ملک لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنا دیں گے، وزیراعظم عمران خان

- Advertisement -
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نوجوان طبقے بالخصوص انجینئرز پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم نوجوانوں کو اپنا کاروبار کرنے کیلئے مواقع فراہم کررہاہے تاکہ وہ سرکاری نوکری کی بجائے خود کا کاروبارکرسکیں ،پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ غریب وکمزور طبقے کے سر پرچھت کانہ ہوناہے ،پہلے برگیڈیئر اور کمشنر تنخواہ میں 70تولے سونا خرید سکتے تھے لیکن آج تنخواہ دار اپنے لئے سر پر چھت نہیں بناسکتا،حکمرانوں نے 10سالوں میں جس بے دردی سے ملک کو لوٹاہے ہمیں دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں ہے ،ملک لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنا دیں گے تاکہ کوئی اقتدار میں آکر کرپشن نہ کرے،نوازشریف اور زرداری نے پیسہ لوٹ کر باہر بھیجا، ہمارا مسئلہ ڈاکوں ہیں جو باربار اوپر آجاتے ہیں، ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر گورنربلوچستان جسٹس(ر)امان اللہ یاسین زئی ،وزیراعلیٰ جام کمال خان ،وفاقی وزیر ہاﺅسنگ چوہدری طارق بشیر چیمہ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری ،وفاقی وزراءزبیدہ جلال ، ،سید علی حیدر زیدی ،اسپیشل اسسٹنٹ سید ذوالفقار عباس بخاری ،سرداریارمحمدرند،صوبائی وزراءمیرضیاءاللہ لانگو، حاجی محمد خان لہڑی ،میر سلیم کھوسہ ،ظہیوراحمد بلیدی ،حاجی نورمحمددمڑ،ملک نعیم خان بازئی ،بشریٰ رند ،بلال احمد کاکڑ،سینیٹرانوارالحق کاکڑ،اراکین صوبائی اسمبلی ،چیف سیکرٹری بلوچستان ڈاکٹرنذیراختر ،ایڈمنسٹریٹرمیر فاروق لانگوسمیت طلباءوطالبات کی بڑی تعداد موجود تھیں ۔عمران خان نے کہاکہ کہاجاتاتھاکہ بیوروکریٹ کام نہیں کرتے لیکن عمران زیب سب کے سامنے ہیں اسی طرح وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ کا خطاب ویسے ان کاتعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے لیکن ان کی خطاب میں تحریک انصاف کی جنون نظرآرہی تھی ،انہوں نے کہاکہ آج مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا جو مستقبل ہے ان سے مخاطب ہوں جو یونیورسٹی کے طلباءہیں ،50لاکھ گھروں کی تعمیر کاجومنصوبہ بنایاہے ،انہوں نے کہاکہ عام آدمی کی سب سے زیادہ ضرورت سرپرچھت کی ہے پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہاں آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ گھر بناسکتے ہیں ،تنخواہ دار طبقہ کی کرپشن کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں گھرتعمیر نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک انسان کی ضرورت ہے وہ چاہتاہے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیں ،ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس رہنے کیلئے گھر ہوں ،انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تنخواہ دار طبقے کیلئے گزارہ کرنامشکل ہوتا گیا،زمینوں کی قیمتیں بڑھتی گئی لیکن تنخواہوں میں اتنا اضافہ نہیں ہواکہ وہ گھر بناسکیں ،انہوں نے کہاکہ 1935ءمیں ایک بریگیڈیئر اور ایک کمشنر اپنے ایک مہینے کی تنخواہ میں 72تولہ سونا خرید سکتاتھا انہوں نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب پاکستان بنا تو ان