سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی تعیناتی کو زیر غور لانا قابل افسوس ہے،امان اللہ کنرانی

- Advertisement -
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میںلاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی تعیناتی کو زیر غور لانا قابل افسوس ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ میرٹ پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کی تقرری عمل میں لائی جائے ، 19 ویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تعیناتی کے اختلافات میں پارلیمنٹ اور وکلاءکا کردار نمائشی ہے اس لئے اس میں پارلیمنٹ ترمیم کرے ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اپریل میں قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران ، سپریم کورٹ کے سابق ججز اور بار کونسلز کے صدور کو مدعو کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ہوا جس میں 4 اپریل کو سپریم کورٹ میں جج کی خالی آسامی کے معاملے پر غور ہوا اور سپریم کورٹ میں جج کی خالی آسامی کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج قاضی محمد امین کے نام کو زیر غور لانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے 1996 کے الجہاد کیس کے فیصلے میں واضح طور پر سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کے لئے 5 سالہ بطور جج تجربہ لازمی ہے اس کے علاوہ ہائی کورٹ کا سینئر ترین جج یا پھر سینئر اور قابل وکیل کی تقرری کی جاسکتی ہے مگر موصوف کے پاس نہ تو جج کا 5 سالہ تجربہ ہے اور نہ ہی وہ قابل اور سینئر وکیل ہے بلکہ وہ 25 اپریل کو ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ، اگر وہ ریٹائرڈ نہ بھی ہوتے تو ان کا سینارٹی کے حساب سے 12 واںیا پھر 13واں نمبر ہوتا اس لئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے لئے درکار شرائط پر پورا نہیں اترتے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ انتہائی قابل ،ایمانداراور بااعتماد جج ہے جس سے قاضی محمد امین جیسے شخصیت کی تقرری کی توقع نہیں کی جاسکتی، اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے ایک غلط مثال قائم ہوگااور نہ صرف یہ سپریم کورٹ کی عظمت اور وقار پر ایک دبہ تصور کیا جائے گا بلکہ سپریم کورٹ کے اپنے ہی فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی لہذا قاضی محمد امین کی نامزدگی کو واپس لے کر میرٹ پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کو تعینات کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آئین سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا حق دیتا ہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لےکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فریق کو اپیل کرنے کا حق دیا جانا چاہےے ، فریق کواپیل کا حق نہ دینا آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ 19ویں آئینی ترمیم میں مزید ترمیم کی جائے کیونکہ 19 ویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار ہے مگر مذکورہ ترمیم میں ججز کی تعیناتی کے اختیارات عدلیہ کو دیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے منظور نظر افراد کی بطور ججز تعیناتی کی جاتی ہے ، ججز کی تعیناتی میں پارلیمنٹ اور وکلاءکا کردار نمائشی ہے اس لئے پارلیمنٹ کو 19 آئینی ترمیم میں تبدیلی کرکے بار کونسلز اور پارلیمنٹ کو بھی اس میں حق دیا جائے تاکہ ججز کی تعیناتی میرٹ اور شفاف طریقے سے کی جاسکے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سینٹ کے انتخابات کی طرح بار کونسل کے لئے بھی ممبران کے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے بار کونسل کے انتخاب کے لئے ممبران کو خریدا جاتا ہے یہ رجحان پنجاب میں زیادہ نظر آتا ہے جس سے یہ طریقہ کار بدنام ہے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ بار کونسل کے ممبران کے لئے انتخاب براہ راست کرایا جائے اور ان کا انتخاب وکلاءالیکٹورل کے ذریعے کرایا جائے تاکہ وکلاءاپنے نمائندوں کا براہ راست انتخاب کریں ۔ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اپریل میں قومی سمینار کا انعقاد کرائی گی جس میں سیاسی پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈران ، سپریم کورٹ کے سابق ججز ، وکلاءنمائندوں اور ہائی کورٹس کے بار کونسلز کے صدور کو دعوت دیں گے اور انہیں مشورے دیں گے جہاں قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے انہیں اس سے آگاہ کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ میں ایک اور ایشو کو باامرمجبوری آج اٹھانا چارہا ہو جو نہیں اٹھانی چاہےے وہ یہ کہ جب ہم نے قومی ایشور کو اٹھایا تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹیو کے کل 23میں سے 10 ارکان نے اختلاف کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں صرف وکلاءکی فلاح کے لئے کام کرنا چاہےے مگر 13 ارکان قومی ایشوز کو اٹھانے کے حق میں تھے۔ مذکورہ 10 ارکان نے اجلاس میں شرکت کی بجائے الگ اجلاسز شروع کئے جس کے باعث سیکرٹری اور سیکرٹری فنانس کے مذکورہ اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے اور مداخلت پر ان کے اختیارات کو معطل کردیا گیا ہے ۔