کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارشیں اور بارفباری جاری، پی ڈی ایم اے کی جانب سے کنٹرول روم قائم

0

- Advertisement -

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش اور پہاڑی علاقوں پر برف باری کے باعث نہ صرف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی مختلف شاہراہیں ندی نالے بن گئے بلکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں نشیبی علاقے بھی زیر آب آگئے ، شمالی بلوچستان کے مختلف علاقوں کان مہترزئی،زیارت ،توبہ اچکزئی،توبہ کاکڑی،اور کوژک ٹاپ پر برفباری کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم راستے بند ہونے کے باعث سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا چمن،زیارت اور پشین کے کہیں علاقوں میں ایک روز کیلئے پولیو مہم موخر کردی تربت میں شدید بارش کے باعث بند ٹوٹ گیا لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ندی نالوں میں زبردست طغیانی کے بعد مختلف علاقوں کے ایک دوسرے سے رابطے منقطع ہوگئے ہیں بلکہ بیلہ میں پورالی پل بہہ جانے کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ پر آمدورفت کا سلسلہ بند ہوگیاہے ۔دوسری جانب حکومت بلوچستان نے صوبے میں جاری بارشوں کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے کنٹرول روم قائم قائم کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ،پشین ،قلعہ عبداللہ ،مستونگ ،قلات ،زیارت ،دکی ،ہرنائی ،مسلم باغ ،سنجاوی ،حب سمیت دیگر علاقوں میں موسلادھار اور وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا بلکہ پہاڑی علاقوں اور وادی زیارت میں برف باری کا سلسلہ بھی جاری رہا پہاڑی علاقوں میں برف باری کے باعث شاہراہوں پر سفر ناممکن ہوگیاہے بلکہ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے اور نشیبی علاقوں میں زبردست طغیانی سے مختلف علاقوں کا دوسروں سے رابطہ منقطع ہوگیاہے ۔بیلہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے سے پورالی پل کاایک حصہ بہہ گیاہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کراچی شاہراہ آمدورفت کیلئے بند ہوگیاہے جس کی وجہ سے مسافروں ،گاڑی ڈرائیوروں ومالکان کومشکلات کاسا منا کرناپڑرہاہے دن بھرجاری رہنے والے بارش اور برف باری کے سلسلے کی وجہ سے نہ صرف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی شاہراہیں ندی نالوں کامنظر پیش کرنی لگی بلکہ مختلف بندات میں پانی ذخیرہ ہونا بھی شروع ہواہے زرعی ماہرین کے مطابق بارش اور برف باری کے گزشتہ ہفتوں سے جاری سلسلے کے بعد بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں خشک سالی ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں بلکہ بارانی فصلوں سے اچھی حاصلات کی بھی امید ہوچلی ہے ،بارش اور پہاڑی علاقوں پر برف باری کے بعد نہ صرف سردی کی شدت میں اضافہ ہواہے بلکہ سینکڑوں ٹیلی فونز بھی آبدی نیند سوگئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بارش کے بعد بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوچکاہے مختلف علاقوں سے گیس پریشر کی شکایات ملنے کا بھی سلسلہ چل پڑاہے ۔ شمالی بلوچستان زیارت،کان مہترزئی،توبہ اچکزئی،توبہ کاکڑی میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے زیارت میں 8انچ کان مہترزئی میں 6انچ توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑ ی میں ایک فٹ سے زائد برفباری ہوئی زیارت میں برفباری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا برفباری کی وجہ سے روڈوں پر پھسلنے کے باعث کئی واقعات ہوئے قریبی علاقوں کے سیاح بھی زیارت پہنچنا شروع ہوگیا محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش پسنی میں 25 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، زیارت میں 8، پنجگور میں 5، دالبندین، قلات، خضدار اور سبی میں 4، 4، کوئٹہ اور گوادر میں 3 ملی میٹر اور بارکھان میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے 26 فروری سے بلوچستان کے شمال میں بارشوں کا نیا سسٹم داخل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق نئے سسٹم کے تحت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمال میں مزید بارشوں اور فضاءکی آبرالود رہنے کاامکان ہے ۔بلوچستان میں بارشوں کے بعد پی ڈی ایم اے ہائی الرٹ اورپی ڈی ایم اے کی جانب سے کنٹرول روم قائم کر دیا گیا کنٹرول روم میں صوبے بھر سے بارشوں کے نقصانات سے متعلق جائزہ لیا جارہا ہے صوبائی وزیرضیالانگو اور ڈی جی پی ڈی ایم خود کنٹرول روم کی نگرانی کررہے ہیںکسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پی ڈی ایم اے تیار ہے بارشوں سے ہونے والے نقصانات کابھی جائزہ لیا جارہا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.