
- Advertisement -
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے بلوچستان کے خاص منصوبے نکالنا باعث تشویش ہے سی پیک میں بوستان تاسپیزنڈسرکلر ریلوے ،صوبائی دارالحکومت کی ترقی اور گوادر،کوئٹہ ،ژوب منصوبے ہر صورت شامل ہونا چاہیے سریاب پھاٹک سے کسٹم چوک تک پل ،کوئٹہ میں میگاپراجیکٹس ،پانی وصحت کی سہولیات سی پیک کے ذریعے ملنا چاہیے اہل بلوچستان میں تشویش پائی جاتی ہے کہ سی پیک کی ترقی سے بھی بلوچستا ن کے اکثرعلاقے سوائے گوادر کو نکالے جارہے ہیں جو لمحہ فکریہ اور قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے ٹریفک کنٹرول کرنے اورلوگوں کی آمدورفت میں آسانی پیداکرنے کیلئے سی پیک منصوبے میں سرکلر ریلوے پراجیکٹ سمیت مختلف مقامات پر پُلزتعمیر کیے جائیں اگر کوئٹہ شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے سرکلر ریلوے شروع اور پلز تعمیر نہیں کیے گئے توٹریفک مسائل بڑھ جائیں اورعوام کی پریشانیوں میں بدترین اضافہ ہوگا ۔بلوچستان کی ترقی کے لیے سی پیک سے صرف روٹ نہیں بلکہ اقتصادی اور صنعتی زون چاہیے ۔غربت بے روزگار ی ودیگر مسائل کا شکارمظلوم بلوچستان بلخصوص کوئٹہ کی ترقی کیلئے سی پیک میں زراعت ،لائیواسٹاک،سرکلرریلوے وموٹروے،ہائی ویز،تعلیم وصحت کے پراجیکٹس شامل کیے جائیں سی پیک منصوبے سے بلوچستان کے سوادیگر علاقوں کوشامل کرنااور ان کی ترقی وخوشحالی پرتوجہ دینا اہل بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔صوبے میں بے روزگاری ختم کرنے پر وتوجہ دی جائیں ہر سطح بلخصوص حکومتی سطح پر کرپشن کا قابوپایا جائے تعلیم وصحت کے اداروں کو خاص اہمیت دیکر ان کی ترقی ،وسائل کی فراہمی اور نگرانی کو یقینی بنائی جائیں ۔صوبے میں لاکھوں نوجوان تعلیمیافتہ ہونے کے باوجودبے روزگار ہیں خشک سالی نے اہل بلوچستان کی زراعت ومعیشت کی تباہی کے حوالے سے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ بجلی وگیس ،مواصلات اور شاہراہوں کی صورت حال بھی ٹھیک نہیں ۔بلوچستان کی معاشی ،تعلیمی وسماجی ترقی پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