- Advertisement -
ذرا جرآت کے ساتھ
میر اسلم رند
کوئٹہ شہر میں بچوں کے اسپتال CHQ کو سرکاری تحویل میں لینے کی گناونی سازش جاری ھے
کوئٹہ شہر میں جرمن حکومت کی طرف سے بنایا گیا بچوں کے اسپتال کو محکمہ صحت کے کچھ لوگ سکاری تحویل میں لے کر سول اسپتال یا بولان میڈیکل کالج کی طرح تباہی کی طرف لیجانا چہاتے ہیں ؟؟آج سے 20 سال پہلے جرمن حکومت نے کوئٹہ شہر میں بچوں کے لئے ایک بہتریں اسپتال بنایا جس میں اسپتال کے علاوہ بچوں کے علاج کے لئے بہتریں مشینری مہیا کی گئی اور اسے کچھ عرصہ چلانے کے بعد ایک کمپنی کے نام سے رجسٹرڈ کیا گیا جس میں 8 بورڈ آف داریکٹر اور کئی ایگزیکٹیوں ممبران شامل کئے گئے بورڈ آف ڈاریکٹرز میں سیکٹری خزانہ و سیکٹری صحت کے علاوہ 6 الیکٹڈ ممبران شامل ہوتے ہیں جن کو ایگزیٹیوں ممبران ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں یہ بورڈ آف ڈاریکٹر کے ممبران و ایگزیکٹیوں ممبران گزشتہ 20 سال سے اس بچوں کے اسپتال کو اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں جہاں پے 24 گھنٹے نو مولود بچوں کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں کے نسبت نہایت ہی سستا اور کم ریٹ پے کیا جاتا ھے جس کے صفائی اور انتظامیہ کا معیار شہر کے تمام اسپتالوں سے بہتر ھے اس کا سالانہ بجٹ تقریبا 11 کروڑ روپے ہیں جس کا 95 فیصد یہ اسپتال اپنی مدد آپ کے تحت پورا کرتا ھے اور 5 فیصد ایڈ اسے حکومت بکوچستان مہیا کرتی ھے کیونکہ جب اس اسپتال کو شروع کیا گیا تو کئی ملازمین کو سیاسی بندر بانٹ کے تحت بھرتی کیا گیا تھا ان ملازمین کو ماھانہ 80 لاکھ روپے تنخواوں کی مد میں ادا کیا جاتا ھے اسی وجہ سے اسپتال کو سالانہ 3 کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ھے گزشتہ 3 ماہ قبل بلوچستان ھائی کورٹ کے جج محترم جسٹس جمال مندوخیل صاحب نے اسپتال کا وزٹ کیا اور اسپتال کا معیار اور صفائی دیکھ کر کافی خوشی کا اظہار کیا اسپتال انتظامیہ نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے اسپتال کے مثائل سے آگاہ کیا جناب جسٹس جمال مندوخیل صاحب نے اسپتال کے ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت کو نئے مشینری اور بچوں کے فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرنے والے ڈاکٹر مہیا کرنے کی ھدایت کی تھی لیکن تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود محکمہ صحت نے کوئی سہولیات مہیا نہیں کی اسی سلسلے میں گزشتہ روز ھائی کورٹ نے بورڈ آف ڈاریکٹرز کے تمام ممبران کو طلب کیا تھا وہاں پے محکمہ صحت کے آفسران کا ڈیمانڈ تھا کہ CHQ اسپتال کو محکمہ صحت کے انڈر کیا جائے ،، میرے اپنے ان بھائیوں سے ایک گزارش ھے کیا آپ لوگ CHQ اسپتال کو بھی سول یا بی ایم سی کی طرح بنانا چہاتے ہیں جن کے وارڈز کی گندگی والی ویڈیوز روزانہ شوشل میڈیا میں شیئر ہوتی رہتی ھے کیا سرکاری اسپتال میں کوئی سینئر ڈاکٹر ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتا ھے؟؟اگر ہمارے سرکاری اسپتال اتنے اچھے ہوتے ؟؟تو شہر کے ہر روڈ پے ایک پرائیویٹ اسپتال نہ بنتا ؟؟تمام سینئر ڈاکٹر روزانہ 200 مریضوں کو چیک نہ کرتے ؟؟۔۔میری اپنے وزیر اعلی چیف سیکٹری بلوچستان ۔وزیر صحت سیکٹری صحت سے اور عوام سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے اچھے اسپتال کو تباہی کی طرف نہ دکھیلے اس میں ھم سب کا نقصان ھے چند افراد کے مفادات کے لئے اس شہر کے لئے دیئے گئے تحفے کو برباد نہ کر نے دیں ۔۔امید ھے اس کوئٹہ سے ہمدردی رکھنے والے تمام شہری اس کام میں ہمارا ساتھ دیں گے اس اچھے اسپتال کو تباہی سے بچائیں گے۔