- Advertisement -
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ افغانستان سے امریکہ اور ان کا ساتھ دینے والوں کا انخلاءوقت کی اہم ضرورت ہے امریکہ جہاں بھی گیاتباہی وبربادی کے سواکچھ نہیں کیا ۔افغانستان سے بیرونی مداخلت کا خاتمہ اور آپس کے مزاکرات وبات چیت ضروری ہے۔طالبان سمیت سب کو مذاکرات کی میزبچھانی چاہیے امریکہ افغانستان سے نکلے ،افغان عوام کو دھوکہ نہ دے، اعتماد دے۔افغانستان میں کسی کی مداخلت نہیں چل سکتی ، سوویت یونین افغانستان میں شکست سے دوچار ہوا، امریکہ بھی شکست کھائے گا۔ شراب پر پابندی کا بل پیش ہونے پر قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کرنے والے پاکستان کی اسمبلی میں بیٹھنے کے اہل نہیں ۔ ان لوگوں نے نہ صرف آئین پاکستان سے انحراف کیا بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات سے بھی روگردانی کی ۔ چیف جسٹس کو ان کے خلاف آئین کی دفعہ 62-63 کی روشنی میں سوموٹو ایکشن لینا چاہیے ۔ باہم دست و گریبان رہنے والی پارٹیاں شراب اور توہین رسالت ﷺ کی مجرم آسیہ مسیح کے حق میں اکٹھی ہو جاتی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں پارٹیاں نہیں پراپرٹیاں ہیں جن کا کوئی نظریہ نہیں ۔ ڈرنے اور دبنے والی سیاسی قیادت نے قوم کی عزت اور غیرت کو نیلام کیا ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام اور قانون کی حکمرانی کے لیے بے مثال جدوجہد کی ہے ۔ عدالتوں سے انصاف ملنے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں ۔ عوام تھانے اور پٹوار خانے کے ستائے ہوئے ہیں ۔ ہر شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہاہے ۔ نظام عدل صرف ججوں کا کام نہیں ہر انسان کے اندر عدل کے قیام کا ایک جذبہ ہونا ضروری ہے ۔ وکلا قانون کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں ۔ آج انصاف کے شکنجے میں اشرافیہ بھی آئی ہے جن کی گردنوں میں سریا تھا وہ وہ بھی گردنیں جھکا کر عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بوسیدہ نظام سے عام آدمی کو انصاف نہیں مل سکتا ہمیں اس ناکام سسٹم کو دریا برد کر کے ایک ایسا نظام قائم کرناہوگا جس میں امیر اور غریب سب کو یکساں انصاف مل سکے اوروہ نظام صرف اسلامی نظام ہے۔ نظام انصاف کو ٹھیک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور نظام انصاف ٹھیک کرنے کی ذمہ داری پہلے عدلیہ اور پھر ہرپاکستانی کا ہے ۔ سالہاسال تک مقدموں کا لٹکے رہنا نظام عدل پر بدترین دھبہ ہے ۔ چھوٹے مقدمات کی سماعت کے لیے ضلعی و صوبائی سطح پر نئی عدالتیں بھی قائم کی جانی چاہئیں ۔