منشیات فروش خود کش حملہ آور سے زیادہ خطرناک ،شہریار خان آفریدی

0

- Advertisement -

وفاقی وزیر برائے نارکوٹکس کنٹرول شہر یارخان آفریدی نے کہا ہے کہ دنیا سکڑ چکی ہے اسکی تبا ہی کی بد ترین شکل منشیات ہے، پاکستان منشیات کنٹرول میں صف اول پر کھڑا ہے لیکن پاکستان کی منشیات کے خلاف کاروائی کا بین الاقوامی طور پر اعتراف نہیں کیا جارہا،منشیات فروش خود کش حملہ آور سے زیادہ خطرناک ہے ان کی وجہ سے پورا سماجی نظام تباہ ہورہا ہے۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے انسداد منشیات فورس کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ وفاقی وزیر برائے نارکوٹکس کنٹرول شہر یارخان آفریدی نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب اور اقوام متحدہ کا چارٹر انسانیت پر زور دیتا ہے بلکہ پا کستان بھی اس سلسلے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرر رہا ہے انہوں نے کہا کہ منشیات کا زہر نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہےدنیا کی تبا ہی کی بد ترین شکل منشیات ہی ہے بد قسمتی سے اس وقت پو ری دنیا کی85فیصد منشیات ہما رے ہمسائیہ ملک افغانستان میں پیدا ہوتی ہے ، بین لاقوامی برادری افغانستان میں منشیات کی روک تھام کیلئے کام کرے، پاکستان منشیات کنٹرول میں صف اول پر کھڑا ہے لیکن پاکستان کی منشیات کے خلاف کاروائی کا بین الاقوامی طور پر اعتراف نہیں کیا جارہا،انہو نے کہا کہ پاکستان کا 26سوکلو میٹر طویل سرحد ہے، یہاں اے این ایف کے صرف 29 تھانے ہیں لیکن اس کے با و جو د ہم ملک اور دنیا کو منشیات کی لعنت سے چھٹکا رہ دلا نے کے لئے جہاد کر رہے ہیںانہوں نے کہا کہ ،بیرونی دنیا غیر قانونی انسانی سمگلنگ تو روکتی ہے لیکن انسداد منشیات پر خا طر خواہ توجہ نہیں دی جا تی بین القوامی دنیا کو اس سنگین خطرے سے نمٹنے کے لئے کر دار ادا کر نا ہو گا ،انہوں نے کہا کہ منشیات فروش خود کش حملہ آور سے زیادہ خطرناک ہے ان کی وجہ سے پورا سماجی نظام تباہ ہورہا ہے ، حکومت سرحد پر باڑ لگا کر ملک کومنشیات اور دہشگردی سے پاک کررہی ہے ، منشیات پھیلانے والوں کو نشان عبرت بنادینے کا عزم ہے،اس وقت 29سو کی نفری کے ساتھ منشیات کے خلاف جہاد کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پا کستان میںمنشیات بر آمد گی کے الزام میں پکڑے جانے والے ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے اس بارے سخت قانون نا گزیر ہے بلکہ قوم کو نشے کی لعنت سے بچانے کیلئے متحد ہونا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ والدین کی زمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کا خیال رکھیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.