
- Advertisement -
بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے یقین دلایا ہے کہ بلوچستان کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، صحافیوں کو کسی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ان کے حقوق کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی، یہ بات بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی و ترجمان وزیر اعلی بلوچستان بشری رند، پارلیمانی سیکرٹری مذہبی امور دنیش کمار، بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر اکبر مینگل اور احمد نواز بلوچ نے جمعرات کو بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرئے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین ، جنرل سیکرٹری رشید بلوچ ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سینئر نائب صدر سلیم شاہد، کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالخالق رند سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس موقع پر بی یوجے کے صدر ایوب ترین نے حکومتی اور اپوزیشن ارکان بلوچستان اسمبلی کو صحافیوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی صحافیوں کی جبری برطرفیوں ، تنخواہوں کی بندش، تنخواہوں سے کٹوتی اور جاب سیکورٹی نہ ہونے کے خلاف بلوچستان یونین آف جرنلسٹس طویل عرصے سے سراپا احتجاج ہے ، بلوچستان اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں بھی بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام صحافیوں نے بلوچستان اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آوٹ کیا تھا ، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ صحافیوں کی جبری برطرفیوں ، تنخواہوں کی بندش، تنخواہوں سے کٹوتی کرنے والے میڈیا ہاوسز کے سرکاری اشتہارات بند اور صحافیوں کی جاب سیکورٹی کویقینی بنایا جائے ،حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی یقین دہانیوں کے باوجود تاحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں جس پر صحافیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے،آج کا احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،جس پر ترجمان وزیر اعلی بلوچستان بشری رنداور دنیش کمار نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مشکلات سے متعلق بلوچستان اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی گئی اور اب بھی حکومت اس اہم مسلے سے نمٹنے کے لئے حکومت کی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے،بلوچستان نیشنل پارٹی کے ممبران صوبائی اسمبلی میر اکبر مینگل اور احمد نواز بلوچ نے کہا کہ صحافی تنہا نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہیں اگر حکومت کی جانب سے مسئلے کے حل کو یقینی نہ بنایا گیا تو پھر اپوزیشن جماعتیں بھی اس احتجاج میں صحافیوں کے ساتھ سڑکوں پر ہونگی، بعد ازاں اراکین اسمبلی کی مثبت یقین دہانی پر صحافیوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا۔