
- Advertisement -
راسکوہ ادبی دیوان نوشکی بلوچستان کے زیراہتمام بلوچستان کے نامور دانشور ادیب اور محقق پروفیسر عبداللہ جمالدینی کی یاد میں ایک روزہ سیمینار اور صوبائی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ۔تقریب سے قومی اسمبلی کے ممبر حاجی محمد ہاشم نوتیزی ڈاکٹر شاہ کمال پروفیسر شریف میر پروفیسر محمد یوسف مینگل پروفیسر غلام دستگیر صابر اسد بلوچ ملک اکرم مینگل آزاد جمالدینی عابد سلام میر عطا اللہ مینگل اور دیگر نے خطاب اور مقالے پیش کئے ۔مقررین نے کہا کہ پروفیسر عبداللہ جان جمالدینی جدید بلوچی ادیب اور سیاست کے سر خیل تھے۔انھوں نے کہا کہ نوشکی اس لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ اس سرزمین نے میرگل خان نصیر آزاد جمالدینی میر عاقل خان مینگل خلیفہ گل محمد نوشکی گودی گوہر ملک عبداللہ جان جمالدینی جیسی نامور سیاسی علمی اور ادبی شخصیات کو جنم دیا ہے۔آج بھی علم و ادب کے حوالے سے انتہائی زرخیز ہے۔آج بھی راسکوہ ادبی دیوان کا ادبی کردار تاریخی ہے۔ایم۔این۔اے حاجی محمد ہاشم نوتیزی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی اس علمی و ادبی تقریب نے گل خان نصیر اور آزاد جمالدینی کی یاد تازہ کردی۔انھوں نے کہا کہ ہماری پارٹی سیاست کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی تنظیموں کے کردار کو سراہتی ہے۔شاعر اور ادیب بہترین معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ہماری پارٹی شاعروں ادیبوں اور ادبی حلقوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریگی۔بین اللسانی صوبائی مشاعرےمیں براہوی زبان کے بزرگ شاعر شہنشاہ غزل اسحاق سوز سمیت بلوچستان کے کے مختلف علاقوں کے نامور شعرا نے شرکت کی۔