
- Advertisement -
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق عقیدہ ختم نبوت کا انکاری دائرہ اسلام سے خارج ہے ، آئین کی اسلامی دفعات پر حملہ ہوتو اس کے وارث موجود ہےں ، جلسے میں مدارس کے بچوں کو لانا منفی پروپیگنڈہ ہے ، دینی مدارس کے بچے پاکستانی شہری اور ووٹرز ہیں ، احتساب کے نام پر انتقامی سیاست ہورہی ہے ، میڈیا کی آزادی کی جنگ بھی ہم نے لڑنی ہے ، سینٹ چیئرمین کے متبادل بھی بلوچستان سے ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس وقت مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہیں گھر بنانے کی بجائے گرائے جارہے ہیں ، اب دوبارہ امریکہ کی غلامی کی طرف جارہے ہیں ۔ ہم نے جعلی حکومت کے خلاف ملین مارچ کا سلسلہ شروع کردیا ہے اب تک 14 ملین مارچ کرچکے ہیں، لاکھوں کے سمندر نے پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ پشاور کا ملین مارچ ڈبل ملین مارچ تھا ۔ میڈیا پر ذمہ داینکرز کو یہ بولتے ہوئے سنا کہ جلسے میں مدارس کے معصوم طلباءکو لایا گیا تھا اور دینی ایشوز پر سیاست کی جارہی ہے ، دنیا کے سامنے چند بچوں کو پیش کرکے منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مدارس کے بچے پاکستان کے شہری نہیں ،مدارس کے طلباءسب سے زیادہ محبت الوطن ہے وہ پاکستان کے شہری اور ووٹرز ہے حالانکہ ایک طرف مدارس کے طلباءکو مین سٹریم کی طرف لانے کی باتیں کی جارہی ہیں ، ملین مارچ میں 20 لاکھ کے شرکاءمیں کتنے بچے شامل ہوں گے ۔ سکول کے بچوں اور بچیوں کو دھرنوں میں 120دن تک نچایا جارہا تھا اس وقت کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ دھرنے میں بچوں اور بچیوں کو لایا گیا ہے ۔ مذہبی ایشوز پر سیاست کی باتیں کرنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نہیں آئین کہتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک اور اس کا مذہب اسلام ہے تعلیم میں عربک مضمون لازم ہے ، ناموس رسالت کا مجرم دائرہ اسلام سے خارج ہے ، قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنائے جائیں گے یہ سب آئین کہہ رہا ہے اگر آئین کے اسلامی دفعات پر حملہ ہو تو اس کے وارث موجود ہے ہم پاکستان کی نظریاتی شناخت اور حقیقی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے بھی کسی سطح پر سلیکٹڈ وزیراعظم کا استقبال نہیں کیا انہیں بھی پتہ ہے کہ یہ سلیکٹڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک جس سے بھی بات کی جائے تو وہ اس مصیبت سے جان چھڑانے کی بات کرتا ہے ۔میں الاعلان کہتا ہوں کہ جعلی حکومت قبول نہیں کریں گے ہم جعلی حکومت کو ان کے انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔آنے والا ہر ایک دن اہم ہے ، حکومت گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے اور گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دینے کی ضرورت ہے ۔ احتساب کے نام پر انتقامی سیاست شروع کیا گیا ہے ، سیاسی لوگوں کو انتقامی طور پر گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اگر فخریہ طور پر یہ کہا جائے کہ فلاں کو ہم نے گرفتار کروایا تو یہ اداروں کی غلط استعمال کے واضح ثبوت ہےں ۔ ریاستی ادارہ ہو یا حکومتی امن کو سبوتاژ نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے بلوچستان کی احساس محرومی نہیں بڑھے گی بلکہ متبادل امیدوار بھی بلوچستان ہے ۔ سینیٹ کا چیئرمین شپ ملنے سے بلوچستان کوکونسے پر لگ گئے ہیں اس سلسلے میں سینیٹ میں علاقائی اور قومیت کا کارڈ کھیلا جارہا ہے ۔ پاکستان میں میڈیا کو آزاد کہنے والے دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں ، اظہار رائے پر پابندی ہے جس کی جنگ بھی ہم نے ہی لڑنی ہے ۔اپوزیشن ایک پیج پر ہے اور ایک تحریک کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جمعیت علماءاسلام کے رکن قومی اسمبلی و صوبائی امیر مولانا عبدالواسع ، مولانا عبدالغفور حیدری ، ایم پی اے اصغر ترین ، عثمان بادینی سمیت جے یو آئی کے مرکزی و صوبائی رہنماﺅں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