- Advertisement -
سونااگلنے والی سرزمین کے مالک صحت کی سہولیات سے محروم ہیں،لیڈی ڈاکٹرسمیت کئی تیکنیکی پوسٹ بھی خالی ہےں بلکہ ایکسرے مشین بھی ناکارہ ہوچکی ہے موسمی بیماریوںکے علاج کے لیے بھی مریضوں کودالبندین جانا پڑتاہے عوامی حلقوں کی فریاد۔تفصیلات کے مطابق ضلع چاغی کو خطے کے لئے سونے کی چڑیاکانا م دیا جا تا ہے مگرباوجود اس کے تحصیل نوکنڈی کے پچیس ہزارآبادی کے لیے لیڈی ڈاکٹر تک نہیں ہے رورل ہیلتھ سینٹرکی ایکسرے مشین کئی سالوں سے ناکارہ پڑا ہے بلکہ موسمی بیما ریوں میں مبتلا مریضوں کو علا ج اور ایکسرے کے لیے گھنٹوں کی مسافت تہہ کرکے دالبندین جاناپڑتاہے اس کے علا وہ پچیس ہزارآبادی کے لیے ادویات کا کوٹہ انتہائی ناکافی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو میڈیکلز سے مہنگے داموں دوائیاں خریدنے پر مجبورہے اور مذکورہ سینٹر کے اکثر ٹیکنیکل اسٹاف ریٹائرہوچکے ہیں مگر ان پوسٹوں کوتاحال کو ئی تعیناتی اور تقرری نہیں کی جا سکی ہے حال ہی میں چاغی کے مختلف علاقوں کے ویکسینٹرزکے 19 تقریاں ہوئی مگران میں سے ایک بھی نوکنڈی کونہیں دیاگیاجسکی وجہ سے بچوں کی ویکسین کے لیے اسٹاف کی کمی کی وجہ سے عملے کو سخت مشکلات کا سامنا ہے عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیرمیرعارف جان محمد حسنی اور وزیرصحت سے پرزورمطالبہ کیاکہ وہ تحصیل کی بڑتی ہوئی آبادی کی تناسب کومدنظررکھ کر رورل ہیلتھ سینٹرکواپ گریڈ کرکے سول ہسپتال کادرجہ دے۔