گذشتہ پندرہ بیس سال کی انتظامی بدنظمی کے نتائج آج مسائل کا پہاڑ بن کر سامنے آئے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

0

- Advertisement -


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ پندرہ بیس سال کی انتظامی بدنظمی کے نتائج آج مسائل کا پہاڑ بن کر سامنے آئے ہیں،بلوچستان میں گورنس کے اچھے ڈھانچے کی ضرورت ہے، ترقی کا عمل مالی استحکام سے وابستہ ہے، بلوچستان کی سالانہ آمدن پندرہ ارب روپے ہے، موجودہ صوبائی حکومت آئندہ چند سالوں میں بلوچستان کے ریونیو کو چالیس ارب روپے تک لے جانا چاہتی ہے جس کے لئے ٹیکس حاصل کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور استعداد کار میں اضافے پر کام کیا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے آن لائن ٹیکس کلکشن سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزراءاور اراکین صوبائی اسمبلی، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سعید احمد ہاشمی، صوبائی سیکریٹریز، محکمہ ایکسائز کے افسران اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تقریب میں موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آج ہم جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے OTCS کا آغاز کرنے جارہے ہیں جس سے نہ صرف مختلف مدات میں ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو بہتر بناکر صوبے کے محاصل میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ عوام کو ٹیکسوں کی ادائیگی میں سہولت بھی مل سکے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی مالی پوزیشن جتنی اچھی ہوگی مجموعی ترقی اتنی ہی بہتر ہوگی، ہم ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جو آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہو، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کے دور میں کسی بھی معاشرے، حکومت، ادارے یا فرد کی کارکردگی اور استعداد کار کا اندازہ اس کے مالی استحکام سے لگایا جاسکتا ہے، جس بھی معاشرے، حکومت، ادارے اور فرد کی مالی پوزیشن بہتر ہوگی تو وہ یقینا اس کی کارکردگی کی بہتری کا مظہر ہوگا، لیکن اگر مالی صورتحال اچھی نہیں تو پھر پریشانی کی بات ہونی چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہم بھی صوبائی حکومت کی مالی پوزیشن کی وجہ سے پریشان ضرور ہیں یہ سلسلہ عرصہ دراز سے چلتا چلتا یہاں تک پہنچا ہے، ہمیں سٹرکچر ریفارمزقوانین میں ترامیم اور سروس رولز میں بہتری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اداروں کا نظام تباہی کی جانب جارہا ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا پنشن بل اس وقت 23 ارب روپے کا ہے جو 2025میں دو سو ارب روپے تک جاپہنچے گا، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہے، اگر یہ صورتحال بہتر نہیں ہوتی تو پھر پریشانی میں مزید اضافہ ہوگا، ہماری کل پی ایس ڈی کا سائز ساٹھ ارب روپے کا ہے، ہمیں پنشن بل کی مد میںدو سو ارب روپے وفاق نہیں دے گا بلکہ ہم نے اپنے وسائل سے اسے پورا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے اور اگر نہیں آئیں گے تو کیا صورتحال پیدا ہوگی، سیاسی لوگوں کے ساتھ ساتھ افسران کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں، ہمیں سیاست کو بھی چلانا ہے اور گورننس کو بھی بہتر کرنا ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورننس کا اسٹرکچر ایسا ہو کہ جو محکموں کی کمزوریوں کو دیکھے اور انہیں دور کرنے کے لئے اقدامات کرے، انہوں نے کہا کہ ہمارا پورا صوبہ پندرہ ارب روپے کماتا ہے، 2025تک صوبے کا ترقیاتی اور غیرترقیاتی بجٹ اورپنشن بل ساڑھے پانچ سو ارب روپے تک ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت سے ہمیں ڈھائی سو ارب روپے ملیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس آمدنی میں اضافہ کے مختلف ذرائع موجود ہیں جن کو استعمال میں لاکر ہم اپنی آمدنی کو بڑھاتے ہوئے دستیاب فنڈز اور درکار فنڈز میں موجود گیپ کو پورا کرسکتے ہیں اور اپنے محصولات میں اضافہ کرکے خودانحصاری کا حصول ممکن بناسکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقی کے اہداف کے حصول اور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی تبھی ممکن ہے جب وسائل کے حوالے سے بلوچستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا، بدقسمتی سے ماضی میں صوبے کے وسائل میں اضافے کی جانب توجہ نہیں دی گئی اور وفاق سے حاصل ہونے والے فنڈز پر انحصار کیا گیا،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم قیمتی معدنی وسائل، منفرد جغرافیائی محل وقوع، طویل ساحلی پٹی اور وسیع وعریض رقبہ رکھنے کے باوجود ابھی تک پسماندہ ہیں، اگر ان وسائل سے استفادہ کیا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ آج بلوچستان ایک ترقیاتی صوبہ نہ ہوتا، انہوں نے کہا کہ اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے، ہم نے صوبے کے محاصل میں اضافے کے لئے موثر قانون سازی کی ہے اور کئی ایک اقدامات تجویز کئے گئے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے آٹھ اجلاسوں میں صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے بہت سے فیصلے کئے گئے ہیں جن کے نتائج جلد سامنے آنا شروع ہوجائیں گے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر محکمہ ایکسائز ،ملک نعیم بازئی نے کہا کہ محکمہ ایکسائز نے رواں مالی سال میں دو ارب آٹھ کروڑ اسی لاکھ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے، محکمے کو درپیش مسائل حل کرکے ریونیو کی شرح میں اضافہ ممکن ہے،

Leave A Reply

Your email address will not be published.