لورالائی :دہشتگردوں کاڈی آئی جی پولیس دفتر پر حملہ 8پولیس اہلکاروں سمیت 9افراد شہید جوابی کارروائی میں حملہ آور جنم وصال

0

- Advertisement -

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دہشتگردوں کاڈی آئی جی پولیس لورالائی کے دفتر پر حملہ کے نتیجے میں8پولیس اہلکاروں سمیت9افراد جاں بحق جبکہ 21افراد زخمی ہوگئے ہیں ،سیکورٹی فورسز کے جوابی حملے میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین حملہ آوروں نے خود کو اڑا لیاہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع لورالائی میں ڈی آئی جی آفس پر 4دہشتگردوں نے اس وقت حملہ کیا جب دفتر میں پولیس آسامیوں کے لئے ٹیسٹ و انٹرویو ہورہے تھے ،عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی وردی پہنے ہوئے 2دہشتگردوں نے منگل کو دوپہر تقریبا 12.40منٹ پر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی گیٹ پر موجود اہلکاروں نے بہادری ودلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کی جبکہ دو حملہ آور دفتر کے عقبی دیوار پلانگ کر داخل ہوگئے چاروں حملہ آوروں نے سب سے پہلے ہینڈ گرینڈ آفس میں پھینکے جسکے بعد فائرنگ شروع کرکے ڈی آئی جی آفس میں داخل ہوگئے .پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور جوکہ اے ڈی آئی جی کے دفتر کے کھڑکی پر پہنچ گیا تھا فائرنگ سے مارا نے زخمی حالت میں ایڈیشنل آئی جی کے دفتر کے ساتھ ہی خود کو اڑا لیا جبکہ دیگر تین دفتر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ،حملے کے وقت دفتر میں ٹیسٹ و انٹرویو کا عمل جاری تھا،ڈی آئی جی پولیس نثار احمد خان ،ایس پی لورالائی برکت حسین کھوسہ اور پولیس کے دیگر پندرہ آفیسران بھی حملے کے وقت ڈی آئی جی آفس میں موجود تھے ،حملے کے وقت ٹیسٹ اور انٹرویو دینے والے 700سے زائد امیدوار بھی موجود تھے حملہ ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی اکثر امیدواروں نے دیوار پلانگ کر اپنے آپکو بچھا لیاجبکہ کئی امیدوار دیوار پھلانگتے ہوئے زخمی بھی ہوگئے حملے کے بعد حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ،اے ٹی ایف اور فرنٹیئرکور بلوچستان کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اورعلاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن شروع کردیاجبکہ بعد ازاں ایس ایس جی کے دستے اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی کوئٹہ سے آپریشن میں حصہ لینے کیلئے پہنچ گئے پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے ڈی آئی جی پولیس نثار احمد خان اور دیگر 15پولیس آفیسران کو بحفاظت دفتر سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے،دہشتگردوں نے ڈی آئی جی آفس میں داخل ہونے کے بعد ہینڈ گرینڈ پھینکے اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کرکے بعد ازاں ڈی آئی جی کے رہائشی بنگلے میں داخل ہوگئے آپریشن اور فائرنگ کا تبادلہ تقریباََ5گھنٹے تک جاری رہی شام پانچ بجکر تیس منٹ پر دیگر 3دہشتگردوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا،دہشتگردوں کے حملے میں ایک شہری سمیت 9اہلکار شہید جبکہ 21زخمی ہوگئے ،شہید ہونے والے اہلکاروں میں جاوید اقبال سکنہ لورالائی ،نعمت اللہ سکنہ قلعہ سیف اللہ ،غلام محمد ناصر ساکن لورالآئی ،اے ٹی ایف حوالدار صادق علی ساکن جعفر آباد ،امیر زمان آفریدی ،صلاح الدین ساکن میختر ،محمد نواز ،خالقداد کدیزءi ساکن لورالائی اور سلطان مسیح شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں محمد نواز ،شاہد خان ،محمد علیم ،امیر خان ،محیب خان ،نجیب اللہ ،دنیا خان ،محمود شاہ ،انور جان ،عبداللہ ،محمد علی ،اختر محمد ،محمد سالک ،عبدالرزاق ،ذیشان ،محمد اخلاص ،تیمر خان ،قادر خان عبدلدیان ،مطیع اللہ ،اور احسان اللہ شامل ہیں. دو زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ملتان منتقل کردیئے گئے ہین تمام شہدا کو سول ہسپتال لورالائی اور سی ایم ایچ لورالائی منتقل کردیئے گئے5گھنٹے بعد اپریشن مکمل ہونے کے بعد بی ڈی ایس کے عملے نے کلیئرنگ کا عمل شروع کرکے دفتر کو کلیئر کرلیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.