کوئٹہ :سحری ، افطاری اور تراویح کے اوقات کار میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی

0

- Advertisement -

کیسکو چیف عطاءاللہ بھٹہ نے کہا ہے کہ ماہ رمضان میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں سحری ، افطاراور تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ، کوئٹہ شہر میں 27 فیڈروں پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی جبکہ 20 پر ایک سے 3 گھنٹے ، 16 فےڈروں پر 5گھنٹے ، 16 پر ساڑھے 6 جبکہ 4 فےڈروں پر ساڑھے 7 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں ماہ رمضان کے موقع پر عوام کو ریلیف دینے بارے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں صوبہ میں موجود تمام زرعی اور دیہی فیڈروں کو طے شدہ معاہدے کے مطابق بجلی فراہم کی جائے گی اس دوران کچھ زرعی فیڈروں کو افطار کے وقت جبکہ بعض کو سحری کے اوقات میں بجلی کی فراہمی کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ کوئٹہ سے باہر صوبہ بھر میں 4سو 22 فیڈرز موجود جن میں سے 3 سو 10 فیڈروں کو لوڈ مینجمنٹ کے لئے 3 حصہ میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے سو فیڈرز کو سحری کے وقت جبکہ سو کو افطاری کے وقت بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ دیگر فیڈروں پر غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے بے تحاشا لوڈ کی وجہ سے مختلف اوقات کار میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں سحری ، افطاری اور تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ، کوئٹہ شہر میں 27 فیڈروں پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی جبکہ 20 پر ایک سے 3 گھنٹے ، 16 فےڈروں پر 5گھنٹے ، 16 پر ساڑھے 6 جبکہ 4 فےڈروں پر ساڑھے 7 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جائے گی ۔ اس وقت صوبے کی برقی طلب 18 سو میگاواٹ کے قریب ہے جبکہ 24 گھنٹے کے دوران اوسطاً 8سو سے ہزار میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے جس کےلئے نیشنل پاور سینٹر ہزار سے 12سو میگاواٹ تک کا کوٹہ کیسکو کو دیتا ہے ۔جن دیہی اور زرعی فیڈروں پر غیر قانونی اور بے تحاشا لوڈ کی وجہ سے ترسیلی نظام میں بجلی کی مسلسل تقسیم تکنیکی وجوہات کی بناءپر ممکن نہیں وہاں سحری اور افطار کے اوقات میں لوڈمینجمنٹ کی جائے گی ۔ فیڈرز پر انتظامی ، تیکنیکی نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے رمضان المبارک کے مہینے میں وزارت توانائی کے احکامات کی روشنی میں لوڈمینجمنٹ کی جائے گی ۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ سحری ، افطار اور تراویح کے اوقات میں تمام غیر ضروری برقی آلات بند کرنے کے علاوہ صرف ضرورت کے مطابق بجلی استعمال کرےں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسکو کے بجلی واجبات مارچ 2019تک مجموری طور پر 2 سو 99 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں مذکورہ رقم میں سے صرف زرعی صارفین کے ذمہ تقریباً 2سو 11 ارب روپے زائد بقایا جات واجب الادا ہے اس کے علاوہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کی رقم بھی زرعی سیکرٹری کے بقایاجات میں شامل ہیں ۔ صوبائی حکومت اور اس کے ذیلی محکموں کے ذمہ تقریباً 27 ارب روپے میں سے 3 ارب 50کروڑ روپے باہمی مشاورت کے بعد طے شدہ رقم واجب الادا ہے جبکہ وفاقی حکومت کے ذیلی محکموں کےذمہ 3 ارب روپے بقایاجات واجب الادا ہے ۔ گھریلو ، کمرشل ، انڈسٹریل اور دیگر صارفین کے ذمہ مجموعی طور پر 14 ارب روپے کے بقایاجات واجب الادا ہے ۔ کیسکو بجلی خریدنے اور بیچنے والی ایک کمپنی ہے لہذا بغیر ادائیگی کے کسی بھی صارف کو بجلی کی فراہمی نہیں کرسکتی ۔ صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کیسکو خریدی گئی بجلی کی بروقت ادائیگی کرے جو صرف اور صرف تمام صارفین کی جانب سے بلوں کی بروقت ادائیگی کی صورت میں ممکن ہے ۔ کیسکو اپنے تمام صارفین خصوصاً زرعی صارفین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے بل مقررہ وقت پر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ذمہ تمام واجب الادا بقایاجات بھی فوری کریں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.