اٹارنی جنرل آف پاکستان کو اختیار نہیں وفاقی وزیر قانون کو بھیجے گئے شوکاز نوٹس کو معطل کریں، سید امجد شاہ

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ وفاقی وزیر قانون کو بھیجے گئے شوکاز نوٹس کو معطل کریں ، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے درخواست ہے کہ وہ عہدوں کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں ، 2 جولائی کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں پاکستان بار کونسل کے جنرل باڈی کے میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ سید امجد شاہ ، عابد ساقی و دیگر نے کہا کہ آج کے میٹنگ کے ایجنڈے میں مختلف ایشوز شامل تھیں جن میں اہم ایشو اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کو دیئے گئے شوز کاز نوٹس کی معطلی کا فیصلہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم خان خود ایک وکیل ہے اور پاکستان بار کونسل کے ممبر ہے قانون کے مطابق جو بھی وکیل وزیر بن جائے تو وہ 30 دن کے دوران ہی اپنی لائسنس منسوخ کرواتا ہے اور وہ دوران وزارت بطور وکیل پریکٹس جاری نہیں رکھ سکتا مگر موصوف وزارت کے ساتھ ساتھ پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں جس پر فروغ نسیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنا جواب دے سکے مگر وہ آج حاضر نہیںبلکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے وفاقی وزیر کو جاری کئے گئے شوکاز نوٹس کو معطل کردیا ہے جس کا ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ،وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے درخواست ہے کہ وہ عہدوں کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں اس طرح کے فیصلے ملک کے نقصان دہ ہےں۔ یہ اختیار صرف اور صرف پاکستان بار کونسل کے جنرل باڈی کو حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے وہ یا تو وزارت سنبھالے یا پھر اپنی پریکٹس جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایگزیکٹیو کمیٹی کو یہ اختیار دیدیا کہ وہ فروغ نسیم کو 15 دن کے دوران کسی بھی دن بلائے اور ان سے جواب طلب کرے ۔ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قاضی فائر عیسیٰ ریفرنس اجلاس کا اہم ایجنڈا تھا مذکورہ ریفرنس کا 2جولائی کوسماعت ہے جس کے موقع پر پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کرتی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ ریفرنس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر وکلاءمیں کوئی اختلاف نہیں ہے ملک میں وکلاءکے دو بڑے گروپ ہیں اور دونوں ہی ایک پیج پر ہے تاہم ایک غیر منتخب باڈی بنائی گئی ہے اور میڈیا پر خبریں چلائی گئی کہ وکلاءمیں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ، مذکورہ غیرمنتخب باڈی میں وہی وکلاءشامل ہیں جو سابق چیف جسٹس چودھری افتخار بحالی تحریک کے دوران بھی مخالفت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اس موقع پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ وفاق کے رویہ میں کوئی تبدیل نہیں آئی ہے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے حالات پیدا نہ کئے جائیں کہ ہم خود سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیں ۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل کے جنرل باڈی کو تجویز دی کہ وہ 2 جولائی کی ہڑتال اور احتجاج کے ساتھ ساتھ تحریک کا اعلان کریں اور تحریک کا آغاز بلوچستان سے ہی شروع کیا جائے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close