بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 10منٹ کی تاخیر سے شروع

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 10منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے ذاتی وضاحت کے نکتے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کے احتجاج کے موقع پروزیر اعلیٰ کے مشیر عبدالخالق ہزارہ نے میرا نام لے کر مجھ پر الزامات عائد کئے اس سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے انہوں نے اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے کی استدعا کی جبکہ اس موقع پرنصراللہ زیرئے اور قادر علی نائل بیک بولتے رہے جس سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اراکین اسمبلی کے محافظوں اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے عملہ صفائی کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائد ایوان اس مسئلے کا نوٹس لیں تاکہ ملازمین عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں ۔ قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز کے اجلاس میں صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ کی جانب سے اپوزیشن اراکین سے متعلق ریمارکس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سلیم کھوسہ نے امن وامان پرتقریر کرتے ہوئے اپوزیشن سے متعلق جو بیان دیا وہ نہ صرف بھونڈا الزام ہے بلکہ یہ قابل مواخذہ جرم ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے سیکورٹی فورسز ہماری اپنی فورسز ہیں جب تک سلیم کھوسہ اپنا الفاظ واپس نہیں لیتے ہم کارروائی آگے نہیں بڑھائیں گے ۔ اس موقع پر اختر حسین لانگو ، نصراللہ زیرئے اور صوبائی وزراءظہور بلیدی و سلیم کھوسہ کے مابین تندو تیز اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ سید فضًل آغا اوراختر حسین لانگو نے کہا کہ ایوان کی کارروائی روک کر گزشتہ اجلاس کا ریکارڈ طلب کیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ صوبائی وزیر نے تقریر میں کیا کہا ہے ۔ نصراللہ زیرئے نے کہا کہ کسی کو نمبر بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہم اس سرزمین کے وفادار رہے ہیں جن کے باپ داد انگریز کے ایجنٹ تھے وہ ہمیں وفاداری کا درس دیتے ہیں ہمیں کسی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے بیک وقت بولنے سے ایوان میں شدید شور شرابہ اٹھا جسے دیکھتے ہوئے سپیکر نے اراکین کے مائیک بند کرادیئے۔ بعدازاں میر ظہور بلیدی نے کہا کہ ہر بات کا ایک سیاق و سباق ہوتا ہے یہاں ایوانمیں کشمیر کے ایشو پر بحث ہورہی ہے اگر کوئی اس ایشو کو بلوچستان یا فاٹا سے تشبیہ دیتا ہے تو پھر اسے اسی طرح کا ہی جواب ملے گا ۔ ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ہم بھی اسی ملک کے باسی ہیں یہ ملک ہم سب کا ہے ہم بھی پاکستانی ہیں اور ہماری نیتوں پر کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے ہم نے حلف اٹھایا ہے نہ ہماری نیتوں پر شک کیا جائے اور نہ ہی ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہے ۔بعدازاں مشیر وزیراعلیٰ بلوچستان برائے ثانوی تعلیم محمدخان لہڑی نے تحریک پیش کی کہ بلوچستان لازمی خدمات کا مسودہ قانون مصدرہ2019 (مسودہ قانون نمبر1مصدرہ 2019)کو کمیٹی سفارشات کے بموجب زیر غور لایا جائے جس کی ایوان نے منظوری دے دی تاہم اس موقع پراپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے مسودہ قانون کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایمپلائزایفی شنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ2011ءکے ہوتے ہوئے بلوچستان لازمی خدمات کا مسودہ قانون غیر ضروری ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی کا شعبہ اخلاقی اقدار پر مشتمل ہے ہمیں اخلاقیات اور شعور کی بنیاد پراصلاحات لانی چاہئیں اخلاقی قدروں کی بلندی ہمارا معیار ہونا چاہئے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت گھوسٹ سکول محکمہ تعلیم اور حکومت کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں اکثر سکولوں میں خان ، ملک ، سرداروں اور نوابوں نے مہمان خانے بنائے ہوئے ہیں اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جب کنٹرول کرنے کے لئے پہلے سے بیڈا ایکٹ موجود ہے تو پھر اس ایکٹ کی کیا ضرورت ہے اس موقع پر انہوںنے بیڈا ایکٹ کے مختلف نکات بھی ایوان میں پڑھ کر سنائے اور کہا کہ مجلس قائمہ کے چیئر مین کا اختلافی نوٹ بھی آچکا ہے تعلیم کا محکمہ اخلاقی محکمہ ہے اور اخلاقی محکموں سے کریمنل طریقے سے نمٹنا درست نہیں مس کنڈکٹ کی صورت میں تادیبی کارروائی کے لئے پہلے سے بیڈا ایکٹ میں تمام قوانین موجود ہیں انہوںنے تجویز دی کہ اسمبلی کے اگلے سیشن میں اس حوالے سے مزید بحث کرائی جائے تاکہ اراکین کسی متفقہ نکتے پر پہنچ سکیں ۔ محرک محمدخان لہڑی کا کہنا تھا کہ مسودہ قانون پہلے اس ایوان میں لایاگیا یہاں سے متعلقہ کمیٹی میں گیا قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اپوزیشن رکن ہیں ایوان اس کی منظوری دے ۔ اس موقع پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے بیچ تندوتیز جملوں کا تبادلہ ہوا ایک موقع پربی این پی کے اختر حسین لانگو نے کورم کی نشاندہی کی اور کہا کہ کورم پورا نہیں تاہم جب گنتی کرائی گئی تو سپیکر نے قرار دیا کہ کورم پورا ہے بعدازاں اپوزیشن کے شدید شور شرابے اور ہنگامی میں مشیر تعلیم نے بلوچستان لازمی خدمات کا مسودہ قانون مصدرہ2019 (مسودہ قانون نمبر1مصدرہ 2019)کو کمیٹی سفارشات کے بموجب منظور کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی تاہم اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا اور اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آﺅٹ کرکے باہر چلے گئے ۔اس موقع پر ایوان نے حد بندی ( بلوچستان کا ترمیمی) مسودہ قانون2019ئ، بلوچستان دیوانی عدالت کا ( ترمیمی)مسودہ قانون مصدرہ2019ءمسودہ قانون نمبر13مصدرہ2019ءکی بھی منظوری دی علاوہ ازیں وزیر خزانہ نے آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے سال2018-19ءبرحسابات حکومت بلوچستان ایوان کی میز پر رکھی ۔دریں اثناءبلوچستان اسمبلی نے پہلے پارلیمانی سال کے 100روز پورے کر لئے ۔ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے پہلے پارلیمانی سال کی تکمیل پر ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 13اگست2018ءکو وجودو میں آنے والی بلوچستان کی گیارہویں اسمبلی نے اپنا پہلاپارلیمانی سال مکمل کررہی ہے چونکہ آئینی طو رپر ایک پارلیمانی سال کے دوران سو دن مقرر ہیںآج کی اختتامی نشست کے ساتھ ہی پورے سو دن مکمل ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ایک اعزاز ہے اور میں ایک سال کے دوران ایوان کو قواعدوضوابط کے مطابق چلانے پر تمام اراکین کا مشکور و ممنون ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی نے اپنے پہلے پارلیمانی سال کے دوران سالانہ میزانیہ2019-20ءاور ضمنی میزانیہ بابت 2018-19ءکی منظوری دی ۔ 13اگست2018ءسے 10اگست2019ءکے دوران اسمبلی نے اب تک سو ایام میں سے 52دن سرکاری کارروائی نمٹائی اسمبلی نے مختلف نوعیت کے بارہ نئے اورچار ترامیم شدہ مسودات قانون پاس کئے ۔ اجتماعی مفاد عامہ کے لئے قرار دادیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ایک سال کے دوران اسمبلی نے 18سرکاری اور21غیر سرکاری قرار دادیں منظور کیں ۔ انہوںنے کہا کہ پارلیمانی طرز جمہوریت میں سوالات اور توجہ دلاﺅ نوٹسز کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے کیونکہ یہ جوابدہی کا ذریعہ ہیں اور انہیں ایجنڈے میں اولین حیثیت حاصل ہوتی ہے رواں پارلیمانی سال کے دوران201سوالات کے نوٹسز موصول ہوئے جن میں81نمٹادیئے گئے تیس توجہ دلاﺅ نوٹسز موصول ہوئے جو نمٹادیئے گئے ایک سال کے دوران ایوان کو 36تحاریک التواءموصول ہوئیں جن میں27نمٹادی گئیں عوامی نوعیت کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے زیرو آور کا انعقادبھی ہوتا رہا ۔ سردار بابرخان موسیٰ خیل نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں کسی بھی ایوان کے لئے اہم ہوتی ہیں بلوچستان اسمبلی میں14قائمہ اور پانچ فنکشنل کمےٹیاں تشکیل دی گئیں جبکہ ہاﺅس کی دو سپیشل کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں جن کی بدولت کارروائی کو آگے بڑھانے میں خاطرخواہ مدد ملی ۔ انہوں نے پہلے پارلیمانی سال کے اختتام پر تمام اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کااظہار کیا کہ آئندہ بھی اراکین ایوان کے تقدس کو برقر ار رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں گے ۔بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیاگیا ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close