- Advertisement -
میری کہانی بلوچستان میڈیا کی زبانی
یہ اپنے روز مرہ کے استعمال کے سامان اپنے “بغل جولہ”تھیلی سے نکال رہے ہیں یہ چاغی کے ننے چرواہا ایاز ہے جو گاوں کے لوگوں کے بکریاں دشت و بیابان میں اور پہاڑوں میں چراکر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔
ایاز نے اپنے کہانے سناتے ہوئے کہا کہ ادھر پانی نہیں تھا قحط سالی کی وجہ سے ہم ے ہجرت کیا۔
باقی بکریاں وہاں پر مر گئے اب ادھر پانی ہے اور میرے دوبکریاں ہیں باقی علاقے والوں کے بکریاں ہے میں انکو اجرت میں چراتا ہوں مہنے کا ایک بکرا پر 50 روپے ملتا ہے مجھے۔
میرے والد ڈالبندین میں ٹھوکری کا کام کرتا ہے،مجھے بھی پڑھنے کا شوق ہے مگر یہاں سکول نہیں ہے دور ایک اسکول ہے وہاں ٹیچر نہیں ہے۔