پانامہ میں شامل تمام افراد کا احتساب دن کی روشنی میں ہو رات کے اندھیرے میں نہیں، سینیٹرسراج الحق

0

- Advertisement -

جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ پانامہ میں شامل تمام افراد کا احتساب دن کی روشنی میں ہو رات کے اندھیرے میں نہیں ،ریاست مدینہ کا تصور دینے والے حکمرانوں کا سفر مخالف سمت میں چل پڑا ہے جس کا ثبوت شراب کے حوالے سے بل کی مخالفت ہے ،وفاقی حکومت کے معاشی افلاطون نے پاکستانی روپے کو کاغذ کا ٹکڑا بنا دیا ہے،قبل از وقت انتخابات سے متعلق اشارے کا صحافی خود آصف علی زرداری سے سے پوچھیں ،بلوچستان میں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے بلکہ سی پیک میں بھی بلوچستان کو اس کا حصہ نہیں مل رہا ،صوبے بھر اور خاص کر گوادر میں پینے کا صاف پانی کے مسئلے کا عوام کو سامنا ہے ،نئی حکومت آنے کے باوجود چار ماہ کے دوران صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولاناعبدالحق ہاشمی ،مولاناعبدالکبیر شاکر ودیگر بھی موجود تھے ۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہر لحاظ سے ملک کے لیے بہت اہم ہے، آج تک کسی حکومت نے بلوچستان سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کیے شدید سردی میں بھی بلوچستان کے باسیوں کو گیس دستیاب نہیں ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ معدنیات سے مالا مال صوبہ کی عوام کو ظالم سرکار اور ظالم سردار نے پسماندہ رکھا امرا کے بچے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ بلوچستان کے غریب لوگوں کے بچوں کو بنیادی تعلیم تک میسر نہیں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا بڑا حصہ خشک سالی سے متاثر ہے، تدارک نہ ہوا تو بلوچستان کے رہنے والے نقل مکانی پر مجبور ہوں گے، پرویز مشرف کے دور میں کوئٹہ کے لیے پانی کے منصوبے کا اعلان ہوا جس پر تا حال عمل در آمد نہ ہو سکا امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حساس ترین صوبہ اور ہر لحاظ سے ملک کے لئے اہم ہے ،خوشحال بلوچستان ترقی کرتے ہوئے پاکستان کی ضمانت ہے، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے ، بھارت کا اہم جاسوس کلبھوشن یادیو یہاں سے پکڑا گیا۔سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے لیکن یہاں کے عوام سہولیات سے محروم ہیں ، صوبے کو خشک سالی کا سامنا ہے، سردیوں میں عوام کے لئے گیس نہیں ہوتی، سی پیک کا فائدہ بلوچستان کے عوام کو نہیں مل رہا ،گوادر کے ماہی گیر محتاج ہو گئے ہیں ، انہیں ان کے پیشے سے بےدخل کیا جا رہا ہے ،سراج الحق نے کہا کہ نیب بلوچستان میں کرپشن کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہا ، اداروں میں کرپشن جاری ہے ، نئی حکومت آنے کے باوجود چار ماہ کے دوران صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار ظالم سرکار اور سردار ہیں ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے کی کرپشن پر نیب کی کوئی نظر نہیںحالانکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بلوچستان میں ورکس اینڈ سروسز محکمہ میں 68فیصد کرپشن ہوئی ہے وزیرِ اعلی بلوچستان نے اعتراف کیا کہ 4 ماہ میں تبدیلی نہیں آ سکی، پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں۔انھوں نے کہا کہ سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہونا چاہیے، گوادر کے ماہی گیروں کو خطرات لا حق ہیں، حکومت تدارک کرے، سی پیک میں بلوچستان کےلئے ترقیاتی منصوبوں کو پھر شامل کیا جائے۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غیر مسلم شراب پر پابندی کا بل لاتا ہے لیکن مسلمان مخالفت کرتے ہیںچیف جسٹس کا امتحان ہے بل کی مخالفت کرنے والے کیا 62 اور 63 پر پورا اترتے ہیں، اپوزیشن ہو یا حکومت سب کا احتساب ہونا چاہیے، مدینے کی ریاست کی طرف قدم اٹھائیں گے تو ہم حمایت کریں گے، امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ وفاقی حکومت بغیر ہوم ورک کے اقتدار میں آئی ان کے پاس حکومت چلانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا ،سو دن کی ڈائریکشن ملنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن ان کی معاشی پالیسیاں حقیقت میں ناکامی سے دوچار ہیں،وفاقی حکومت کا طیارہ رن وے پر ہے ،اس کا شور زیادہ لیکن وہ اڑ نہیں سکتا، پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کےلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ نیب خود قابل احتساب ادارہ بن چکا ہے ، حکومت اور اپوزیشن کا احتساب بلا جواز ہونا چاہیے ،آصف زرداری سے پوچھا جائے کہ قبل از وقت الیکشن کا اشارہ دائیں سے ملا یا بائیں جانب سے،ملک کی عدالتیں آزاد ہیںانہوں نے کہاکہ تحریک لبیک کے ساتھ کئے گئے معاہدے پرعملدرآمد ہوجاناچاہےے تھا اگر ان کے گرفتار کارکنوں اور قائدین نے کسی قسم کا جرم کیاہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے سزا دی جانی چاہےے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.