بلوچستان کی صوبائی حکومت نے 20 ہزار سے زائد قدیم نوادرات کو سندھ حکومت سے واپس حاصل کر لیا

0

- Advertisement -

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے 20 ہزار سے زائد قدیم نوادرات کو سندھ حکومت سے واپس حاصل کر لیا ہے ، وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال خان نے قدیم قیمتی نوادرات کی بحفاظت بلوچستان واپسی پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے سوبائی سیکرٹری کلچراینڈٹورازم ظفر بلیدی کہناہے کہ ان میں دو ہزار سے چھ ہزار سال قدیم نوادرات بھی شامل ہیںیہ نوادرات برتنوں، مجسموں اور سکوں کے علاوہ دیگر اشیا پر مشتمل ہیںظفر بلیدی کا کہنا تھا کہ لگ بھگ 50 سال قبل فرانسیسی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ان نوادرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دریافت کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی صوبائی حکومت نے 20 ہزار سے زائد قدیم نوادرات کو سندھ حکومت سے واپس حاصل کر لیا ہے یہ نوادرات بلوچستان میں مناسب میوزیم نہ ہونے کی وجہ سے چالیس سال سے زائد کے عرصے سے صوبائی دارالحکومت کراچی میں رکھے گئے تھے بلوچستان کے سیکرٹری کلچر اینڈ ٹورازم ظفر بلیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں دو ہزار سے چھ ہزار سال قدیم نوادرات بھی شامل ہیںیہ نوادرات برتنوں، مجسموں اور سکوں کے علاوہ دیگر اشیا پر مشتمل ہیںظفر بلیدی کا کہنا تھا کہ لگ بھگ 50 سال قبل فرانسیسی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ان نوادرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دریافت کیا تھاانھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت ان کو رکھنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کراچی میں رکھا گیا تھاان کا کہنا تھا کہ ان نوادرات کی واپسی کے لیے ماضی میں بھی بلوچستان حکومت کی جانب سے کوششیں ہوتی رہی ہیں تاہم موجودہ حکومت کی موثر کوششوں کی بدولت اب ان کو واپس حاصل کر لیا گیا ہے سیکرٹری کلچر نے بتایا کہ ان نوادرات کو بلوچستان یونیورسٹی کے ساتھ زیرِ تعمیر میوزیم میں رکھا جائے گا۔دوسری جانب ایک بیان میں وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال خان نے قدیم قیمتی نوادرات کی بحفاظت بلوچستان واپسی پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے وزیرِ اعلی کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنی تہذیب و ثقافت، آبا اجداد کی روایات، اقدار و تمدن اور معاشرت کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ادوار میں بلوچستان کے ثقافتی ورثے اور مختلف علاقوں سے دریافت ہونے والے قدیم نوادرات کو صوبے میں محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے قیمتی اثاثوں کو کراچی کے نیشنل میوزیم کی ایکسپلوریشن برانچ میں رکھا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 20675 قدیم نوادرات کی واپسی میں دلچسپی لیتے ہوئے ان نوادرات کی بلوچستان منتقلی کے لیے اقدامات کیے اور آخرکار 40 سال کے بعد ان نوادرات کو واپس حاصل کیا گیا۔وزیراعلی نے کہا کہ حکومت ان قیمتی نوادرات جلد بلوچستان یونیورسٹی میں قائم کیے جانے والے میوزیم میں عوامی نمائش کے لیے پیش کر دے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.