بلوچستان اور کشمیر کا مستقبل پاکستان کے ساتھ ہےسنیٹر انوارلحق کاکڑ

0

- Advertisement -

بلوچستان پارلیمنٹ کے ایک وفد نے امریکا کا دورہ کیا
بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے کشمیر کی عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور بلوچستان اور کشمیر کا مستقبل پاکستان کے ساتھ ہے
تفصیلات کے مطابق بلوچستان پارلیمنٹ کے ایک وفد نے امریکا کا دورہ کیا وفد میں سنیٹر انوارلحق کاکڑ ضیا لانگو ضہور بلیدی دنیش کمار موجود تھا جہاں ایکا مقصد تھا کہ بلوچستان کی پوزیشن کو واضح کیا جائے کہ کسی بھی صورت میں پاکسان کا ساتھ نہیں چھوڑئیں گے ان دنوں کشمیر ایک اہمیت اختیار کر گیا ہے یہاں آنے کا مقصد سب پر بلوچستان کی جگہ کو واضح کرنا کہ ہم پاکستان کی شہرگہیں اور کسی بھی صورت میں پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے بلوچستان کی شکل کو سنوار کے سامنے لائیں ہیں اور بتائیں کہ مرکزی قردارجو بلوچستان کو حاصل ہے اوروہ کہ ہم قومی وجود اک حصہ ہے اس حصے پر تھوڑی گرد پڑھ گئی تھی جس کو دور کیا جا رہا ہے جو لوگ بلوچستان کوا ینٹریگل پارٹ کہتے ہیں وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ہم پاکستان کے بدن کا حصہ ہیں اور یہ انکا نفصیاتی مصالح ہے کہ وہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم نہیں کرتے ہم پاکستان اور پاکستان ہم سے ہے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور دل ہے بلوچستان پاکستان کی مرتزیت ہے جو معاشی ، کلچرل اور ینرجی کوریڈور کی طرف ایک نیوکلئیرا سٹیٹ کی شکل اختیار کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کا پیوٹ بلوچستان ہو گا پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں اور ہم یہ بتانے یہاں آئیں ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں پاکستان امبیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بہت اچھے انداز میں ہمارے مشن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ہم واپس جاکہ اس مشن کو جاری رکھیں گے ہم نے یہاں مختلف لوگوں سے بات کی اور انکو بتایا جو کچھ وہ لوگ جاننا چاہتے تھے اور انکی بھی دلچسپی تھی انم یں مختلف طبقات کے لوگ شامل ہیں جو پاکستان اور بلوچستان کے بارے میں جاننے کی اور ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم نے اپنی کہانی انہیں بتائی اسکے بعد نیوراک جا کہ لوگوں کو بتائیں گے اپنے مشن کے بارے میں اور ان سب کا کریڈٹ بلوچتستان عوامی پارٹی کے چئیرمین اور چیف منسٹر جان کمال کو جاتا ہے کہ بلوچستان کہ کہانی کو بیان کیا جائے خطہ کی مجموعی صورتحال کو بیان# کریں اس بارصرف پالیسی میکرز کو نہیں بلکہ عام آدمی کو فوکس کیا گیا ہے کشمیر کی جنگ صرف پالیسی میکرز کے ساتھ نہیں جیتی جا سکتی اس کا رواں میں عام آدمی کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جس کو پورا سپورٹ پرائیم منسٹر امران خان اور چیف منسٹر بلوچستان کر رہے ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہم عام آدمی کو فوکس کریں ، جیفرسن ڈیموکرسی کے لوگوں سے پوچھنا چھاتا ہون کہ اسی لاکھ لوگو ں کو جیل میں ڈال دئیں اور خواتین کا ریپ کرئیں اور ریپ کو ایک انسٹرومنٹ آف وار استعمال کیا جا رہا ہے خواتین کی اسمت کو بگاڑ کہ لوگوں پر کنٹرول حاصل کیا جا رہا ہے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہندوستان کے ساتھ لیکن اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو