بلوچستان:ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد اب 5 ہزار سے تجاوز کرچکا

0

- Advertisement -

پراونشل ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کے پروگرام منیجر ڈاکٹر افضل خان زرکون نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کو کنٹرول کرنا اب پہلے سے زیادہ ضروری ھوچکا ھے۔کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد اب 5 ھزار سے تجاوز کرچکا ھے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کے تحت منعقدہ علما سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔سیمینار میں علما کرام اور مذہبی سکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ڈاکٹر افضل زرکون نے کہا کہ بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام اکیلے اور محدود وسائل میں اس لاعلاج اور خطرناک مرض کے خلاف کام نہیں کرسکتا ھے ایڈز کا راستہ روکنے کے لئے علما کرام اساتذہ کرام سول سوسائٹی میڈیا اور تمام شعبہ زندگی کو کردار ادا کرنا ھوگا۔ورنہ ایڈز نے بلوچستان میں بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ھے۔اب اس سے نمٹنا ھم سب کی ذمہ داری ھے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز کے خلاف اویرنیس آج بھی کم ھے اور لوگ آج بھی ایڈز کو صرف جنسی تعلق ھی جوڑ رھے ھیں جبکہ حقیقت میں جنسی تعلق کے علاوہ دوسرے ذریعے بھی ایڈز کا موجب ھیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ھوئے ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر محمد حیات رونجھو نے کہا کہ علما کرام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایڈز کے وبا کو روکنے میں اھم کردار ادا کرسکتے ھیں۔علما کرام مساجد اور دیگر مواقع پر لوگوں کو ایڈز سے بچنے اور اسلامی تعلیمات اپنانے کا درس دیں۔ڈاکٹر عطاالرحمن نے اس موقع پر کہا کہ آج کے اس سیشن میں اھم علما کرام تشریف رکھتے ھیں۔اور ضرورت اس امر کی ھے کہ علما کرام اور تمام مذہبی اسکالرز ملکر لوگوں کو ایڈز سے متعلق بتادیں۔بلوچستان جوکہ آبادی کےلحاظ سب سے کم اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ترین صوبہ ھے یہاں 5 ھزار سے زائد لوگوں کا ایڈز میں مبتلا ھونا ایک المیہ اور خطرے کی بات ھے۔حکومت بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے کردار کو موثر بنانے کے لئے وسائل اور فنڈز فراھم کریں۔ڈاکٹر داود خان اچکزئی نے اس موقع پر بلوچستان میں ایڈز سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ صوبے میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 سے زیادہ جبکہ اس وقت 1133 ایڈز سے متاثرہ مریض پروگرام کے ساتھ رجسٹرڈ ھیں۔ کوئٹہ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 824 تربت میں 309 ھے جبکہ ان میں 891 مرد 196 خواتین ھیں۔بلوچستان میں 100 افراد ایڈز کی مرض سے وفات پاچکے ھیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ایڈز کے مریض نشہ کرنے والے افراد میں سےھیں جوکہ سرنج کے ذریعے نشہ لیتے ھیں۔جبکہ جنسی بے راہ روی اور بغیر ٹیسٹ شدہ خون مریض کو لگانے سے بھی پھیل رھا ھے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک لاعلاج مرض ھے اور اس کا علاج محتاط زندگی ھی ھے۔علما کرام سیمینار سے مولانا انوارالحق حقانی سید محمد ھاشم موسوی اور ڈاکٹر ممتاز مگسی نے بھی خطاب کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.