بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ہر افراد کو کردار ادا کرنا ہوگا ، ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید
- Advertisement -
ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا کہ بد عنوانی برائی کا وہ آلودہ اظہار ہے جس کے بطن سے ہمیشہ غربت معاشی نا انصافی اور اجتماعی بے یقینی نے جنم لیا. انسدادِ بد عنوانی کا عالمی دن کرپشن کے تدارک کے لئے یو این کنونشن کی روشنی میں 9 دسمبر کو اقوامِ عالم میں منایا جاتا ہے۔تاہم کرپشن کے خلاف یو این کی قرار داد ماضی قریب کی بات ہے جب کہ ہمارے نبی ﷺنے کئی سو سال پہلے اسے برائی کی جڑ قرار دیا۔وہ قومیں جنھیں بد عنوانی کے بھیانک نتائج کا ادراک تھا انھوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اسکے خاتمے پر لگا ئیں اور سر خرو ہوئیں جبکہ وہ اقوام جنھوں نے بد عنوانی کے تدارک سے تغافل برتا، انھیں ذلت کی دھول چاٹنا پڑی۔وطن عزیز پاکستان میں بھی اس بد عنوانی کے عفریت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، معاشرے کے تمام طبقات میں کرپشن کا زہراس قدر سر ایت کر چکا ہے کہ اصلاح احوال کی راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔خوش آئند امر یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.انہوں نے بد عنوانی کو معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ بد عنوانی سے معاشرے کا حسن گہنا گیا ہے ۔اسلامی اقدر کی صورت ہمارے پاس زندگی گزارنے کا خوبصورت طریقہ موجود ہے ۔ ہماری بھولی اقدار کا سبق دوبارہ دہرانے کے لئے والدین اور اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اساتذہ کرام بچوں کو تعلیم کے زیور سے بہرہ مند کرتے ہوئے انکی تربیت کا بھی اہتمام کریں اورایسی نسل تیار کریں جسکی بنیاد یقین، اتحاد محکم کے زریں اصولوں پر استوار ہو۔ ہمیں اپنے روئے بھی تبدیل کرنا ہو نگے، ویلیو سسٹم کو سمجھ کر خود کو ضمیر کی عدالت میں روزانہ احتساب کے لئے پیش کرنا ہوگا، اس عدالت کا نتیجہ ہمارے لئے زندگی گزارنے کی نئی راہیں متعین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتسا ب اور انصاف کسی بھی معاشرے کے وہ بنیادی ستون ہیں جن پر تعمیر و ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سخت گیر احتسابی نظام کے فقدان کی وجہ سے ہم آج بھی ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر پائے جو ہمیں بہت پہلے طے کر لینی چاہئیے تھیں۔بد عنوانی کا خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا معاشرے کے تمام مکاتبِ فکر کو اس عفریت سے لڑنے کے لئے مشترکہ کاوشیں کرنی ہو نگی۔