کے والد سرکاری نوکری کرتے تھے جو انجینئر تھے وہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ میں گاڑی لے سکتے تھے لیکن آج کے حالات اس کے برعکس ہیں تنخواہ دار طبقے کیلئے صورتحال مشکل بنتاجارہاہے ،انہوں نے کہاکہ 50لاکھ گھر بنانا بہت بڑا خواب ہے یہ ان کیلئے جو بالکل غریب ہیں اور گھر نہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے بڑی تیاری کی آج یہاں تک پہنچے کیلئے بہت سے مشکلات سے ہوکر آئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ یورپ میں کئی جگہیں ایسے ہیں جہاں 80سے 90فیصد لوگ بینکوں سے قرضہ لیکر گھروں کی تعمیر کرتے ہیں ،ملائیشیاءمیں 30،بھارت میں 10 لیکن پاکستان میں اس کی ریشو0.2فیصد ہیں یہاں کوئی بینک سے گھر بنانے کیلئے قرضہ ہی نہیں لے سکتے اس سلسلے میں قانون لارہے ہیں تاکہ آسانی سے ایک آدمی گھر بنانے کیلئے قرضہ لے سکیں ،اسٹیٹ بینک نے قرضوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ قرض فراہم کریں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کررہے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ 50لاکھ گھر نہیں بن سکتے انشاءاللہ 5سال کے بعد 50لاکھ سے ہوسکتاہے زیادہ گھر بنیں ،انہوں نے کہاکہ سنتے ہیں کہ پاکستانی بینکوں میں پیسہ نہیں ہے ،ملائیشیاء،چین ،برطانیہ سے کمپنیاں ہاﺅسنگ اسکیم میں انویسٹ کرناچاہتی ہیں ،ہاﺅسنگ اسکیم سے نوجوان انجینئرز کو موقع ملے گاانہیں چاہےے کہ وہ اپنی کمپنیاں کھول لیں کیونکہ اتنے سارے گھروں کی تعمیر ایک یا دو پرائیویٹ کمپنیاں نہیں کرسکتی نوجوانوں کو موقع مل رہاہے کہ وہ اپنی کنسٹرکشن کمپنیاں بنائیں اور اپنا بزنس بنائیں ،انہوں نے کہاکہ جیسے طارق بشیر چیمہ نے کہاکہ 40انڈسٹریز ہاﺅسنگ کی وجہ سے چلنا شروع ہوجاتی ہیں ،نوجوانوں کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ اپنابزنس کریں بجائے کہ وہ سرکاری نوکری کیلئے انتظار کریں ،انہوں نے کہاکہ ایک ملک اس وقت چلتاہے جب اس میں بزنس چلتاہوں انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ میں پہلی مرتبہ کرکٹ میچ کھیلنے آیاتھا مجھے یاد ہے کہ اس وقت کوئٹہ کیا تھا اور آج کیاہے ،انہوں نے زوردیتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کیلئے ماسٹر پلان بنانا بڑا ضروری ہے ورنہ شہر پھیلتاجائے گاپھر اس کا سیوریج سسٹم ٹھیک ہوسکے گا اور نہ ہی پانی فراہم کرسکیںگے کوئٹہ کو پھیلنے کی بجائے لوگوں کو موقع دیں کہ وہ اوپر جائیں ،مختلف شہروں میں شہروں کو پھیلنے کی بجائے بڑے بڑے بلڈنگز بنائیں ،انہوں نے کہاکہ میرا فلسفہ یہ ہے کہ ہماری حکومت دوسروں سے مختلف کس طرح ہے؟ انہوں نے کہاکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کی ریاست ہر مسلمان کیلئے ماڈل ہے ،سرکار مدینہ نے ایک ایسا ماڈل بنایا جس نے 7سوسال تک مسلمانوں کی سویلائزیشن سب سے عظیم تھا جب مسلمان ایک عظیم قوم بنی تھی تووہ ریاست مدینہ کا ماڈل تھا ،انہوں نے کہاکہ ہمارے نبیﷺ نے کیا پرنسپلز بنائے تھے جس کی وجہ سے وہ قوم بڑی کھڑی ہوگئی ،انہوں نے کہاکہ تاریخ کاحصہ ہے کہ رومن ایمپائر اس لئے گرا کہ ایک انسان آتاہے جو انقلاب لے آتاہے اور سپرپاورز گر جاتے ہیں ،بانی پاکستان نے کہاتھاکہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست ہے ،ہمیں اپنے کمزور طبقے کو اٹھاناہے ،پاکستان 