


- Advertisement -
![]()
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اصولی سیاست ،تحریک اور نظریہ کانام ہے ،2002ءسے اب تک ہمارے پارٹی کے کارکن شہید ہوتے رہے ہیں ،بلوچستان کے قبائل کو آپس میں لڑایا گیا اورمفاد پرست عناصر نے عوام کو اپنے مفادات کیلئے دست وگریباں کیابلکہ لوگوں میں مایوسی پھیلانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ،بلوچستان کے قومی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی ،حقوق کیلئے جان کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کروںگا،صوبے بھر کی مظلوم عوام شہید نواب امان اللہ زہری کے قاتلوں کی گرفتاری کامطالبہ کررہے ہیں 4سو لاپتہ افراد گھروں کو پہنچ چکے لیکن آج بھی ماﺅں اور بہنوں کی آوازیں میری کانوں میں گونج رہے ہیں ،اقتدار پر ہم نے عوام اور صوبے کے اجتماعی حقوق کو ترجیح دی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو ہاکی گراﺅنڈ میں بی این پی کے زیراہتمام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے سینیٹرڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ،رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ،سردارنصیراحمد موسیانی،امان اللہ زہری کے فرزند نوابزادہ شہریار زہری ،بی ایس او کے چیئرمین نذیر بلوچ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سرداراختر جان مینگل نے کہا کہ ہم سے شکوہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے بلوچستان کے حقوق کاسودا کیا ہے لیکن ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ جنہوں نے بلوچستان کاسودا کیا ان کے ساتھ یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں بتایاجائے کہ کیا ہم نے سودا کیا ہے ؟کیا لاشیں اٹھانا سودا ہے ؟اگر چار ووٹوں کے بدلے ایک ماں کی آنکھوں سے آنسو رک جائیں تو ایسا سودا ہم کرینگے ہم نے بلوچستان کی ترقی ،عوام کے ننگ و ناموس کے تحفظ کیلئے آواز بلند کی اگر یہ سودا ہے تو یہ سودا میرے میں اور میں والد نے بھی کیا ہے اور میری اولادیں بھی کریں گی لیکن ہم بتادیناچاہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ضمیر کونہیں بیچا ۔انہوں نے کہا کہ چند ٹکوں اوروزارتوں کے عیوض بکنے والوں نے بلوچستان کی ننگ و ناموس کا سودا کیا ،انہوں نے کہاکہ چاہتا تو میں بھی وزارت اعلیٰ حاصل کرسکتا تھا وفاقی وزارتوں میں حصہ لے سکتا تھا صوبے میں ہمارے 10ارکان اسمبلی میں سے کچھ وزیر بن جاتے حالانکہ وہ موجودہ حکومت میں شامل وزراءسے اچھی اردو بھی تو بول سکتے ہیں اور پڑھے لکھے بھی ہیں سودے بازی کا طعنہ دینے والے اپنا اور ہمارا سودا دیکھ لیں کہ کس کا سودا عزت اور کس کانہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ قبائل ان کے سر پر دستار باندھتے ہیں جو انکی عزت ،ننگ و ناموس کی حفاظت کے لائق ہوں نہ صرف یہ بلکہ دوسرے اور ہمسایہ قبائل کی بھی ننگ و ناموس کی حفاظت کے قابل ہوںاگر یہ چیزیں نہ ہوں اگر کسی میں یہ اہلیت نہ ہو تو پھر یہ سمجھا جائے کہ یہ دستار کسی مٹکے کے اوپر رکھ دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ ہم نے 6نکات پر معاہدہ کیا ہے میں یہ نہیں کہوں گاکہ اس میں مکمل کامیاب ہوئے ابھی ایک سال کا عرصہ گزرا ہے اور400لاپتہ افراد گھروں کو پہنچ چکے ہیں اب بھی میں مطمئن نہیں میرے کانوں میں آج بھی ما¶ں اور بہنوں کی آوازیں گونج رہی ہیں یہ ہماری ذمہ داری بنتی تھی کہ ہم اپنے عوام کے لئے کام کریں اورانکے تحفظ کو یقینی بنائیں لیکن 400گھروں میں خوشی واپس آئی ہے میں اسکے بدلے وزیراعلیٰ ،وزیر بن سکتا تھا لیکن میں نے عوام اور صوبے کے مفاد کو ذاتی مفادات پرترجیح دی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ اور موجودہ حکمرانوں نے صوبے کو دیمک کی طرح چاٹا ساحل و وسائل ،معدنیات سے مالامال صوبے کے لوگ آج خطے کے غریب ترین لوگ ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ لوگ امیر ترین ہوتے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے لوگ علاج کیلئے سرکاری کی بجائے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں بچے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیںسول سیکرٹریٹ میں نوکریاں آلو اور ٹنڈوں کی طرح فروخت ہورہی ہیںوزیراعلیٰ ہا¶س اورسیکرٹریٹ میں ملازمتوں کی بولیاں لگ رہی ہیںایک ڈرائیور کی آسامی کیلئے