
- Advertisement -
پولیس لائن کے قریب تحصیلدار بوستان مالک ترین کی گاڑی کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا دھماکے میں تحصیلدار سمیت 12افراد زخمی ہوگئے زخمیوں میںراہگیر بھی شامل ہیں ۔ دھماکے سے تحصیلدار کی سرکاری گاڑی کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور ایف سی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا تمام زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پشےن منتقل کیا گیا جہاں سے تحصیلدار عبدالمالک ترین انکے محافظ صلاح الدین راہگیر حبیب اللہ اور عبداللہ کو تشویشناک حالت میں کوئٹہ ریفرر کردیا گیا ۔ ابتدائی تحقیقات اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکہ ریمورٹ کنٹرول جبکہ دھماکے میں سات سے آٹھ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جبکہ حملہ آوروں کا ہدف تحصیلدار کی گاڑی ہی تھی ۔ دھماکے کے نتیجے میں تحصیلدار عبدالمالک ترین، محافظ صلاح الدین سمیت12 افراد زخمی ہوئے، جس میں راہ گیر بھی شامل ہیں۔ دھماکا اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور ایف سی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جب کہ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال پشین منتقل کردیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آوروں کا ہدف لیویز کی گاڑی ہی تھی۔دھماکے سے تحصیلدار کی گاڑی کے اگلے اور بائیں جانب کے حصے کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس کو دھماکے کی جگہ سے ایک موٹر سئایکل کے پرزے بھی ملے ہیں ۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کرلیے۔ حکام کے مطابق دھماکا سڑک کنارے کھڑی کی گئی موٹر سائیکل پر نصب ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا، جب کہ دھماکے میں 8کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔کمانڈر سیکٹر نارتھ بریگیڈیئر لیاقت علی ڈپٹی کمشنر میجر (ر)اورنگزیب بادینی اور ایس ایس پی طارق الہیٰ مستوئی اور میجر فہد نادر نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پشےن کا کہنا تھا کہ امن اور سماج دشمن عناصر کے ان بزدالانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے پشےن کی عوام سیکورٹی فورسز کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے دھماکے میں زخمی ہونیوالوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا دہشتگردوں سے حساب ضرور لیں گے واقعے میں ملوث امن دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا کر رئیں گے ۔