

- Advertisement -
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے وفاقی حکومت کو اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کااعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں جمعیت کے مرکزی مجلس عاملہ اور اس کی تشکیل کردہ کمیٹیوں کوہدایت کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے رابطوں میں رہیں،25جولائی کو بدترین دھاندلی کے ذریعے جعلی اور نااہل حکمرانوں کو جبری طورپر عوام پرمسلط کردیاگیاتمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں،ایک طرف کمر توڑ مہنگائی ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 50 ہزار روپے کی خریداری پر بھی شناختی کارڈ دینا ہوگا، یہ دستاویزی معیشت نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے ہر گلی کوچے کے دکانداروں کی جیب تک پہنچنا چاہتے ہیں، ہم ہمیشہ جمہوریت ،آئین اور سیاسی ماحول کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کو افغانستان بنتے نہیں دیکھناچاہتے ،ملک کے گلی کوچے کے ہرفرد کونیب کا کردار معلوم ہوچکا ہے، نیب کبھی ایسے بے نقاب نہیں ہوا جیسے موجودہ دور میں ہوا ہے،مدارس کے طلباءاس ملک کے شہری کسی کو ان کے جذبات کامذاق اڑانے کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں جمعیت کے زیراہتمام ملین مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفور حیدری ،مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد ،بلوچستان کے امیر مولاناعبدالواسع نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ مولانا فیض محمد ،شیخ الحدیث مولاناحافظ محمد یوسف ،مولاناصلاح الدین ایوبی ،مولانامحمد حنیف ،فضل آغا، اصغر ترین ،مطیع اللہ آغا، مولانامحمد قاسم ودیگر بھی موجود تھے ۔مولانافضل الرحمن نے کہاکہ آج کوئٹہ میں بلوچستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کامیاب اورفقید المثال اجتماع وملین مارچ پر جمعیت بلوچستان کے کارکنوں،اہل کوئٹہ اور اہل بلوچستان کو سلام پیش کرتاہوں ،پاکستان میں جعلی اور کٹ پتلی حکومت قابل قبول نہیں ہے ،ایک ایسی حکومت جو پاکستان کے نظریاتی شناخت کیلئے خطرہ ہو ،ایک ایسی حکومت جو پاکستان کے مسلمانوں کے عقیدے ،دلوں کی آواز ،ان کے عقیدے کے احساسات کیلئے خطرہ ہو ،ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ ہم ایسی قوتوں ،بیرونی ایجنٹوں ،عالمی قوتوں کے نمائندوں اور جعلی اور مسلط کردہ حکمرانوں کے خلاف طبل جنگ بجاچکے ہیں ،ہم اس وقت اپنے گھروں کو جائیںگے جب اس حکومت کا خاتمہ کرکے انہیں ذلت ورسوائی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس بھیجیںگے ،میں پاکستان کے تمام ریاستی اداروں پرواضح کرناچاہتاہوں کہ ہم اس ملک کو پرامن دیکھناچاہتے ہیں ،اس کو پرامن رکھنے کیلئے ہم نے جوانوں ،علماءاوراکابرین کی قربانیاں دی ہیں اور فساد برپا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہے ،اس ملک میں ہم جمہوریت ،آئین اور سیاسی ماحول کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور میں ایک بار پھر اپیل کرتاہوں کہ پاکستان کو افغانستان مت بناﺅ،میں پاکستان کو کھنڈرات نہیں دیکھناچاہتامیں پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھناچاہتاہوں ،اگر آپ بضد ہو تو آﺅ دو دو ہاتھ کریں اور دیکھتے ہیں کہ آپ کا مستقبل کیا ہے اور ہمارا مستقبل کیاہے ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال 25جولائی کو الیکشن ہوااور پاکستانی عوام کا مینڈیٹ کو چرایا گیا اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی کی سیاستی جماعتیں بنائی اور اپنی مرضی کے نتائج مرتب کرکے اپنی مرضی کے لوگ جو عوام کے مسترد کردہ تھے کو جبر کی بنیاد پر قوم پر مسلط کی حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ موقف اپنایاکہ یہ الیکشن جعلی ہے اور یہ حکمران ہمیں قبول نہیں ،الیکشن کمیشن شفاف اورغیر جانبدار الیکشن نہیں دے سکاہے لہٰذاءدوبارہ الیکشن کرائی جائیں ،اس موقف کو زندہ رکھتے ہوئے ہم نے کوئٹہ تک کا سفر کیاہے یہ ہمارا پندرواں ملین مارچ ہیں ،یہ ملین مارچ عوام کی آواز ہے ،پورے ملک کے عوام میں بے داری پیدا کی آج کا ملین مارچ حکمرانوں کیلئے نوشتہ دیوار ہے ،انہوں نے کہاکہ جمہوریت کو ہم جانتے ہیں کوئی بیوروکریٹ،کوئی جرنیل ہمیں جمہوریت کی معنی نہ سکھائیں اس کی تشریح ایک جمہوریت پسند نے کرنی ہے جو عوام کی مذاج سے واقفیت رکھتاہو یہ حکومت عوام کے مزاج کے مطابق نہیں یہ غیر اعلانیہ مارشل لاءہے جو ملک پر مسلط کیاگیاہے ،جعلی اکثریت کی آڑ لیکر ملک پر حکومت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،بتایاجائے کہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ،جب ہم نے کہاکہ یہ جمہوری حکومت نہیں تو پھر کیسے مان لیں کہ یہ جمہوری حکومت ہے لیکن ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ بہت ہی جلد ان کی کارکردگی سامنے آئی ،پاکستان کی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے ،پچھلے سال قومی مجموعی پیداوار کا جو ٹارگٹ مقرر کیاگیا تھا ساڑھے چھ فیصد تھا لیکن آج نااہل حکمرانوں نے بجٹ میں قومی مجموعی پیدوار کا ٹارگٹ ڈھائی فیصد رکھ دیاہے ،ایسا بجٹ پیش کیا موجودہ حکومت نے کہ بین الاقوامی ادارے بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی ،پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے عمل کو معطل کرکے روپے کی قدر 104سے 167تک پہنچادیا،حکمرانوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا،کسی ریاست کامدار معیشت پرہواکرتاہے ،ملک کادفاع اور دفاعی قوت دوسرے درجے کا سبب ہے ،پہلی چیز ملکی معیشت ہواکرتی ہے ،سویت یونین کاانجام سب کے سامنے ہیں ،فوجی لحاظ سے وہ طاقت ور تھا جب وہ معاشی لحاظ سے ٹوٹ گیا تو سویت یونین کو ساتھ لے ڈوبا، آج خود امریکہ اور صدر ٹرمپ کو یہ احساس ہے کہ دنیا میں جنگوں کے ذریعے امریکی معیشت پردباﺅ بڑھ رہاہے اور معیشت ڈوبنے کی طرف جارہی ہے وقت کے مطابق حالات کاادراک کیا اور مشرق وسطیٰ ،افغانستان ،کوریا سے اپنی فوجیں واپس بلائیں وہ اس حقیقت کاادراک کررہاہے کہ یہ امریکی ریاست کیلئے نقصان دہ ہے ، کیا پاکستان اتنا طاقت ور ہے کہ اس کی معیشت بیٹھ جائیں اور ہم اپنی ریاست کو باقی رکھ سکیںگے ،ایسے حالات میں حکومت کے پہلے ہی بجٹ کے پیش ہونے کے بعد تاجروں نے ہڑتال کیا اور محلے کاجھونپڑی ،گاﺅں کے دکاندار نے دکانیں بند کیں اور احتجاج ریکارڈ کرایا ،پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب ہڑتال اور احتجاج کرکے ثابت کردیاکہ پاکستانی معیشت کاکیاحال ہے ،تاجر برادری معیشت کاچہرہ ہواکرتاہے جب تاجروں کا یہ حال ہے تو عوام کا کیا حال ہوگا،اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ آپ نالائق ،نااہل ہے ،یہ ملک مزید اس کامتحمل نہیں ہوسکتا کہ ہم ملک کومزید نالائق اور نااہل حکمرانوں کے حوالے کرے ،انہوں نے کہاکہ ملک کا نوجوان آج بے روزگاری کے ہاتھوں خودکشی کیلئے تیار ہوگیاہے ،سرکار کے دروازے پر بے روزگاری کا بھیک مانگ رہاہے لیکن وہاں سے انہیں دتکارا جاتاہے ،حکمرانوں نے دعوے کئے کہ نوجوان ہمارے ساتھ ہیں لیکن8سے 9ماہ میں جس طرح ملک کے نوجوانوں کو حکومت نے مایوس کیاہے اور روزگار سے محروم کیاہے اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند ماہ میں مہنگائی کہاں پہنچی سب کو معلوم ہے ،30سے 40ہزار کمانے والا غریب آدمی اس مہنگائی میں بازار سے راشن خریدنے کی سکت نہیں رکھتا ،غریب قرب میں مبتلا ہیں ایک طرف روپے کی بے قدر ی ،نوجوانوں کی بے روزگاری ،کمرتوڑ مہنگائی ،غریب کی بدحالی اور دوسری طرف ٹیکسوں کا جبری بھرمار کہ اگر آپ کے پاس50ہزارروپے ہیں کہ آپ 50ہزار روپے کی چیز خریدتے ہیں تو آپ کو اس کا چیک یا شناختی کارڈ دیناہوگا ،اورکہتے ہوں کہ یہ دستاویزی معیشت مغرب کاایجنڈا ہے پاکستان کے دستاویزی معیشت کے ذریعے مغرب پاکستان کے گلی کوچوں کے ہردکاندار کے جیب تک پہنچناچاہتاہے ،آج ملک کا وکیل چیخ رہاہے وہ سمجھتاہے کہ یہ ملک قانون کے مطابق نہیں چل رہا ہے وکیل ملک کی حفاظت کرناچاہتے ہیں ،اگر کوئی جج اسٹیلبشمنٹ اور حکمرانوں کے منشاءکے مطابق اپنے ضمیر کے خلاف فیصلہ دیتاہے تو وہ جج بھی غیر محفوظ ہے ،ایک جج صاحب کاتو ویڈیو تو سامنے بھی آگیا کہ مجھے بلیک میل کیاگیا کہ میں ہر قیمت پرنوازشریف کے خلاف فیصلہ دوں اس طرح کے متازعہ فیصلے کس طرح قوم کو قبول ہوسکتے ہیں ،عدالتوں سے سیاستدانوں کے خلاف فیصلے دلوا کر آپ کہتے ہوں کہ یہ تو کرپشن میں گرفتار ہیں ،مولانافضل الرحمن نے کہاکہ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جو ہمیشہ سے مخالفین کے خلاف استعمال ہوتاآیاہے جنرل پرویز مشرف کے وقت میں بھی یہ مخالفین کے خلاف استعمال ہوا لیکن اس وقت یہ ادارہ اتنا ذلیل اور بدنام نہیں ہوا جتنا آج کے دور میں ذلیل اور بے نقاب ہواہے ،،گلی کوچوں میں ہرفرد یہ سمجھتاہے کہ نیب احتساب کاادارہ نہیں رہا بلکہ یہ سیاست دانوں کے خلاف ایک انتقامی ادارہ بن چکاہے ،ہمیں ڈراتے ہیں کہ نیب آپ کو گرفتار کرے گا ہم اس سے ایک قدم آگے جاچکے ہیں گرفتاری کوئی معنی نہیں رکھتا سر کی بازی کار دور آگیاہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت میں آتے ہی انہوں نے دینی مدارس پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اور آج بھی مختلف ہتھکنڈوں سے دینی مدارس کے خلاف اقدامات کیلئے حیلے بہانے تلاش کررہے ہیں ،ہم واضح کرتے ہیں کہ دینی مدارس آپ کیلئے لوہے کے چنے ثابت ہوںگے ،ہمیں کہاجاتاہے کہ آپ ملین مارچ میں مدارس کے معصوم بچوں کو لاتے ہیں 10سے 15لاکھ کااجتماع میں مدارس کا طالب علم کتنے ہونگے ،ایک نوجوان ،خودمختار اور پاکستان کا شہری اگر جلسے میں شرکت کرتاہے تو کہاجاتاہے کہ مدارس کے طلباءہے ،اور آپ نے 120دن کے دھرنے میں تو زوجہ وبچہ سینٹر کے بچوں اور ماں کے گھود میں بچوں ،سکول کے بچوں اور بچیوں کو دھرنے میں لائے ،120دن تک اسلام آباد میں دختران قوم کو ڈی چوک پر نچاوایا ،ان کی تذلیل کی ان کی غربت کا مذاق اڑایا ،نوجوان ایسے میڈیا کے باتوں اور اینکروں سے مرعوب نہ ہوں جمعیت علماءاسلام ،علماءکرام آپ کے ساتھ ہیں ہم نے مل کر اس ملک میں انقلاب لاناہے ،انہوں نے کہاکہ میرے اسلام کاآغاز ان نوجوانوں سے ہواہے جنگ بدر کاآغاز معاذ اور معاوذ جہاد میں شرکت کیلئے گئے اور یہی دو بچے ہی تھے جنہوں نے ابو جہل کا گلہ کاٹ دیا ،جب پاکستان بنا تو پاکستان کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح کررہے تھے اس وقت بھی تحریک میں مدارس اور علماءوطلباءکاکردار تھا ،ایوب خان کے خلاف تحریک جمہوریت میں پہلا کردار سکولوں کے طلباءکی تھی ،وہاں کیوں یہ بات نہیں کی گئی ،انہوں نے کہاکہ قادیانیوں نے 1974ءمیں چناب نگر کے ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے کالج کے طلباءحملہ کیا اور وہی طلباءان کے خلاف تحریک کی بنیاد بنی ،یہ نوجوان ہے ان کی جذبہ حیرت کامذاق نہ اڑاﺅ یہ عوام میں سے ہیں ،انہوں نے کہاکہ یہ طلباءملک اور قوم کا حصہ ہے اگر وہ جلسے میں آتے ہیں تو ان کی مرضی اور اگر نہ آتے ہیں تو بھی ان کی مرضی لیکن ان کے مذاق اڑانے کی اجازت ہم کسی کو نہیں دے سکتے ،جب اس دور میں ناموس رسالت ،عقیدت ختم نبوت پر حملہ ہوتاہے ،ابھی جعلی وزیراعظم نے امریکہ کادورہ کیا اور سب کچھ بے نقاب ہوا،انہوں نے بیان دیاکہ میں آسیہ مسیح کو ملک سے باہر جانے