بھی 4لاکھ روپے مانگے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زہری کا واقعہ سیاسی قتل ہے اگر اسے کوئی قبائلی رنجش کا نام دیتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے نواب امان اللہ زہری کے ساتھ 1988ءسے رفاقت تھی جب بی این پی تقسیم ہوئی اور ہمیں دولخت کیا گیا ان پر بہت دبا¶ ڈالا اور لالچ کے تحت انہیں ہم سے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہمیں توڑنے والے ناکام ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ فرسودہ نظام اور ظلم کا بازار گرم کرنے والوں کی آنکھوں میں نوا ب امان اللہ زہری کھٹکتے تھے بی این پی کو زہری میں کامیاب جلسوں کے بعد دھمکیاں بھی ملتی تھیں 2002ءمیں جب پہلی بار پارٹی کا صدر منتخب ہوا تو میں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے کفن پر بھی بی این پی کا جھنڈا ہوگا جسے دوستوں نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ اگر ہم زندہ ہیں تو تب بھی یہ پرچم لہرائیں گے اور جس دن مریں گے ہمارے کفن پر بھی یہ پرچم ہوگا۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ نواب امان اللہ زہری اورانکے ساتھیوں کا قتل سیاسی ہے انہیں گزشتہ حکومت کے خلاف جو عدم اعتمادلانے کے بدلے اور 2018ءکے انتخابات میں مخالفین کو زہری سے ووٹ نہ ملنے کے بدلے شہید کیا گیا اب اس قتل کو قبائلی رنگ دیا جارہا ہے آج کا جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ نواب امان زہری اورانکے ساتھیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے علاقائی جنگیں کروائیں قبائلی جھگڑے اور لسانی طور پر لڑایا ہمیں فرقوں میں تقسیم کیا گیا انکا مقصد یہی رہا ہے کہ ہم جھگڑوں میں الجھے رہیں اور حکمران ہماری سرزمین کو لوٹ کر اسے نیلام کرکے عیاش و عشرت کی زندگی گزاریں ہرجھگڑے کے پیروں کے نشانات حکمرانوں کی دہلیز پر پہنچتے ہیں وہ جماعتیں جنہوں نے صوبے کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا راستہ اپنا یا انہیں اس راستے سے ہٹانے کیلئے قبائلی تنازعات کا سہرا لیاجاتارہا ہے ہمیں معلوم ہے کہ تمام واقعات میں قبائلیت کا سہارا لیا گیا لیکن ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ گولیاں کہاں بنتی رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مایوسی ،نفرتیں پھیلانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے گئے آج کا جم غفیر ان تمام سازشوں کے منہ پرطمانچہ ہے جس کا درد وہ سات پشتوں تک یاد رکھیں گے ہمیں جمہوری سیاست سے روکنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے رہے ہیں پہلے نیپ کی حکومت ختم کی گئی اور آپریشن کئے گئے آفرین ہے ایسی قوم پر جس نے پانچ آپریشن اور ہزاروں لاشوں کے باوجود بلوچستان کا نام بلند کیا ہے1998ءمیں ہماری حکومت ختم کرنے کیلئے سازشیں کی گئی بی این پی بننے کے ایک سال بعد اسے دولخت کیا گیا سازشی عناصر جنہوں نے پارٹی کو تقسیم کیا آج وہ خود اتنے ٹکڑوں میں بٹے ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا لیکن بی این پی کو کوئی ختم نہیں کرسکتابی این پی صرف سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک سیاسی سوچ ،فکر ،نظریے ،جدوجہد کا نام ہے اور نظریے کو ایٹم بم بھی ختم نہیں کرسکتا بی این پی کا نظریہ بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں پھیل چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2002ءسے لیکر آج تک ہمارے کارکن شہید ہورہے ہیں ہمارے بازو کاٹ کر حکمران سمجھتے تھے کہ ہم اپاہج ہوجائیں گے لیکن آج بھی بی این پی جلسوں سے لیکر ایوان تک بلوچستان کا نعرہ لگارہی ہے ہمارے شہید اکابرین اور کارکنوں کو ہم سے جدا کیا گیا کئی ساتھی آج بھی لاپتہ ہیں لیکن ہم اپنی جدوجہد سے نہ پیچھے ہٹے تھے اور نہ ہٹیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بی این پی قومی جمہوری پارٹی ہے ہم اس لشکر کا حصہ ہیں جو بلوچستان کے حقوق کے حصول ،ساحل و وسائل پر دسترس کے حصول تک جدوجہد جاری رکھے گامجھے آپ نے اس لشکر کا سپہ سالار بنایا ہے یہ میری ذمہ د اری ہے کہ اپنے کارکنوں اور انکے خاندانوں کی عزت ،جان و مال کا تحفظ کروں اوراسکے لئے مجھے اپنی یا اپنی اولاد کی بھی قربانی دینی پڑی تو اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔سرداراختر مینگل نے کہا کہ یہاں ان