مادری زبان ایک حقیقت ہے مادری زبان ہر قوم اور ہر شخص کی ہوتی ہے،اور حقیقت کو جھٹلایانہیں جا سکتا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
![]()
- Advertisement -
نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ مادری زبان ایک حقیقت ہے مادری زبان ہر قوم اور ہر شخص کی ہوتی ہے،اور حقیقت کو جھٹلایانہیں جا سکتا،قومیتوں کو مساوی حقوق ان کے زبانوں اور ثقافتوں کو پروان چڑ ھانے سے ہی باوقار معاشرہ اور ترقی یافتہ ملک کی تشکیل دیا جاسکتا ہے،،نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں قانون سازی کے ذریعے بنیادی تعلیم کو مادری زبانوں میں رائج کیا اور ساتھ ہی اکیڈیمز کے گرانٹ میںکئی گنا اضافہ کیاتاکہ وہ اپنی زبان کے حوالے سے کام کریں۔ان خیالات کا آظہار انہوں نے گزشتہ روز نیشنل پارٹی وحدت بلوچستان کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر سمینار خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمینار سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر اسحاق بلوچ،نامور دانشور راحت ملک،صوبائی کلچر سیکرٹری ملک نصیر شاھوانی،،بی ایس او (پجار )کے انفارمیشن سیکرٹری عمران بلیدی،سعد بلوچ، ملک منور پانیزئی،حنیف کاکڑ،باقی بلوچ،عزیز سرپراہ سمیت دیگر نے بھی مادری زبانوں کی اہمیت اور افادیت پر مقالے پڑھے اور خیالات کا اظہارکیا،مقررین نے سمینار سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ مادری زبان کا تعلق قوم سے ہے،اور قوم ایک مشترکہ زبان تاریخ تہذیب و ثقافت اور مشترکہ قومی کرادر اور اقدار ہوتا ہے،اور قوموں کی معاشی قومی اور ثقافتی احساس کو تحفظ دینے اور برابری کو مقدم رکھنے سی ہی ریاستیں ترقی کی بلندیوں کو حاصل کرتے ہیں،لیکن ہمارے یہاں زبان سے تعصب نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور زبان اور قوموں کی تاریخ کو مٹانے کا عمل کو دہرایا جاتا رہا ہے،زبان کی جد وجہد میں بنگال کے عوام کردار تاریخی ہے جو آج دنیا کے تمام قومیں زبانوں کے استحاق اور ترقی کی تجدید کرتے ہیں،ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ ہمیں اپنے مادری زبانوں سے پیار کرنا ہوگا ،اور اپنے زبان میں تحریر لکھنا اور پڑھنے کے ساتھ نءنسل کی مادری زبان سے بیگانگی کو ختم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا ،انہوں نے کہا کہ دنیا کی تحقیق نے ثابت کیا ہے مادری زبان میں تعلیم سے بچہ آسانی سے علم حاصل کر سکتا ہے اور اس کے سیکھنے سکھانے اور لکھنے اور لکھانے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے،کیونکہ ہر بچہ دوسری زبان کو سیکھنے کے لئے اس کو پہلے اپنے زبان میں ترجمہ کرتا ہے،نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں حساسیت رکھتے ہوئے مادری زبان کو تعلیم کا حصہ بنانے کے لئے قانون سازی کی،اور نصاب تیار کرنے کےلئے ماہرین کی خدمات حاصل کیں،اور ساتھ ہی بلوچی براھوءاور پشتو اکیڈیمز کی گرانٹ میں کئی گنااضافہ کیا تاکہ مادری زبانوں کی ترقی و ترویج اور زبان کے حوالے سے تخلیق اور تحقیق کے عمل کو آگے بڑھائے ۔