70سالوں میں صرف پیسے والوں کیلئے تعلیم ،صحت کی سہولیات صرف پیسوں والوں کیلئے ہیں انہوں نے کہاکہ پہلی دفعہ پاکستان میں بڑے ڈاکوﺅں پر ہاتھ ڈالاجارہاہے ورنہ اس سے پہلے تو صرف غریب جیل جاتاتھا ،انہوں نے کہاکہ میں نے بھی جنرل مشرف کے دور میں7دن جیل میں گزارے ہیں جہاں صرف غریب تھے لیکن کوئی امیر نہیں تھا وہ صرف اسمبلیوں میں نظر آتے تھے ،نبی ﷺ نے کہاکہ آپ سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں جہاں ایک قانون طاقت اور دوسرا کمزور کیلئے تھا اگر کوئی کہے کہ پاکستان ایک عظیم ملک نہیں بن سکا تو میں کہوں کہ ملک میں دوقانون کی وجہ سے یہ ملک عظیم نہیں بن سکا،انہوں نے کہاکہ طاقت ملک لوٹ لےں اور نظرآئے کہ انہوں نے چوری کی پہلے موٹرسائیکل چلاتاتھا اور اب لینڈکروزرز رکھتے ہیں وہ بڑے بڑے وکیل ہائیرکرتے ہیں غریب جس جرم میں جیل میں ڈالاجاتاہے وہ 5ماہ کی بجائے 5سے 6سال سزاکاٹتاہے ،انشاءاللہ ہم ثابت کریںگے کہ اس وقت یہ ملک ترقی کریگا جب کمزور طبقے کو تعلیم اوردیگرسہولیات سمیت انہیں انصاف کی فراہمی ہے ،انہوں نے کہاکہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ہمیں ان علاقوں کو ترقی یافتہ بناناہے ،یہ ہماری ذمہ داری ہے ،انہوں نے کہاکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی 2حصوں میں تقسیم ہوگئی ایسٹ جرمنی پیچھے رہ گئی جبکہ ویسٹ جرمنی آگے بڑھ گئی 50سال کے بعد دونوں اکھٹا ہوگیا ترقیافتہ جرمنی نے اپنے پیسے پسماندہ جرمنی پرخرچ کئے ایسے قومیں بنتی ہیں طاقت اور کمزور میں فرق سے قومیں نہیں بنتی ،انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کو آگے لاناہے ،اس سے پہلے حکمرانوں کو بلوچستان کی پرواہ ہی نہیں تھی اگر میں سمجھو کہ مجھے بلوچستان کے ووٹوں کی ضرورت نہیں تو میں پرواہ نہیں کروںگا لیکن اگر میں یہ سمجھوں کہ میں اللہ کو جواب دہ ہوں تب میں بلوچستان پر توجہ دوں گا انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ،بلوچستان کو دیکھاہے اور یہاں کے مسائل وپسماندگی کاپتہ ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے اپنا کرداراداکریگی ،انہوں نے کہاکہ لوگ کہتے ہیں میں پرانی باتیں نہ کروں اگر میں پرانی باتیں نہ کروں تو میرا موازنہ کیسے ہو گا کہ میں بہتر ملک چھوڑ کے گیا ہوں کہ نہیں ؟جب چار پانچ سال کے بعد ہماری حکومت جائے گی تو دیکھیں گے کہ کیا ہم 2018کے مقابلہ میں قرضے کم کر کے گئے ہیں یا زیادہ کر کے گئے ہیں،ان دوحکومتوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیاہے دشمن بھی نہ کرے ،2008 ءمیں اس ملک کاقرضہ 6ہزار ارب روپے تھا لیکن 2018ءمیں 6ہزار سے 30ہزار ارب روپے قرضہ تک پہنچ گیاہے ،دونوں حکومتیں گزشتہ 10سال میں ملک کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے سے 30ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا ہے، کوئی دشمن یہ نہ کرے ۔آج 4500ارب روپے سارا ٹیکس کا پیسہ اکٹھا ہوتا ہے اس میں سے دو ہزار روپیہ صرف قرضوں کی قسطوں میں چلا جاتا ہے جو ماضی کی حکومتوں نے قرضے لئے ہوئے ہیں۔ جو انہوں نے ملک کو لوٹ کر مقروض کیا ان کے قرضوں کی قسطیں ادا کرنی ہیں اور باقی 2500 ار ب روپے ہم صوبوں کو دے دیتے ہیں ، 1700ارب روپے سیکیورٹی کے لئے لگ جاتا ہے اور وفاقی حکومت 700 ارب کے خسارے سے کام شروع کرتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ یہ قرضے اتر جائیں گے اور یہ میں بتاﺅں گا کہ قرضے کیسے اتر جائیں گے۔