
- Advertisement -
ملک بھر کی طرح ضلع ہرنائی میں بھی بارشو ں اور ندی نالوں میں سیلابی ریلے آنے کا سلسلہ جاری ہے مسلسل بارشوں اور ندی نالوں میں سیلابی ریلوں سے ہرنائی کے قومی شاہراہوں کے علاوہ دیہی علاقوں کو جانے والے سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ہرنائی کوئٹہ قومی شاہراہ اور ہرنائی پنجاب قومی شاہراہ جوکہ مختلف مقامات پر ندی پر سے گزرتا ہے جہاں پر رابطہ پل نہ ہونے اور ندی نالوں کے نذدیک سے گزرنے اور سیفٹی دیوار نہیں ہونے کی وجہ سے ہرنائی دو اہم قومی شاہراہیں اور دیہی علاقوں کو جانے والے سڑکیں مختلف مقامات پر سیلابی ریلے بہاکر لے گئے جس کی وجہ سے قومی شاہراہوں پر سفرکرنا مشکل بن چکا ہے ضلع ہرنائی کے عوامی و سماجی حلقوں ، ٹرانسپورٹروں ، تاجروں ، زمینداروں ، کوئل مائینز اونرز اور خصوصاََ ٹرک یونین ضلع ہرنائی کے عہدیداروں سیٹھ زکوم ترین ، ولی خان ترین، محمود پوپلزئی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان ، صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ، رکن قومی اسمبلی سردار اسرار ترین، رکن صوبائی اسمبلی محترمہ لیلیٰ ترین سے اپیل کی ہے کہ ضلع ہرنائی میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے قومی شاہراہوں کو پہنچنے والے نقصان کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر قومی شاہراہوں کی تعمیر ومرمت کےلئے فنڈزریلز کریں ضلع ہرنائی مون سون کی رینج میں واقع ہے اسکے علاوہ ضلع ہرنائی چاروں اطراف سے پہاڑی سلسلوں اور ندی نالوں کے درمیان میں ہے مون سون کے دوران ندی نالوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے ضلع بھر کے عوام سیلاب کی زد میں ہے اور سابق دور میں بنائے گئے حفاظتی بندات ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے جسکا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ نے خود ضلع ہرنائی کا دورہ کرکے تمام حفاظتی بندات اور قومی شاہراہوں اور دیہی علاقوں کو جانے والے سڑکوں کا ازخود معائنہ کیا اور تمام تر صورتحال اپنے آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور تمام متاثرہ حفاظتی بندات کا پی سی ون بھی تیار کرلیا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان ضلع ہرنائی کے حفاظتی بندات کی تعمیر ومرمت اور قومی شاہراہوں کی تعمیر ومرمت اور ندی نالوں پر پلوں کی تعمیر کےلئے خصوصی پیکج کااعلان کرکے ضلع ہرنائی کے عوام ، زرعی زمینوں ، اور قومی شاہراہوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں کیونکہ ہرنائی میں بارشوں کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے اور ندی نالوں میں سیلابی ریلے روزہ آرہے ہیں جس کی وجہ سے قومی شاہراہوں ، دیہی علاقوں کا ضلعی ہیڈکوارٹر اور ملک بھر سے زمینی رابطہ کٹ جاتا ہے اور حفاظتی بندات نہ ہونے کی وجہ سے ضلع ہرنائی کے اکثر سیلاب کی زد میں ہے جس میں ضلعی ہیڈکوارٹر سمیت مختلف دیہی علاقے شامل ہے جوکہ آسمان میں بادل نکلنے کے ساتھ ہی مذکورہ علاقوں کے عوام میں خوف وہراس پھیل جاتا ہے اور بارشوں کے دوران تو لوگ رات بھر کھلے آسمان تلے سیلاب آنے کی خوف کی وجہ سے جاگ کر گزارتے ہےں۔