صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے ماں اور بچے کی صحت کو اہمیت دی جائے،صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری

0

- Advertisement -

صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ماں اور بچے کی صحت کو اہمیت دی جائے اوراس حوالے سے موجودہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لارہی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مائیں اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھتے ہوئے گھروں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں حمل کے وقت تشنج کے ٹیکے ای پی آئی سینٹر میں لگوائیں تا کہ بلوچستان کے مستقبل کو محفوظ اور توانا بنایا جا سکے، اور لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے تمام جائز مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ ماں او بچے کی صحت میں بہتری لانے کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور ای پی آئی کا کردارقابل ستائش اور قابل تقلید ہے یہ بات انہوں نے نیشنل پروگرام برائے لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام اور یونیسیف کے اشتراک سے منعقدہ ہفتہ برائے ماں اوربچے کی صحت کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکریٹری صحت ندیم اختر سمالانی، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاکر علی بلوچ، یونیسف کے ڈاکٹر عامر اکرم، نیشنل پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر شیراحمد ساتکزئ، ای پی آئی پروگرام کے ڈپٹی پروگرام منیجر ڈاکٹر اسحاق پانیزئی،، نیشنل پروگرام کے ڈپٹی پروگرام منیجر ڈاکٹر امداد اچکزئی، ڈاکٹر چاکر ریاض، صوبائی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل میروانی، ایم ایس بی ایم سی ہسپتال ڈاکٹر فہیم خان آفریدی، پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ڈاکٹر مختار احمد، بخت نصر کاسی کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز و دیگر معلقہ حکام نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر شیر احمد ساتکزءنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ماں اوربچے کی صحت کے حوالے سے ہفتہ کو منانے کا مقصد ما¶ں اوربچوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی افادیت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے اور انہیں اس اہم نوعیت کے کام میں طبی عملے اور نیشنل لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی ٹیم کے ساتھ تعاون کی طرف راغب کرنے، بچوں کو سال میں دومرتبہ ڈی وار منگ گولی کی فراہمی تاکہ بچے طبی پیچید گیوں سے بچ سکیں۔ ا س موقع پر انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے حوالے سے تقریب کو آگاہ کیا کہ یہ پروگرام تمام ورٹیکل پروگرام میں خدمات سرانجام دے رہا ہے، اور اس کو محکمہ صحت میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، انہوں نے اس حوالے سے یونیسف کے تعاون کو سراہا جبکہ کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے کام میں مزید وسعت لائیں اوراس ہفتے کو کامیابی سے ہمکنار کریں ما¶ں اور بچوں میں اسہال، سینے کے امراض، پیٹ کے کیڑوں کی ادویات و دیگر ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی سطح پر آگاہی اور مشاورت کو یقینی بنائیں۔ تقریب سے ایڈیشنل سیکریٹری صحت ندیم اختر سمالانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ وار مہم کو تمام اسٹیک ہولڈر ز ہر صورت میں کامیاب بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام محکمہ صحت میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکا عملہ اپنے کام میں مزید وسعت لائے اور اپنے جائے تعیناتی پر ہمہ وقت موجود رہیں اور لوگوں کی بہتر انداز میں رہنمائی کریں۔انہوں نے اس موقع پر اقوامتحدہ کے ادارے یونیسف کی جانب سے محکمہ صحت کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ تمام ورٹیکل پروگرامز میں اشتراکی عمل کو تقویت دینے کی ضرورت ہے، اورلیڈی ہیلتھ ورکرز پر یہ بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ساتھ مخلص اندا زمیں لوگوں کی خدمت کو یقینی بنائیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای پی آئی پروگرام کے صوبائی سربراہ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاکر علی بلوچ، یونیسف کے ڈاکٹر عامر اکرم ا ور دیگر مقررین نے بتایا کہ ای پی آئی پروگرام اور یونیسف اس حوالے سے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لارہی ہے انہوں نے کہا کہ اس ہفتہ وار مہم میں بچوں کی ویکسینشن کروانا، جبکہ ما¶ں کو چاہیئے کہ وہ حمل کے دوران تشنج کے ٹیکے بروقت کروائیں۔ بچوں کو سال میں دو مرتبہ پیٹ کے کیڑے مار ڈی وارمنگ ادویات ضرور دیں، صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں ای پی آئی کے ROTA-RIX کے ویکسین کا اجراءہو چکاہے اور اس کے لگانے سے بچوں میں اسہال کے وقت دست اور الٹی کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔ تقریب کے آخر میں صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے اس ہفتے کا باقاعدہ اجراءبچے کو ڈی وارمنگ کی گولی دے کر کیا اور یہ مہم پوراہفتہ صوبے بھرمیں چلے گی۔ جبکہ صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر عوام الناس سے استدعا کی کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اورماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھر پور استفادہ حاصل کریں۔ تقریب میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو یونیسیف کے تعاون سےکٹس، اسٹیتسکوپ، بی پی اپریٹس بھی دیے گئےَ

Leave A Reply

Your email address will not be published.