باہر سے جو سرمایا کاری آرہی ہے اور جو ہم ایکسپورٹس بڑھا رہے ہیں اس سے ملک اٹھ جائے گا لیکن تھوڑی دیر کے لئے ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور گزریں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک مریض کو کینسر ہوئی ہو اور آپ آپریشن کر کے کینسر نکالیں اور مریض کو درد ہی نہ ہو، وہ تکلیف سے گزرتا ہے تاہم وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ انہوں نے طلباءکے نام پیغام میں کہاکہ انسان جب زندگی میں اوپر جاتاہے تو اس میں ایک خاصیت ہوتی ہے کہ وہ برے وقت کاسامناکرتاہے کسی نے بھی مشکل وقت کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی ،میں نے خود جب کرکٹ کھیلنا شروع کی تو مجھے طنز کاسامنا کرناپڑتا ،جب پہلا میچ کھیلا تو ٹیم سے نکال دیاگیا 4سال سال لگے ٹیم میں واپس آنے کیلئے ،انہوں نے کہاکہ کینسر ہسپتال بنانے کیلئے گیا تو لوگوں نے کہاکہ یہ جھوٹ بول رہاہے اور میرا مذاق اڑاتے رہے ،انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی بنانے گیا تو لوگوں نے کہاکہ دیہات میں پرائیویٹ سیکٹر کی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے سیاست میں بھی 10سال تک میرا مذاق اڑایاگیالوگوں نے کہاکہ 2پارٹی سسٹم ہے تیسری پارٹی نہیں آسکتی اور پھر کہاکہ جیت نہیں سکتا اورآج جب وزیراعظم بن گیاہوں تو کہتے ہیں ملک بن گیا ب چلے گا نہیںکینسر ہسپتال بنانے کیلئے18,18گھنٹے کام کیا 24سال ہوگئے ہیں دنیا میں واحد کینسر ہسپتال ہے جو75فیصد مریضوں کا مفت علاج کرتاہے انہوں نے کہاکہ اللہ نے جتنا اس ملک کونوازا ہے کسی کو نہیں دیاہے آج باہر چائنا،ترک ،ملاائیشیا،سعودی ،یو اے ای سے انویسٹرز آرہے ہیں ،کسی فیکٹری پر ڈاکو کو بیٹھایاجائے تو وہ بند ہوجاتی ہے لیکن اگرملک ڈاکو چلانے کیلئے دیدی جائیں تو کیسے چلے گا، 10سالوں نے جن حکمرانوں نے قرضہ چڑھایا ہو تو آپ کو دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے ان کو لوگوں کیلئے عبرتناک بنانا ہے تاکہ لوگ ڈریں کہہ اوپر آکر کرپشن نہیں کرنی۔عمران خان نے مزید کہا کہ نوازشریف اور زرداری نے پیسہ لوٹ کر باہر بھیجا، شریف خاندان، زرداری خاندان اور اومنی گروپ نے سارا پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر بھیج دیا ہے۔ہمیں ہر روز نئی چیز مل رہی ہے، اسی لئے یہ ڈرے ہوئے ہیں اور روز کہتے ہیں عمران خان کی حکومت کو گراﺅ،نہیں تو ہم ساروں جیلوں میں چلے جانا ہے۔ ان دو جماعتوں نے جو ملک کے ساتھ کیاوہ کسی نے نہیں کیا۔انہوں نے کہا فضل الرحمن کی سیاست میں مثال کرکٹ کے بارہویں کھلاڑی کی ہے، جب سے مولانا فضل الرحمان کی وکٹ الیکشن میں گری ہے تب سے وہ انتظار کر رہا ہے کہ نہ میں خود کھیل رہا ہوں اور باقیوں کو بھی نہ کھیلنے دوں اور ہرروز کہتا ہے میں 10لاکھ لوگ اسلام آباد لے آﺅں گا ۔انہوں نے کہاکہ خوشی ہے کہ ایک لاکھ 10ہزار گھروں کی تعمیر کامنصوبہ شروع کیاہے اور اس سلسلے میں ماہی گیروں کیلئے سب سے زیادہ گھروں کی تعمیر ہوگی ۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ہزارگنجی بم دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات کی اس موقع پر شہداءکی درجات بلندی کیلئے دعا بھی کی گئی ۔