اسپیڈ میٹرزلگانا اور بھاری گیس بل بجھوانا اہل بلوچستان کیساتھ زیادتی ہے، مولانا عبدالحق ہاشمی

0

- Advertisement -

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ سردی شروع ہوتے ہی گیس پریشرمیں کمی ،اسپیڈ میٹرزلگانا اور بھاری گیس بل بجھوانا اہل بلوچستان کیساتھ زیادتی ہے ۔غربت بے روزگاری وخشک سالی کا شکارصوبہ بلوچستان کے مظلوم عوام مہنگی گیس ،گیس پریشرمیں اضافہ اور اسپیڈمیٹروبھاری جرمانوں وناقابل برداشت بلز کو برداشت کرنے سے قاصر ہے حکومت گیس کے اسپیڈمیٹرزاور گیس بلزمیں بلاوجہ کے جرمانے ڈالنے سے گریز کریں ۔اہل بلوچستان کو گیس دینے و گیس کی قیمتوں میں ریلیف دی جائیں۔ٹیوب ویلز کو سولرسسٹم پر منتقل کرنا خوش آئند ہے انہوں نے کہا کہ سردی کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی قلت،پریشر میں کمی اور بلزمیں اضافہ سے کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ گھروںکے چولھے ٹھنڈے ہونے سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ہر سال موسم سرما کی آمد سے قبل حکمرانوں کی جانب سے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیںکی جائے گی مگر ہر بار صورت حال مختلف ہوتی ہے ۔موجودہ دور حکومت میں بھی بہتری کی بجائے دن بدن خرابی ہی نظر آرہی ہے۔ بلوچستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ بلوچستان تیل، گیس، کوئلہ اور معدنیاتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، اس کے باوجودحکومتیںمشکلات ومسائل سے اہل بلوچستان کو نجات دلانے میں ناکام ہوئے ہیں نئی حکومت کیلئے ہوناتویہ چاہئے تھا کہ گزشتہ دور حکومتوں کی نسبت موجودہ دورمیں عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملتا۔بجلی،گیس کی قیمتوں اورمہنگائی میں کمی ہوتی لیکن عوامی توقعات کے مطابق ایسانہیں ہوسکا۔ابھی موجودہ حکمرانوں کے چار ماہ ہی گزرے ہیں اورعوام کاجینا دوبھر ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی وسائل سے بھر پور انداز میں استفادہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے بلوچستان کو آئنی معاشی حقوق دیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔ وزیر اعظم کی طرف سے ایم ڈیز سوئی سدرن اور نادرن کے خلاف کارروائی اوربورڈ آف ڈائریکٹرزکوتبدیل کرنے کا حکم محض عوامی دباﺅ کے اثر کوزائل کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جاناچاہئے۔ملک میں تبدیلی کے نام پر بننے والی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کررہی۔ اگر حکمران اہل بلوچستان کو خوشیاں نہیں دے سکتے تو ان کو دکھ دینے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ جب سے ملک میں نئی کی حکومت آئی ہے قوم کے لیے ہر آنے والادن مشکلات کا باعث بن رہا ہے ۔ حکمرانوں کی حکمت عملی اوروژن کہیںنظر نہیںآرہا۔ نئی حکومت کواہل غربت ،حکمرانوں کی زیادتیوں کاشکار بلوچستان کے عوام کو ہر حوالے سے بھرپورریلیف دینا چاہیے تاکہ بلوچستان کے زخموں میں مرہم رکھی جائیں اور یہاں کے عوام نئی حکومت کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر مسائل کے حل کاامید رکھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.