وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے متعلق اقوام متحدہ کے مشترکہ مشن کی ہونے والی ملاقات خشک سالی سے متاثرہ افراد کی امداد وبحالی کے لئے بھرپور معاونت کی پیشکش کی گئی ہے
- Advertisement -

کوئٹہ13فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے متعلق اقوام متحدہ کے مشترکہ مشن کی ہونے والی ملاقات کے دوران مشن کی جانب سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں عوام کی معاشی اور سماجی زندگی پر خشک سالی کے باعث مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے اور متاثرہ افراد کی امداد وبحالی کے لئے بھرپور معاونت کی پیشکش کی گئی ہے، مشن کی قیادت اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے او سی ایچ اے کے پاکستان میں سربراہ مسٹر مارکوس ورنے Mr.Markus werna کررہے تھے جبکہ مشن میں ڈبلیو ایف پی، یونیسف، ڈبلیوایچ او، یو این ایف پی اے، یو این ڈی پی اور ایف اے او کے نمائندے بھی شامل تھے۔
صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر ضیاء اللہ لانگو، ،میر نصیب اللہ مری اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز بھی ملاقات میں موجود تھے جبکہ اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون کی جانب سے صوبے میں خشک سالی کے اثرات اور متاثرین کے لئے جاری امدادوبحالی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اقوام کے مشن کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور خواتین اور بچوں کے لئے غذائیت کی فراہمی کے پروگرام میں بھی بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، ملاقات میں متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے مختصر مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبے شروع کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور ڈونر ایجنسیوں کی معاونت ان منصوبوں کی تکمیل میں کارآمد ثابت ہوگی اور ان منصوبوں سے متاثرہ اضلاع میں صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی، صوبائی حکومت اور مشن کی جانب سے اس ضمن میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے سے بھی اتفاق کیا گیا، صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کو آپریشنل سرگرمیوں کے لئے محفوظ رسائی دینے اور اس حوالے سے انہیں ون ونڈو آپریشن کی سہولت فراہم کرنے یقین دہانی کرائی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ اداروں سے مربوط روابط کے لئے صوبائی حکومت فوکل پرسن مقرر کرے گی، اقوام متحد ہ کے مشن کی جانب سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں امدادوبحالی کی سرگرمیوں، خواتین اور بچوں کے لئے غذائی ایمرجنسی کے نفاذ اور ٹاسک فورس کے قیام کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات اور کوششوں کو سراہا گیا، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے بارشوں کی کمی کے باعث صوبے میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس سے لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں اور ان سے منسلک بہت بڑی آبادی کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی کم ہے اور یہاں کے لوگ روایتی طور پر اپنے علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، طویل رقبے کے باعث دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان کی ترقی کے لئے کثیر فنڈز درکار ہیں، انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گررہی ہے تاہم حکومت ڈیموں کی تعمیر کے ذریعہ پانی کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور موسمی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کے لئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے جس میں انوائرمنٹل کونسل کی فعالی اور جنگلات کے ایکٹ میں ترامیم شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گورننس کو بہتر بنارہی ہے، فوڈ سیکیورٹی کا ادارہ قائم کیا گیا ہے، فوڈ اتھارٹی ایکٹ لایا گیا ہے، سماجی شعبہ میں انڈومنٹ فنڈ قائم کیاگیا ہے، نئے ڈیموں کی تعمیر ،آبپاشی کے شعبہ کی ترقی اور صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہیں۔