

- Advertisement -
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے سب کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا،اس وقت صوبے کی آمدنی صرف 15 ارب روپے ہےں اگر 15 سال پہلے بہتر طریقہ کار اپنایا جاتا اور منصوبہ بندی کی جاتی تو آج 15 ارب کی بجائے 60 ارب کے قریب آمدنی ہوتی ، تمام شعبوں میں عوام کے لئے اعتماد کو بحال کرنا ہے ،باہر کے ممالک میں سیاست یہاں سے زیادہ ہوتی ہے مگر جب وہاں لو گ گورنمنٹ میں آتے ہیں تو وہ سیاست کو الگ رکھتے ہیں اور ملک کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز حکومت بلوچستان کی جانب سے پری پوسٹ بجٹ کی مناسبت سے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی،رکن صو با ئی اسمبلی قادر نائل نے بھی خطا ب کیا جبکہ تقریب میں ملک نعیم بازئی سمےت سیکرٹریز اور آفیسران سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس سے قبل گورننس اینڈ پالیسی پروجیکٹ ( جی پی پی ) بلوچستان کے کوآرڈنیٹر محفوظ علی خان ، چیف سیکشین ( پروگرامنگ) پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ عارف حسین شاہ ، ایڈیشنل سیکرٹری ( ریسورسز) فنانس ڈیپارٹمنٹ لعل جان جعفر ، کمیونیکیشن اسپیشلسٹ جی پی پی مہوش زیشان نے پرزینٹیشنز پیش کئے اور شرکاءکو تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے کہا کہ حکومت چلانا آسان کام نہیں، آج 70 سال بعد صوبہ بہت سے مسائل کا شکار ہیں سکول بلڈنگ ہے تو ٹیچر نہیں ہے ، جہاں ٹیچر ہے تو وہاں سکول نہیں ، ہسپتال ہے تو ڈاکٹر نہیں ، ڈاکٹر ہے تو ہسپتال نہیں ہے ، جہاں ہسپتال اور ڈاکٹر دونوں موجود ہےں وہاں آلات موجود نہیں ، ادویات نہیں ہے ، جہاں ضرورت ہے وہاں روڈ نہیں اور جہاں ضرورت نہیں وہاں ایک روڈ کی تین تین مرتبہ مرمت کی گئی ہے ، سوائے سیکرٹری کے کسی کے پاس کوئی خاص پاور نہیں ۔ اسسٹنٹ کمشنر بھی ایک قلم تک نہیںخرید سکتاہے اسی طرح اکثر شعبوں کا یہی حال ہے اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے حالات کیسے ٹھیک ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام فیصلے نہیں کرتے فیصلے منتخب نمائندوں اور حکومتوں کا کام ہے ۔ وہ فیصلے کرے کہ پایہ دار ترقی کے لئے کیا کرنا چاہےے ۔ گورنمنٹ بلوچستان پچھلے 10 سے 15 سال سے بڑی مشکلات کا شکار ہے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ حالت یہ ہے کہ مجھ سمیت سیکرٹریز ، وزراءاور آفیسران کو 70 فےصد علاقوں کے صرف نام کا پتہ ہے کسی نے بھی پورے بلوچستان کا دورہ نہیں کیا ہے جس نے دورہ کیا ہے انہوں نے بھی صرف ضلعی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ہے باقی علاقوں کا نہیں پتہ ۔ وسائل کم ہے جبکہ مسائل بہت زیادہ ہے ۔ جہاں بہت منصوبہ بندی کا فقدان ہو وہاں بہتر رزلٹ کی کیا توقع کیا جاسکتا ہے ۔ اکثر یہ سوال آتا ہے کہ سسٹم کو کس طرح بہتر ہوگا جب تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا اس وقت تک مسائل کا حل ممکن نہیں ۔ اس وقت بہتر میکینزم کی ضرورت ہے گورننس میں پلاننگ میکینزم بہتر ہونا چاہےے ۔ آنے والی نسلوں کے لئے سب کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا ۔ تمام شعبوں میں عوام کے لئے اعتماد کو بحال کرنا ہے ۔ قانون سازی کئے بغیر آگے نہیں جاسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ ہر سال کی بجائے 5 سال کے لئے بنالینا چاہےے ۔ یہاں ہر کوئی مسئلے کو اپنا درد سر نہیں سمجھتا مگر ان سے ہم سب بلا واسطہ یا بالواسطہ متاثر ہوں گے ۔ ہوسکتا ہے ان مسائل سے میںخود کو نکالوں مگر لوگ ہمارے پاس ہی اپنے مسئلے لے کر آجاتے ہیں تو اس سے سب ہی متاثر ہوں گے ۔ فزیکل سپیس ہوگی تب ہی مسائل سے چھٹکارہ حا©صل کیا جاسکتا ہے ۔ اس وقت صوبے کی آمدنی صرف 15 ارب روپے ہےں اگر 15 سال پہلے بہتر طریقہ کار اپنایا جاتا اور منصوبہ بندی کی جاتی تو آج 15 ارب کی بجائے 60 ارب کے قریب آمدنی ہوتی ، اس وقت فشریز سے بلوچستان کو سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے ملتے ہیں، کوئٹہ؛ معدنیات کے شعبے سے ہمیں سالانہ ڈیڑھ ارب روپے ملتے ہیں، خدشہ ہے کہ آنے والے چند سالوں میں وفاق ہمارے فنڈز میں کٹوتی کرے۔ آنے والے چند سالوں میں ہمارے پینشن کا بل 200 ارب روپے تک پہنچ جائے گا، باہر کے ممالک میں سیاست یہاں سے زیادہ ہوتی ہے مگر جب وہاں لو گ گورنمنٹ میں آتے ہیں تو وہ سیاست کو الگ رکھتے ہیں اور ملک کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ ہمیں اداروں کے استحکام کی بنیاد پر روزگار دینا ہوگا نہ کہ سیاسی بنیادوں پر۔ یہاں لوگ نوکریاں محکموں کی بہتری اور ضروریات کی بجائے اپنے لوگوں کے لئے دیتے ہیں اگر فلاں کو فلاں نوکری دے دو اور فلاں کو فلاں نوکری تب صوبے کا نظام درست نہیںہوگا ۔ ہم سیاسی لوگ اگر سب مل کر خودمسائل پیدا کرائیں تو مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے ۔ سب کو پتہ ہونا چاہےے کہ اگر80فےصد پیسے انوسٹ کریں گے تو یہ ری انوسٹ ہوں گے اور ا س سے آمدنی زیادہ ہوجائے گی ۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جاب اور پی ایس ڈی پی سے باہر نہیں نکلتے ۔ ہم نے 18 سے 20 ہزار جابز کا اعلان کرچکے ہیں جس پر کام جاری ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر ضلع کے مقامی لوگوں کو عارضی بنیادوں پر میرٹ پر وہی پر تعینات کریں ، محکمہ صحت میں نوجوانوں کو تعینات کیا جاچکا ہے جبکہ اس فارمولے کو محکمہ تعلیم میں بھی متعارف کرارہے ہیں ۔ یہاں پر لوگوں کی دس دس دن کی واہ واہ کے لئے 10 سال کی خرابی کررہے ہیں ہونا یہ چاہےے کہ عارضی واہ واہ کی بجائے پایہ دار منصوبہ کرے ۔ یہاں پر پرزینٹیشن میں رپیر کو نظر انداز کر نے کی تجویز تھی مگر میں اس کے بالکل بھی حق میں نہیں ہوں کیونکہ اس سے نقصان ہوگا کیونکہ اگر کسی سکول کا دروازہ ٹوٹا ہوا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہےے ، روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تو اس کی مرمت کرنا ضروری ہوتا ہے اس لئے کہ مرمت کا کام ضروری ہے اس نظر انداز کرنا غلط ہوگا ۔ بنیادی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے صحیح معلومات کا اکھٹا کرنا ضروری ہے اور وسائل کو مد نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے ۔ 2003اور 2008 سے اسکیمات چل رہے ہیں جس کی اہم وجہ غلط پالیسیاں ہےں 50 کروڑ کے منصوبے لئے آپ سالانہ 2 کروڑ روپے ریلیز کریں گے تو منصوبہ 60 سال میں پورا ہوگا ۔ بہتر فیصلے مشاورت سے ہی ممکن ہیں اگر مشاورت کی جائے تو نتائج 80 فیصد تک صحیح آئیں گے ۔ مل کر کام کریں گے تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں ۔ آخر میں انہوں نے تقریب میں پرزینٹیشن پیش کرنے والوں میں شیلڈز تقسیم کئے ۔اس سے قبل صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام محکموں میں اچھے آفیسرز موجود ہیں جس کی مثال ہمارے سامنے محفوظ علی خان کی صورت میں موجود ہے جو محنت کرکے اپنا کام کرتے ہیں ۔ہم منتخب عوامی نمائندے ہیں عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے وہ دور دراز اعلاقوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ ہیں وہ نہیں جانتے کہ فنڈز ریلیز ہونے تک کتنی لمبی پروسس سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے محکمہ پی اینڈ ڈی اور فنانس ترجیحی بنیادوں پر کام کرے اور جلد از جلد فنڈز کی ریلیز کے لئے کام کریں مگر جلدی میں پی ایس ڈی بنانے میں نقصان ہوتا ہے اور وہ پایہ دار نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی آفیسر اپنی نوکری کے لئے مجھے کہے کہ مجھے زراعت میں تعینات کیا جائے تو میں 2 سال میں بہت بہت بڑے کام کروں گا تو یہ غلط ہوگا مگر ان محکموں کی پروسس بہت لمبی ہے عوام کو کچھ ڈیلیور ہماری ذمہ داری ہے ۔ ہر سیکٹر کی اپنی حیثیت ہے ، بلوچستان امیر صوبہ ہے پاکستان ہم سے چل رہا ہے تمام ریسورسز ہمارے صوبہ سے ہے ۔ اب 2019-20کے بجٹ پر کام کرنا چاہےے اس سلسلے میں ایک آسان راستہ اختیار کیا جائے اگر پیسے بروقت خرچ نہیں کریں گے تو وہ لیپس ہوجائیں گے جو حکومت کے لئے بہت بڑا نقصان دہ عمل ہوگا ۔مذکورہ بجٹ کے لئے 15 اپریل سے ہی کام شروع کیا جائے اور اسے اپرو کریں ۔ رکن صو با ئی اسمبلی قادر نائل نے کہا کہ عوام کی منتخب نمائندوں سے بہت سے توقعات ہیں ، ہمارے اخراجات بڑھ ہیں ہیں جبکہ آمدنی بہت کم ہے ۔ بہت سے منصوبہ کافی عرصے سے جاری ہیں جس کی اہم وجہ غلط پالیسیاں اور منصوبہ بندی کو نظر انداز کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکس وصولی کا نظام بہتر نہیں کیا جائے تب تک آمدنی نہیں بڑھے گی ۔