دے رہاہوں کہاکہ ہم نے عدالت سے انہیں رہائی دلائی ،پاکستان میں علماءکو گرفتار کیاجارہاہے ،علماءپر تو پابندیاں ہیں لیکن آپ توہین رسالت کے مرتکب لوگوں اور قادیانیوں کو سہولتیں دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے سامنے جانے سے پہلے ایک قادیانی کو رہا کیا وہاں ٹرمپ کے سامنے پیش کیاتاکہ وہ ٹرمپ کے سامنے یہ کہیں کہ وہ تو پرامن ہے کہ اور یہ پاکستان میں خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے ،خود کو مسلمان نہ کہنا یہ مولویوں کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے ،وہ آئین کی روح سے غیر مسلم ہے ،ہم ان حالات کامقابلہ کررہے ہیں علماءاور مدارس کو دباعی پوزیشن میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہوں ،امریکہ میں تقریر کی جبکہ جلسے کی انتظامات قادیانی نے کی وہاں انہوں نے قادیانیوں کو اطمینان دلایاکہ تمہارا اور ہمارا مشترک دشمن مولانافضل الرحمن ہے ،انہوں نے کہاکہ ملک کو داﺅ پر لگایاگیاہے یہ ملک اس وقت خطرے میں ہے ،ہم پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں ہمارا ادارے سے جھگڑا نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف ہوتاہے ،انہوں نے فورسز پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کو پرامن بنانے کیلئے قوم کی آواز کااحترام کرناہوگا،میں واضح کرناچاہتاہوں کہ یہ ہمارا آخری ملین مارچ ہیں اگلاپڑاﺅ اسلام آباد میں ہوگا،انہوں نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اگست میں استعفیٰ دے تو مارچ سے بچ جائے گی، اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کرےگا اور یہ آزادی مارچ ہوگا جس طرح ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی اب یہودی لابی سے آزادی حاصل کرینگے ،تمام سیاسی جماعتوں کاموقف ہے کہ یہ الیکشن دھاندلی زدہ ہے کوئی بھی جماعت اس کو تسلیم نہیں کرتا ،ہم دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر تاریخ کاتعین کرینگے ،انہوں نے کہاکہ اپنی مجلس عملہ اور کے تشکیل کردہ کمیٹیوں کو رابطوں سے متعلق ہدایات دی ہیں ،انہوں نے کہاکہ اکتوبر کامہینہ اسلام آباد میں ہوگا۔ملین مارچ سے دیگر شرکاءنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جمعیت علماءاسلام کے زیراہتمام ملین مارچ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کوئی بھی جماعت جمع نہیں کرسکاہے ،انہوں نے کہاکہ ہم نے اس ملک کو بناناہے لیکن حکمران ہمیں برطانیہ اور امریکہ کے غلام بنانے پر تلی ہوئی ہیں ،ہم کو اٹھنا ہوگا اور اس کے خلاف آواز بلند کرناہوگی۔پچھلے ستر سالوں سے اس ملک جو کلمے کے نام پر بناہے لیکن کفار اس ملک کی اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش کررہے ہیں ،بہت جلد اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے کیا بلوچستان کے لوگ تیار ہیں؟ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں عمران خان کی طرز پر دھرنا نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی دھرنا ہوگا ،جمعیت علماءاسلام کے کارکنوں سمیت عوام کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ملین مارچ میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت کی ،انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے ملک کو تباہ کردیاہے ،جو شخص گھر کو نہیں سنبھال سکاوہ ملک کیسے سنبھالے گا ،آپ کی خواہش کہ ملک کی آئین تبدیل ہو کو کبھی پورا نہیں ہونے دینگے ،انہوں نے کہاکہ مولانافضل الرحمن بہت پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے آج لوگوں کا شک یقین میں بدل گیاہے ،انہوں نے کہاکہ مولانافضل الرحمن کو جیل میں ڈالنے کی حکومت اپنی خواہش پوری کرے کیونکہ مولانا فضل الرحمن جیلوں سے ڈرنے والے نہیں ۔