
- Advertisement -
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کے چیئرمین سینیٹر مرزا خان آفریدی نے کہاہے کہ قانونی تجارت سے وابستہ افراد کو درپیش تمام تر مشکلات ومسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے یہ ہماری ذمہ داری اور ٹریڈرز کابنیادی حق ہے ،چیمبرآف کامرس کے اسلام آباد آئے ہوئے وفد کے خدشات ،تحفظات اور شکایات حکام بالا تک پہنچانے کیلئے ان کی ہرممکن مدد کی تاہم اسمگلنگ کے خلاف موجودہ حکومت زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص ٹیکس فیئر ہو۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سینیٹر احمد خان خلجی ،صوبائی مشیر برائے لائیواسٹاک میٹھا خان کاکڑ،ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان میں چیمبرآف کامرس کے صدر حاجی غلام فاروق ،سینئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ بطور سینیٹر وہ ایک صوبے کے نہیں بلکہ ملک کی تمام اکائیوں چیمبرآف کامرس اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مشکلات ومسائل کے حل کے ذمہ دار ہیں ۔اس سلسلے میں ہر فورم پر کوششیں کی جائیںگی ،قانونی تجارت کرنے والوں کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری اور ٹریڈرز کا بنیادی حق ہے ،انہوں نے کہاکہ چیمبرآف کامرس ،امپورٹ اور ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد پرمشتمل وفد کے اراکین اسلام آباد میں انہیں ملے تو انہوں نے چیئرمین سینیٹ ،چیئرمین ایف بی آر ودیگر سے ان کی ملاقاتیں کروائی ،انہوں نے کہاکہ اس وقت بارڈر پر ہزار اور این ایل سی پر 200مال بردار گاڑیاں رُکی ہوئی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں تجارتی سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر پوری آب وتاب سے شروع ہو کیونکہ تجارت ہوگی تو معیشت کا پہیہ چلے گااور لوگوں کو روزگار میسر ہوگاانہوں نے کہاکہ یہاں کے صنعت وتجارت ،امپورٹ ،ایکسپورٹ ودیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے جائز مطالبات ،تحفظات اور خدشات وزیراعظم عمران خان ودیگر اعلیٰ حکام تک پہنچائیںگے تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور تجارت رواںدواں رہے ،انہوں نے کہاکہ اسمگلنگ کا خاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں ہمیں خوشی ہے کہ چیمبرآف کامرس ،امپورٹرز اور ایکسپورٹرز قانونی تجارت کی جانب لوگوں کو راغب کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 6ارب روپے سے سالانہ ٹیکس اب تئیس ،چوبیس ارب روپے تک ہوچکاہے ،انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم ،ایف بی آر چیئرمین ودیگر تک بلوچستان کی تاجر برادری کی تحفظات اور خدشات پہنچائیںگے تاہم ہماری کوشش ہے کہ اسمگلنگ زیرو ہو اور بزنس کمیونٹی سمیت ہر فرد ٹیکس فیئر ہو۔انہوں نے کہاکہ وہ چیف کلکٹر کسٹم ودیگر سے بھی موجودہ صورتحال سے متعلق بات چیت کرچکے ہیں ۔جبکہ سینیٹر احمد خان خلجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہونا صوبے اور ملکی خزانے کیلئے نیک شگون نہیں ہے ۔ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں معطل تجارتی سرگرمیوں کو واپس بحال کیاجائے ۔