ان کا بھائی اب ان کے ساتھ نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ صالح لہڑی سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو اللہ کو منظور تھا وہ ہوگیا صالح لہڑی پیشہ کے اعتبار کے لحا ظ سے ڈرائیور تھا ان کے دوبچے بھی ہیں فیض بی بی اب ان کے بچوں کے مستقبل کے پریشان دیکھائی دے رہی ہے اس موقع پر بلو چستان حکومت اور صو بائی وزرا کا کہنا ہے کہ مستونگ حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے

نگران وفاقی و زیر داخلہ کو ئٹہ میں پر یس کانفرنس کر تے ہو ئے بتایا کہ دشمن قوتیں صو بے کا امن تہہ بالا کرنے پر درپے ہے ہمیں پتہ ہے دہشت گردی کون کرا رہا ہے اور ان کے پشت پر کو ن ہے نگران وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عام شہر یوں پر حملے ناقابل برداشت قرار دیتے ہو ئے کہاکہ اپنے لو گوں کا ہر صورت میں بدلہ لیا جا ئے گا بلوچستان کو ہرصورت امن گا گہوراہ بنائیں گے ضرورت پڑھنے پر بلو چستان میں بڑا آپر یشن کیا جا ئے گا انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کر کے ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا ئے گا پاک فوج جنر ل سید عاصم منیر نے کو ئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سی ایم ایچ میں زیر اعلاج مستونگ زخمیوں کی عیادت کی اور انہیں صو بے میں امن اومان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ملک میں دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جا ئے گا۔ انہوں زخمی ہو نے والے لواحقین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی نگراں و زیر اعظم انوار الحق کاکڑ مستونگ اور ہنگو ژوب میں حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ملک سے ہر صورت ،میں دہشت کا خاتمہ کیا جا ئے گا مستونگ واقعے کی امریکہ ، برطانیہ،ایران ،متحدہ عرب امارات ،کویت سمیت مختلف ملکوں نے مذمت کی پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈم بلوم ملک میں ہونے والوں حملوں ہلاکتوں پر پر افسوس کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ اس نازک صورتحال میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں بلو چستان حکومت نے سانحہ مستونگ خو دکش حملے میں شہید ہونے والے افراد کے لوحقین کے کئے معاوضے کا اعلان کیا نگراں صو بائی و زیر اطلاعات جان اچکزئی کے مطابق شہدا کے فی کس لو احقین کو پندرہ لاکھ شید زخمی کوپانچ لاکھ اور معمولی زخمی کو دو لاکھ روپے دیا جا ئے گا 14جولائی 2018کو ضلع مستونگ کے علا قے کانک میں خودکش حملے میں بلو چستان عوامی کے مرکزی رہنما نوابزدہ سراج رئیسانی سمیت 128افراد جاں 100سے زائد زخمی ہو ئے گزشتہ مہینے مستونگ کے علا قے میں جے یو آئی کے رہنما سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ پرحملے میں 13افرادز خمی ہو ئے دوسری جانب بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پندرہ لاکھ روپے معاوضے کوناکافی قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت بلو چستان کو چاہے معا وضے کے رقم کو بچاس لاکھ تک بڑھا یا جائے افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ہمارے لو گوں کا خیال تھا پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں کمی آئی گی ماضی میں کابل حکومت پاکستان سے اس معاملے تعاون کرنے سے قاصر تھی لیکن جب سے طالبان حکومت وجود میں آئی ہے پاکستان میں حملوں میں تیزی دیکھا گیا