خضدار پولیس میں افسران اور اہلکاروں کی کمی،اسٹریٹ کرائم میں لٹنے والے شہریوں کی رپورٹس بھی درج نہیں کی جارہی

- Advertisement -
خضدار پولیس میں افسران اور اہلکاروں کی کمی ،اسٹریٹ کرائم میں لٹنے والے شہریوں کی رپورٹس بھی درج نہیں کی جارہی ہیں چوری یا چھینی گئی موٹر سائیکل تخریب کاری میں استعمال ہو ں گے تو تھانے اور کورٹ کے چکر لگانا پڑیں گے، شہریوں میں تشویش پولیس افسران اور اہلکاروں کی پولیس نفری کی قلت کے باعث شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیاہے، اسٹریٹ کرائم میں لٹنے والے شہریوں کی تھانوں میں رپورٹس بھی درج نہیں کی جارہی ہیں،شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر ان کی چوری یا چھینی گئی موٹرسائیکل کسی بھی تخریب کاری میں استعمال ہو گئی تو انہیں بلا جوازتھانے اور کورٹ کے چکر لگانا پڑیں گے، ذرائع کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی خضدارشہر میں نفری انتہائی کم ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق خضدار شہر میں قائم دو پولیس تھانوں میں اہلکار انتہائی قلیل نفری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔،پولیس اہلکار بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹیاں دینے سمیت اوور ٹائم کے تحت اضافی کام بھی کررہے ہیں، جبکہ یہی پولیس اہلکار صرف مخصوص چوکیوں پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں جہاں پولیس چوکیاں خالی ہیں وہاں سے اسٹریٹ کرائم میں ملوث افراد کرکے با اثانی بھاگ جاتے ہیں۔جس کے باعث جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے، روزانہ درجنوں شہری موبائل فونز، نقدی اور قیمتی اشیاءسمیت اپنی موٹرسائیکل سے محروم ہو رہے ہیں، ستم ظریفی یہ کہ شہری جب واردات کی رپورٹ درج کرانے تھانے پہنچتے ہیں تو وہاں صرف ایک یا دو سپاہی موجود ہوتے ہیں اور وہ شہریوں کی رپورٹس درج کرنے سے معذوری ظاہر کردیتے ہیں،ان کا کہنا ہوتا ہے کہ افسران کی ایمر جنسی ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں اور سارا عملہ اسپیشل ڈیوٹیوں پر تعینات ہیں جس پر شہری مایوس ہو کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں،شہریوں نے آئی جی بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانوں میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی رپورٹ درج کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں تاکہ شہری کسی ناگہانی مصیبت کا شکار نہ ہو سکیں۔