غذائی کمی پاکستان میں ماﺅں اور پانچ سال سے کم عمربچوں کے سروں پر لٹکتی تلوار کی مانند

0

- Advertisement -

غذائی کمی پاکستان میں ماﺅں اور پانچ سال سے کم عمر کے سروں پر لٹکتی تلوار کی مانند ہے ،بہترمنصوبہ بندی کے ذریعے غذائیت کی کمی کے باعث موت کی آغوش میں جانے والے 90فیصد ماﺅں اور بچوں کو بچایاجاسکتاہے ،غذائی کمی ،اس کے اسباب اور اس سے بچاﺅ کے تدابیر کو عصری اور دینی نصاب تعلیم کاحصہ بناناچاہےے بلکہ اس سلسلے میں آگاہی مہم بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر وسابق صوبائی وزیر ریونیو شیخ جعفر خان مندوخیل ، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ ، ڈائریکٹر نیوٹریشن نقیب اللہ نیازی ، چیف نیوٹریشن پلاننگ کمیشن محمد اسلم شاہین ، ڈبلیو ایف پی کے ڈاکٹر آفتاب بھٹی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر اکرام الحق ، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے عمر حیات ودیگر نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں فلاحی تنظیم ہیومن ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن ( HDF) کی جانب سے سکیلنگ اپ نیوٹریشن SUN))پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ بلوچستان کی تعاون سے ”امید سے آگے“ کے نام سے عوامی آگاہی مہم کے آغازکے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ڈی ایف سعید الحسن ، منیجر نعیم گل ، ٹیم لیڈر ژوب اکرام خان ،این سی ایچ ڈی کے رزاق خان ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔تقریب میں غیر سرکاری و فلاحی اداروں کے نمائندوں ، ہیومن ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن ژوب کی ٹیم ممبرز ، ڈاکٹرز ، صحافیوں و دیگر نے بڑی تعداد میں شریک رہی ۔ تقریب کے شرکاءکو سکیلنگ اپ نیوٹریشن (سن) کے محمد اسلام شاہین نے سن جبکہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تنظیم ہیومن ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن نے ایچ ڈی ایف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ بچے کے ابتدائی ہزار دن جن میں ماں کے پیٹ میں 9 مہینے کا عرصہ شامل ہے بچے کی زندگی میں بہت ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، یہی دن بچے کی زندگی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اس دوران بچے کی غذا کا سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہےے کیونکہ جب بچے کو صحت مند غذا ملے گی تب ہی وہ ایک صحت مند معاشرے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکتا ہے ۔اس لئے پورے ملک میں عوامی مہم ”امید سے آگے “ کا آغاز کررہے ہیں جس کا مقصد پہلے 1000 دن میں ماں اور بچے کے بہتر صحت کو فروغ دینا ہے ۔ تقریب سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند بچے کو جنم دینے کے لئے ماں کا صحت مند ہونا ضروری ہے اس لئے حاملہ خواتین کو مناسب غذا کھانا چاہےے تاکہ وہ نہ صرف خود صحت مند ہو بلکہ وہ ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکے کیونکہ صحت مند بچے ہی کسی قوم اور ملک کی ترقی مستقبل میں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ پاکستان میں ہر سال موت کی آغوش میں چلے جانے والے 4 لاکھ سے زائد ماﺅں اور 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں ایک لاکھ 75 ہزار غذائی کمی یا خراب غذا کے باعث ہوتی ہےں جن میں سے 90 فےصد تک کو بچایا جاسکتا ہے ،ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بلوچستان میں ملک کے دیگر صوبوں کی مقابلے میں صورتحال زیادہ گھمبیر ہے ۔ صوبائی حکومت نے پچھلے سال ہی ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے بلکہ فلاحی ادارے سن کے ساتھ مل کر نیوٹریشن سیل قائم کردیا ہے جس کے ذریعے غذائی قلت کے حوالے سے کام کیا جارہا ہے۔ خوراک کی کمی کے باعث بچوں کا قد ان کے عمر مقابلے میں قد کے ساتھ ساتھ دماغ بھی چھوٹا رہ جاتا ہے ، ملک میں غذا کی کمی کے باعث بچوں کی قد میں کمی کی شرح 44 فےصد جبکہ بلوچستان میں 52 فےصد ہے جو کہ خطرناک ہے ،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بھی بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور ماں وبچے کی صحت کیلئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب محکمے صحیح کام نہیں کریں گے تو نظام بہتر نہیں ہوسکتا اس لئے ضروری ہے کہ نظام کو بہتر بنایا جائے، نظام کی بہتری کے لئے نصاب میں پہلی جماعت سے ہی شعور و آگاہی سمیت روحانی اصلاح کاسبجیکٹ شامل کیا جانا چاہےے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف غریب خاندان کے بچے غذائی کمی شکار نہیں بلکہ امیر خاندان کے بچے بھی اس کا شکار ہوتے ہیں اس کی اہم وجہ غذا کی کمی نہیں بلکہ خراب غذا کا کھانا ہے اس لئے بچوں کو غذائیت سے بھری خوراک دی جائے اس کے لئے میڈیا، فلاحی اداروں ، حکومتوں سمےت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مل کر کام کرنا ہوگا ، جب تک اس سلسلے میں خود کام نہیں کریں گے کوئی آسمان سے اتر نہیں نظام بہتر کرنے نہیں آئے گا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.