قوتوں کو آگے آنے نہیں دیا جاتا جو قوم ،وطن ،عوام کے حقوق کی بات کریں پہلے والے لوگ اپنے دامن سے بوٹ پالش کرتے تھے آج کل چاپلوسی کرنے والوں کو آگے لایاجاتا ہے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہم نے مرکز میں حمایت کے بدلے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں یا قومی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد سے پیچھے ہٹ جائیں گے ہم نے پہلے بھی قومی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے آئندہ بھی کریںگے مرکزی حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ چھ نکات پر عملدرآمد میں دیر نہ کرے اگر وہ ان نکات پر عملدرآمد نہیں کرسکتے تو جواب دیدیں ہم وہ نہیں جو چٹنی پر گزار کریں گے ہم بھیک نہیں حقوق مانگ رہے ہیں،جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹرڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ،سردارنصیراحمد موسیانی،امان اللہ زہری کے فرزند نوابزادہ شہریار زہری ،بی ایس او کے چیئرمین نذیر بلوچ و دیگر کاکہناتھاکہ عوام نے آج ثابت کردیا ہے کہ بی این پی ناقابل شکست ہے کوئی بھی شہادت، طوفان ،زیادتی ہمارا راستہ نہیں روک سکتی ۔انہوں نے کہا کہ بی این پی ناقابل شکست ہے ہم بلوچستان کے طول و عرض میں پھیل چکے ہیں کیڑے مکوڑوں کی سیاست ہمارے سامنے نہیں چل پائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فکر و خیال ہے دنیا میں ہمیشہ بہادری زندہ رہتی ہے بی این پی کے ابتک 112کارکن اور قائدین شہید ہوچکے ہیں ہم نے بلو چستان کے حقوق کی جدوجہد کے لئے چالیس سال جدوجہد کی ہے ان چھوٹی موٹی تکالیف سے ہمیں فرق نہیں پڑتا ہم نے وطن کی عزت بچائی ہے ،انہوں نے کہاکہ نواب امان اللہ زہری نے ہمیشہ عوامی حقوق کی جدوجہد کی بی این پی کے شہدا نے بلوچستان کی سرزمین کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے انتظامیہ اور حکومت نوابزادہ امان اللہ زہری کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ متحد ہیں ان میں کوئی تفریق نہیں جعلی قوتوں کو سمجھ جانا چاہئے کہ بلوچستان کے لوگوں کو گزشتہ 72سال سے دست و گریبان کروا کر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا البتہ ہمارے و سائل لوٹے گئے بے روزگاری اور غربت بڑھی ۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے استحصال کے خلاف آواز بلند کی انہیں سازشوں کے تحت قبائلی تنازعات میں شہید کروا یا گیا تو کبھی جعلی مذہبی تنازعات کا شکار بنایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خوشحالی کیلئے جدوجہد کرنی ہے جنہوں نے مسائل کے حل ،خوشحالی ،ناخواندگی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کی انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں بلوچستان کے لوگ ان مظلوموں کیلئے متحد ہیں جنہوں نے ہماری خوشحالی کیلئے اپنی زندگیاں قربان کردیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہاجاتا ہے کہ ہم اپنے موقف میں لچک پیدا کریںجنہوں نے لچک پیدا کی انہوں نے بلوچستان کو صرف غربت ،پسماندگی ،بے روزگاری کا شکار کیا اب استحصال کا راستہ روکنے کا وقت آچکا ہے وفاق پرستی کی سیاست کا دور چلا گیا ہے اگر مفاد پرستی چلتی رہی تو غربت ،پسماندگی ،ناخواندگی اور بے روزگاری بڑھے گی ہمیں باعزت زندگی گزارنے کیلئے وطن پرستی کی سیاست کرنی ہوگی بلوچستان میںاسٹیٹس کو کو ختم کرکے عوامی حکومت قائم کی جائے ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کو ترقی اور خوشحالی دینی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کو تنازعات کا شکار کیا جارہا ہے تاکہ ظلم و جبر کے خلاف جاری جدوجہد کو روکا جاسکے لیکن ہم نہ پہلے پیچھے ہٹے تھے اور نہ آئندہ ہٹیں گے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواب امان اللہ زہری کے فرزندشہریارزہری نے کہا کہ نوابزادہ امان اللہ زہری اورانکے ساتھیوں کی قربانی کسی صورت رائیگاں نہیں جائے گی ہم نہ پہلے جھکے ہیں اور نہ آئندہ جھکیں گے پہلے بھی میرے بھائی کو شہیدکیا گیا میری گاڑی پر حملہ کیا گیا میں سرعام کہتا ہوں کہ ہم ان حملوں سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی اپنے والد کے مشن سے پیچھے ہٹیں گے ۔انہوں نے کہا کہ نوابزادہ امان اللہ زہری اورانکے ساتھیوں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