خوف میں مبتلا کر دئے گا ڈارک فورسز کی مدد سے تو پاکستان اندھیروں سے ڈرنے والا نہیں ہم صدیاں لڑئیں گے لیکن یہ کسی ٹریٹری جگہ کی جنگ نہیں لوگوں کے حقوق کی جنگ انکے زندہ رہنے کا حق جو کشمیری عوام سے چھین لیا گیا کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کشمیر صرف جہلم سے لاہور تک کا مسلہ ہے باقے پاکسان کا ان سے کوئی لینا نہیں اور آج ہم بلوچستان سے آئیں ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں کہ کشمیر کے ساتھ اپنا مستقبل دیکھتے ہیں اور ہم یہ صدا بلند کر رہے ہیں ہیں کہ وہ ہمارا حصہ ہیں کشمیریوں کا حق ہے انکی زمین پر ہے ہمارا جہگڑا زمین کا ہر گز نہیں بلکہ ہمارا جہگڑا لوگو ں کا ہے انسانوں کا ہے پاکستان کے لئے تاریخ اور شناخت سے جڑے ہوئے ہیں اور انکا آسان میسج ہے کہ وہ ہندوستانی نہیں ہین اور ضبردستی ہندوستان انکو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اور ڑائیٹ ٹو فری ہندوستان کشمیری عوام سے نہیں چھین سکتا اور انکو غلام نہیں بنا سکتے حیوانیت سے انسانیت کا سفر صرف تے کرنا ہے تو اس میں آزادی سب سے پہلے آتا ہے کشمیر کا فیصلہ کشمیر نے کرنا ہے ہم نے نہیں انہون نے زندگی پاکستان کے ساتھ گزاری ہے یا ہندوستان کے ساتھ ہم لوگوں سے مل رہے ہیں جس میں امریکن یونیورسٹییز میں ورلڈ آف اسلام اسکول میں گئے ، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ، جان ہاکنز انسٹیوٹ ڈئینیل مرکی ، اور وہاں بلوچستان زیربحس آیا ، دو سینٹرز سے ملاقات ہوگی جیک برگمین اور اسٹینٹن ، اور پھر نیوراک جائیں گے جہاں یونیورسٹی اور تہنک ٹینکس کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور اپنی جگہ واضح کرئیں گیافغانستان اور پاکستان کے بارڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہ کام تقریبا مکمل ہو چکا ہے اور دیوار لگا کر صورتحال کو کنٹرول کر کے جو لوگ غیر قانونی طور پر پاکستان میں آتے تھے اسکو روک رہے ہیں جتنے لوگ آئیں اور جاےئیں گے انکے پاس تمام لیگل ڈاکیومنٹس ہوں گے اور سب چیزیں پاکستان کے کنٹرول میں آ رہی ہیں بلوچستان کیے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہم نے پرو پیپل بجٹ دیا جس مین مائینورٹی ، روڈ انفرا اسٹریکچر ، اور تمام پارٹیز کو آن بورڈ لیا ہے بلوچستان کے زمین کی حقوق کسی فارنر کو نہیں ملئیں گے بلوچستان ریونیو اسٹیبلش کیا ہے ہم پندرہ کالا باغ بنا سکتے ہیں کویت کے ساتھ آٹھ سو میگا واٹ کا ایم او یو سائیں کیا ہے سولر انیرجی کے لئے حب کا کول بیس تین سو کا گوادر کا پاور پلانٹ کام کر رہا ہوں ، سوشل سیکٹر جیسے ہیلتھ، تعلیم، پبلک ہیلتھ، ان کو ترججیحات دی ،مختلف یونیورسٹیان بنا رہے ہیں اور جو کاجز نان فنکشنل ہے انکو فنکشنل کر رہے ہیں ، ہسپتالوں کی صورتحال بہتر کر رہے تمام بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ٹوورزم کو فوکس کر رہے ہیں فیمیل ایڈیوکیشن کو بھی فوکس کر رہے ہیں ہیں سکیورٹی کے ھوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ انڈیا اس میں ملوس ہے اور صورحال بہت بہتر ہوئی ہے کبھی کبی کسی صورتحال غیر ہو جاتی ہے جس میں اندیا کے لوگ ملوس ہیں مائیناورٹیز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پاکستان میں آزادی ہے ہمارے تہوار گورمنٹ کی سطح پہ منایا جاتا ہے اور اس سے بڑی آزادی کیا ہو گی کہ جھنڈا میں سفید رنگ ہمارا ہے مائینارٹیز کا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.