بلوچستان یونیورسٹی واقعہ : ملوث افراد کو سرعام پانسی دی جائے ، جعفر خان کاکڑ

0

- Advertisement -

جمعیت علاءاسلام کے رہنماءجعفر خان کاکڑ نے بلوچستان یونیورسٹی میں طلباءو طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کرنے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بلوچ پشتون روایات کو پامال کر دیا بلوچستان اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی اس کی مکمل تحقیقات کرے اور اس وقت تک وائس چانسلر اور انتظامیہ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے طلباءکو حراساں کیا جانا اور ان کے تعلیمی نظام میں خلل ڈالنا صوبے میں تعلیمی نظام کو خلل ڈالنے کے مترادف ہے ہم کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے ہیں کہ وہ اس طرح ہمارے بچوںاور بچیوں کو حراساں کریں اور نظامِ تعلیم کو متاثرکردیںانہوںنے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں جو شرمناک اسکینڈل سامنے آیا ہے اس سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیںیہ واقعہ انتہائی قابل مذمت اور معاشرے پر بد نما داغ ہے ۔یہ واقعہ بلوچ، پشتون روایات سمیت علاقائی روایات، اسلامی روایات کو بھی پامال کرکے رکھ دیاہے۔اس طرح کے واقعات معاشرے اور صوبے میں بسنے والے اقوام بلوچ، پشتون ، ہزارہ برادری سمیت کسی بھی قوم کے لئے ناقابل برداشت عمل ہے اور نہ ہی صوبے میں بسنے والے اقوام اس طرح کے نا شائستہ حرکتوں کی اجازت دے گی۔۔یونیورسٹی انتظامیہ اور انکی ملی بھگت سے اس طرح کی بے شرمانہ حرکت نے بلوچستان کی عزت وغیرت،ننگ و ناموس کو داﺅ پر لگادی گئی ہے ۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت دیگر تمام ملوث ملزمان کو فوری طور پر برطرف کر کے انہیں اس طرح کی سزا دی جائے کہ انکی آنے والی نسلیں ایک سبق حاصل کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.