- Advertisement -
ا
نے کہا ہے کہ نفرتیں ،رنجشیں ،انتہاءپسندی اور دہشتگردی تنگ نظری سے جنم لیتی ہے تنگ نظری ہی انتہا پسندی پیدا کرتی ہے پشتون علاقوں میں مصالحتی جرگہ کا قیام انتہائی ضروری ہے جرگہ ہی کے ذریعے لوگوں کو عدالتی پیچیدگیوں،پریشانیوں اور بھاری بھرکم اخراجات سے نجات دلایا جاسکتا ہے ماضی میں لوگ انہی جرگوں کے ثمرات سے بھر پور مستفید ہوتے رہے ہیں جرگے کو ظلم و جبر کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا جنگ اور بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں ہم صرف پشتونوں کی بات نہیں کررہے ہیں جو بھی دشمنی اور رنجشوں میں جکڑے ہوئے ہیں ان سے درخواست اور التجاءکرتے ہیں کہ خدارہ اپنے بچوں پر رحم کریں انہیں بندوق کی بجائے قلم ہاتھ میں تھما¶ قلم سے بڑا ہتھیار کچھ نہیں آ¶ ملکر اپنے اردگرد رنجشوں میں پھنسے ہوئے بھائیوں کواس آگ سے نکالنے کیلئے جدوجہد کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلی ملیزئی میں ترین قبیلے کے دو گروپوں عین الدین عرف عینکو اور اصغر خان ترین میں پانچ ہلاکتوں پر دیرینہ دشمنی کے تصفیے کے موقع پر منعقدہ جرگے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔فریق اول عین الدین اور بدرالدین نے جرگے کے سامنے کفن میں ملبوس اصغر خان ترین ،عبدالباری ،احمد شاہ ،قاہر ،حکمت اللہ اور شاہ محمد کو بغیر کسی شر ط کے معاف کرکے دونوں فریقین آپس میں شیروشکر ہوگئے ۔ جرگے کے شرکاءنے فریقین کے درمیان بہترین ثالثی کردار ادا کرنے پر حاجی حیات اللہ عرف حاجی مومن ترین ،ملک عبدالواحد ترین اور حاجی حضرت ترین کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ممتاز قبائلی شخصیت حاجی عبدالروف خان ترین سیگئی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے منتخب نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ جرگے کے ساتھ ملکر اپنے حلقہ انتخاب کے عوام بلخصوص دیرینہ رنجشوں میں جکڑے لوگوں کے پاس جاکر ان سے رنجشوں کی خاتمے کی بات کریں ووٹ لیتے وقت گھر گھر دستک دیتے ہو اس معاملے میں بھی ذرا سنجیدگی کا مظاہرہ کرو اس عمل سے عوام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ راضی ہوگا آئیں جرگہ اور تمام سیاسی پارٹیاں ملکر عوام کی خدمت کریں انہوں نے کہا کہ کلی ملیزئی کے دو گروپوں کے درمیان تصفیے میں علاقے کے عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے نیک نیتی اور اخلاص سے ہر کام پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جرگے میں شریک تمام اقوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کار خیر میں شرکت کرکے یہ واضح کردیا کہ وہ علاقے سے تنگ نظری اور نفرت کا خاتمہ چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈالا چوروں اور ڈاکو¶ں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔جرگے سے سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری ،کمانڈر حاجی محمد عمر ترین سیگئی ،سابق صوبائی وزیر حاجی سردار غلام مصطفی خان ترین ،ایم این اے مولانا عبدالواسیع ،اراکین صوبائی اسمبلی ملک سکندر خان ایڈوکیٹ،ملک نصیر شاہوانی،حاجی اصغر خان ترین،سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال،جے یو آئی کے رہنما حاجی شوکت ملیزئی،عین الدین عرف عینکو،سنیٹر سردار شفیق ترین،ایم این اے مولوی کمال الدین،سابق صوبائی وزیر اسفندیار خان کاکڑ،بی این پی مینگل کے مرکزی رہنما ملک عبدالولی کاکڑ،سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا ،سابق محتسب اعلیٰ بلوچستان عبدالواسیع ترین،چیف آف اچکزئی عبدالصمد خان اچکزئی،سردار اکبر خان ترین،امن جرگے کے سربراہ لالا یوسف خلجی،معصوم خان ترین،حاجی حیات اللہ عرف مومن ترین،پشتونخوا میپ کے عبدالحق ابدال اور عبدالباری ترین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں قبائلی و سیاسی رہنما حاجی شوکت ملیزئی اور انکے صاحبزادے رکن صوبائی اسمبلی حاجی اصغر خان ترین کی طرف سے جرگے میں شریک ہزاروں افراد میں عشائیہ دیا گیا۔