
- Advertisement -
وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے 21 روزہ صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا ، صفائی مہم کا افتتاح صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن طارق جاوید مینگل نے کیا ۔ اس موقع پر وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپویشن کا کہنا تھا کہ ہمیں میٹروپولیٹن کارپویشن کے عملے پر پورا بھروسہ اور فخر ہے کہ وہ دن رات محنت کرکے کوئٹہ شہر کو صاف ستھرا بنائیں گے ہم 21 روزہ صفائی مہم کے دوران کوئٹہ شہر کے ہر حصے ، گلی اور محلے کو صاف کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی صفائی اور روایتی خوبصورتی کے لئے زندگی سے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ جس علاقے کے لوگوں کو بھی صفائی کے حوالے سے شکایت ہو وہ میٹروپولیٹن کارپویشن کے حکام کو آگاہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور ہمیں گھر ، محلے اور شہر کی صفائی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ۔ بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات ، ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن و دیگرنے جھاڑو لگا کر 21 روزہ صفائی مہم کا افتتاح کردیا ۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن طارق مینگل کا کہنا تھا کہ جہاں تک پلان کا تعلق ہے تو حکومت کی جانب سے ہمیں پلان مل چکا ہے کوئٹہ حکومت کا چہرہ ہے ہمیں وزیراعلیٰ اور وزیربلدیات سمیت دیگر کا مکمل تعاون حاصل ہے ہم کسی سیاسی دباﺅ میں نہیں آئیں گے ۔ خود وزیراعلیٰ اور حکومتی حکام کی جانب سے ہمیں ہدایات ہیں کہ شہر میں صفائی ، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب و دیگر مسائل کے حل کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں ۔ میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ رہ چکا ہوں اور بطور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن چارج لئے ہوئے مجھے ایک ہفتہ ہوچکا ہے اس لئے مجھے کوئٹہ کے شہریوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کا ادراک ہے ۔ جہاں تک سٹریٹ لائٹس کو فعال بنانے کا تعلق ہے تو جناح روڈ پر تمام اسٹریٹ لائٹس کو صحیح کردیا گیا ہے دیگر علاقوں میں بھی سٹریٹ لائٹس کو فعال کرنے کے لئے کوشاں ہیں جہاں تک تجاوزات کا تعلق ہے تو اس صفائی مہم کے افتتاح کے بعد کمشنر کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں تمام متعلقہ محکموں کیسکو ، گیس و دیگر حکام شرکت کررہے ہیں ہم سب مل کر بلوچستان ہائی کورٹ اور صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایات کی روشنی میں کوئٹہ شہر سے تجاوزات کا خاتمہ کریںگے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن جو صفائی مہم شروع کی گئی ہے اس پر کوئی اضافی فنڈز خرچ نہیں کئے جارہے بلکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مستقل اور عارضی ملازمین اور دستیاب مشینری کو بروئے کار لایا جارہا ہے ۔ پیسے کی نہیں وِل کی ضرورت ہے ۔ وِل ہوگی تو کوئٹہ کے مسائل کو حل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے ملازمین کے احتجاج سے متعلق پوچھے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں تربیت کی احتجاج کو سنبھالنے کی دی جاتی ہے پہلے احتجاج کو سڑکوں پر روکتے تھے ۔ احتجاج کی وجوہات ہوتی ہیں کسی بھی مسئلے کو سو فیصد حل کرنا یقینی نہیں ہوا کرتا ۔ ہم مظاہرین کو بٹھا کر بات چیت کے ذریعے روکنے کی کوشش کریں گے بلکہ ہم حالیہ احتجاج میں بھی صوبائی وزیر بلدیات سے مشورے کے بعد بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اور ملازمین کو احتجاج سے روکا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وزیراعلیٰ اور وزیر بلدیات کی جانب سے جو گائیڈ لائن مل رہی ہے اس کے بعد ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ ہم شہر کے لئے کچھ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی پوری ٹیم اب سڑکوں پر ہوگی اور وہ سروے کرکے ہمیں بتائے گی کہ کہاں کہاں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ ہم نے ملبہ ٹیکس لگادیا ہے اس کے باوجود بھی سڑکیں بند ہیں اس چیز کو سمجھنے کے لئے آج سے ہی سروے شروع ہے جیسے ہی سروے مکمل ہوتی ہے تو ہم دیکھیں گے کہ کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ تجاوزات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس کے مختلف کیٹیگریز ہیں شوروم ، ریڑھیاں اور غیر قانونی تعمیرات تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں اس سلسلے میں ہم بہت زیادہ کام بھی کرچکے ہیں ۔ شوروم سیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ شورومز کو متبادل جگہ دینا ہوگی کیونکہ شورومز سے وابستہ افراد اپنے بھائی اور اسی شہر کے شہری ہے ۔ ایک متبادل جگہ اور طریقہ ڈھونڈ کر شورومز سے جان خلاصی کرنا ہوگی ۔ تمام قسم کے تجاوزات اور ان کی نوعیت اور نیچر کے مطابق ٹیکل کرنے کی ضرورت ہے۔