
- Advertisement -
بلو چستان ہا ئی کو رٹ کے جسٹس عبد اللہ بلو چ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 کو ئٹہ IIپر پا کستان تحریک انصاف رکن و ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم خان سوری کی بطورایم این اے کامیابی کانوٹی فیکیشن کالعدم قرار دیدیا۔الیکشن ٹریبو نل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے حلقہ این اے265سے متعلق درخواست گزاران نوابزادہ لشکری رئیسانی و دیگر کی جا نب سے دائر انتخابی عذرداری پر محفوظ فیصلہ گزشتہ روز سناتے ہوئے قاسم خان سوری کی بطورایم این اے کامیابی کانوٹی فیکیشن کالعدم قراردیتے ہو ئے حلقہ این اے 265 کو ئٹہ IIپردوبارہ الیکشن کرانےکا بھی حکم دیا۔اس سے قبل الیکشن ٹربیونل نے 29جون کو نادرا کو حاجی لشکری رئیسانی کی درخواست پر ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا تھا، جس پر نا درا نے حلقہ کے ووٹوں سے متعلق رپورٹس ٹربیونل میں پیش کی تھی۔رپورٹ کے مطابق 52756کانٹر فائلز پر انگوٹھوں کے نشان غیر واضح جبکہ 49042پر واضح ہیں،15پولنگ اسٹیشنوں کے خاکی تھیلے ہی غائب ہیں جبکہ 1533کانٹر فائلز پر درج شناختی کارڈ نمبرز غلط ہیں۔ 123کانٹر فائلز پر شناختی کارڈ نمبرز 2 /2 بار درج ہیں، 333کانٹر فائلز پر ایسے شناختی کارڈ نمبر درج ہیں جو اس حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں جس کے بعد14ستمبر کو فریقین کے وکلا ءکے دلا ئل مکمل ہو نے پر الیکشن ٹریبونل نے انتخا بی عذر داری پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے حلقہ سے قاسم سوری کی بطورایم این اے کامیابی کو چیلنج کیاتھا ،تاہم فیصلہ کے وقت درخواست گزارلشکری رئیسانی اورقاسم سوریٹریبو نل کے رو برو موجود نہیں تھے فیصلہ کے بعد نوابزادہ لشکری رئیسانی کے وکیل ریاض احمد ایڈووکیٹ نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ الیکشن ٹریبونل نے قاسم سوری کی کامیابی کانوٹی فیکیشن منسوخی کاحکم دیاا اور ٹریبونل نے حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرانےکابھی حکم دیا ہے اس لئے اس فیصلے کے بعد قاسم خا ن سوری قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے جبکہ روزی خان کا کڑ کے وکیل سید نذیرآغا ایڈووکیٹ کامیڈیا سے با ت دچیت میں کہناتھا کہ نادرا کی جانب سے کیس سے متعلق تین رپورٹیں پیش کی گئیںرپورٹس کے مطابق الیکشن میں جعلی شناختی کارڈزاستعمال کئے گئے ہیں کچھ ووٹرز کے شناختی کارڈزکے نمبرزبھی نادرا کے ریکارڈ میں نہیں ملے اور کچھ ووٹرز کے انگلیوں کے نشانات بھی واضح نہیں ۔یا د رہے صو با ئی دارلحکومت کو ئٹہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے265کو ئٹہ II سے پا کستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی قاسم سوری کا میا ب قرار پا ئے تھے جبکہ پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، بی این پی مینگل کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی سمیت دیگر جما عتوں سے تعلق رکھنے والے اور آ زاد امیدواران کو شکست ہوئی تھی۔الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے بعد کو ئٹہ میں بلو چستان نیشنل پا رٹی کے سر برا ہ سرداراختر مینگل نے اپنی جما عت کے حلقہ سے نا مز د امیدوار نوابزا دہ میر حا جی لشکری رئیسا نی کے ہمرا ہ پریس کا نفرنس میں کہا کہ فیصلے سے انصاف کے منتظر لوگوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، عمران خان نے بھی 2013 کی دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا تھا، پی ٹی آئی فیصلے کو تسلیم کرے ،آئندہ الیکشن شفاف بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں ،این اے 265 میں دھاندلی سے ووٹر کا استحقاق مجروح ہونے سمیت سرکاری فنڈ ضائع ہوا اس لئے نوٹس لیکر ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ آج کی اپوزیشن جماعتیں کل اقتدار میں تھیں لیکن ہمارے مسائل نہیں سنے، پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے ہماری بات تو کم از کم سنی ہے ، تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی حکومت کو ہماری بات سننی ہوگی ۔درخواست گزار نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ ساتھ دینے پر پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں کا شکرگزار ہوں،ہمیشہ بلوچستان سے غیر سیاسی لوگوں کو لاکر پارلیمنٹ میں بٹھایا جاتا ہے، این اے 265میں جعلی امیدوار کو مسلط کیا گیا تھا، حلقے کے عوام کو حقیقی نمائندگی سے محروم کیا گیا ، ہم حلقے کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے، جعلی امیدوار کو دعوت دیتا ہوں کہ جمہوری انداز میں میدان میں اترے ۔دوسری جا نب نجی ٹی وی چینل کے مطابق تحریک انصا ف بلو چستان کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ملک میں عدالتیں مکمل طور پر آزاد ہیں ، قاسم خا ن سوری کے خلاف فیصلے کا احترام کرتے ہیں ، پی ٹی آئی میں مشاورت کا عمل جاری ہے ، لائحہ عمل کے بعد فیصلہ کریں گے، الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں ۔