
- Advertisement -
جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کابلوچستان میں بلدیاتی قوانین تبدیل نہ کرنے اور اُسی پرانے قانون کے تحت الیکشن کروانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ بلوچستان میں پچھلا بلدیاتی الیکشن بھی سب سے پہلے کروایا گیا مگر اس الیکشن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا نہ کوئی ترقیاتی کام ہوئے اور عوام کے نچھلے سطح پر کوئی مسئلہ حل ہوا وفاقی حکومت والیکشن کمیشن بلوچستان لوکل الیکشن پر تجرجات نہ کریں بلوچستان کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے بلدیاتی الیکشن قوانین میں ترمیم کرکے الیکشن کروائے جائے موجودہ سسٹم کے تحت الیکشن کا عوام کوکوئی فائدہ نہیں اس قسم کے الیکشن وسائل اور وقت کا ضیاع ہے۔ایکٹ وقانون کی تبدیلی ،وسائل واختیارات بلدیاتی اداروں کومنتقلی سے قبل بلدیاتی الیکشن منعقد کروانا عبث اور بے ثودہے۔جماعت اسلامی بلدیاتی اداروں وک وسائل واختیارات دینے اور الیکشن کمیشن ووفاق کے ذریعے قانون میں تبدیلی کیلئے دجدوجہد کر رہی ہے ۔جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اختیارات بیوروکریسی اور صوبائی اسمبلی ممبران کے پاس ہو تو بلدیات کے ممبران صرف تنخواہ وصول کریں گے جبکہ عوام نے انہیں مسائل کے حل کیلئے ووٹ دیے ہو ۔جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں دیگر قومی سیاسی جماعتوں وحکومت سے اپیل کی گئی کہ بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں ہوم ورک کیے بغیر اور قوانین میں تبدیلی کیے بغیر الیکشن رکھوانے کیلئے کام کیا جائے صوبائی حکومت وفاق سے گزارش کریں کے الیکشن قوانین میں تبدیلی لے آئیں وسائل واختیارات بیوروکریسی وصوبائی حکومت کے نمائندوں سے لیکر بلدیاتی اداروں کو منتقل کریں تاکہ گراس روٹ لیول پر عوام کے دیرینہ وسلگتے مسائل حل ہو۔گزشتہ بلدیاتی الیکشن دیگر صوبوں سے کئی مہینے پہلے بلوچستان میں منعقدکروائے گیے جس میں عوام وسیاسی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیامگر عوام کو اس الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں ملا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبہ بھرمیں کسی ضلع میں عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا بلدیاتی نمائندوں کے پاس نہ اختیارات تھے نہ وسائل اس قسم کے الیکشن اگر کروانے ہیں تو اس کا نہ کروانے بہتر ہے۔