
- Advertisement -
زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں سے خشک سالی و قحط سے متاثرہ اضلاع کی فہرست سے ضلع پشین کو نکالے جانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل خشک سالی کے بعد اب پشین میں قحط کی صورتحال بنی ہوئی ہے ، زراعت اور گلہ بانی کے شعبے تباہ ہوچکے اور نوبت نقل مکانی تک پہنچ گئی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم اے کے ذریعے جن اضلاع میں امداد کی فراہمی شروع کی ہے ان اضلاع کی فہرست سے پشین کونکالا گیا ہے اور اس ناانصافی پر ضلع پشین کے عوامی نمائندوں کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔ ان خیالات کااظہار زمیندار ایکشن کمیٹی پشین کے چیئر میں سید عبدالقہار آغا ،حاجی عبدالحکیم علیزئی ، حاجی خالقداد ملکیار ، صادق کاکڑ ، ڈاکٹر حبیب الحق و دیگر نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پشین کا شمار زرعی حوالے سے بلوچستان کے اہم ترین اضلاع میں ہوتا تھا مگر طویل خشک سالی ، بجلی بحران ، پانی کی قلت اور حکومت کی عدم توجہی سے پشین میں زراعت اور گلہ بانی کے شعبے تباہ ہوچکے اور اب قحط کی صورتحال ہے اوربعض علاقوںسے لوگوں کی نقل مکانی کی نوبت آگئی ہے مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت نے جن اضلاع میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے ریلیف اقدامات شروع کئے ہیں ان اضلاع کی فہرست سے پشین کا نام نکال دیاگیا ہے جس سے سنجیدہ سوالات جنم لینے لگے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع پشین کے اکثر علاقوں میں لوگوں کو غذائی قلت اور بدترین معاشی مسائل کا سامنا ہے ایسے میں پی ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کے امتیازی سلوک پر ضلع پشین سے منتخب عوامی نمائندوں کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔ انہوں نے اپنے بیان میں پرزور مطالبہ کیا کہ ضلع پشین کو آفت زدہ ضلع قرار د ے کر فوری طور پر ضلع میں ریلیف کاکام شروع کیا جائے اور امدادی سامان کی فراہمی سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جائیں بصورت دیگر پشین کے عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی ذمہ داری پی ڈی ایم ا ے حکام پر عائد ہوگی ۔