بلوچستان کی آٹھ قومی شاہراہوں پر 25ایمرجنسی سینٹر قائم کئے جائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میںایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کے قیام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا جو پبلک پرائمری ہیلتھ انیشیٹیو(پی پی ایچ آئی) کے زیرانتظام قائم کی جارہی ہے، اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ ساڑھے تین ارب روپے ہے جس کے تحت بلوچستان کی آٹھ قومی شاہراہوں پر 25ایمرجنسی سینٹر قائم کئے جائیں گے جہاں ڈاکٹر طبی عملہ اور تربیت یافتہ ایمرجنسی عملہ تعینات ہوگا، صوبائی وزراءمیر نصیب اللہ مری، میر ظہور احمد بلیدی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری خزانہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی جبکہ پی پی ایچ آئی کے چیف ایگزیکٹیو عزیز احمد جمالی کی جانب سے اجلاس کو منصوبے کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایمرجنسی سٹاف کے پہلے بیچ کی تربیت پنجاب کی ایمرجنسی سینٹر میں جاری ہے اور کنٹینرز پر مشتمل جدید ایمرجنسی سینٹرز کے قیام کا عمل جاری ہے جن میں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں گی، ابتدائی طورپر ایمرجنسی سروس کے لئے 50ایمبولینس اور 25فائر بریگیڈ کی گاڑیاں خریدی جائیں گی، اس سال کے آخر تک ایمرجنسی سینٹرز باقاعدہ طور پر فعال کردیئے جائیں گے جہاں روڈایکسیڈنٹ اور دیگر حادثات کے زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے انہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا جس سے قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوسکے گا۔ وزیراعلیٰ نے ایمرجنسی سروسز کے اس منصوبے کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو منصوبے کے لئے درکار مزید فنڈز کے اجراءکی ہدایت کی۔ اجلاس میں پی پی ایچ آئی کے امور اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا، اجلاس کو پی پی ایچ آئی کی کارکردگی اور مسائل سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پی پی ایچ آئی کے قیام کا بنیادی مقصد بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ہے اور اس وقت صوبہ بھر میں یہ پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے، تاہم گذشتہ دور حکومت میں بنیادی مراکز صحت کے بارہ سو کنٹریکٹ ملازمین کی اسامیوں پر مستقل طور پر بھرتی کے باعث پی پی ایچ آئی کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو ان بھرتیوں کے عمل کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے پٹ فیڈر کینال میں کشمور اور سندھ کے دیگر علاقوں کا ڈرینیج کا پانی شامل کرنے کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی پی ایچ آئی کو دریائے سندھ اور پٹ فیڈر کے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کے ٹیسٹ کرانے اور باقاعدہ طور پر اس عمل کی سٹڈی رپورٹ کی تیاری کا ٹاسک سونپتے ہوئے کہا کہ پٹ فیڈر میں سندھ کے علاقوں سے ڈرینیج کا پانی شامل کیا جانے انتہائی خطرناک ہے، جس سے نصیرآباد ڈویژن میں ہیپاٹائٹس سمیت دیگر وبائی امراض میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ بڑی مقدار میں ڈرینیج پانی کی شمولیت سے بلوچستان کو دریائے سندھ سے اس کے حصے کا پورا صاف پانی بھی نہیںمل رہا، اجلاس میں پی پی ایچ آئی کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کے نظام کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close