ادارہ برائے تحفظ ماحولیات اور غیرسرکاری ادارے اسلامک ریلیف کے زیراہتمام وہیکل ایگزامنیشن اورفضائی وماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلئے کوئٹہ پریس کلب میںسیمینار کاانعقادکیاگیا

0

- Advertisement -


ادارہ برائے تحفظ ماحولیات اور غیرسرکاری ادارے اسلامک ریلیف کے زیراہتمام وہیکل ایگزامنیشن اورفضائی وماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلئے کوئٹہ پریس کلب میںسیمینار کاانعقادکیاگیا۔آگاہی سیمینار میں لوکل ٹرانسپورٹرز،انجمن تاجران، سیاسی وسماجی حلقوں سمیت عوام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خاص ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ نذیراحمد کرد نے کہا کہ ٹریفک کے نظام کی بحالی کیلئے جدیدٹریفک انجینئرنگ بیوروکاقیام عمل میں لاناناگزیر ہے، ٹریفک سگنلزنہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کومشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیوی گاڑیوںکورات 10بجے کے بعد داخلے کی اجازت ہے ، گاڑیاں ایسے مقامات سے داخل ہوتے ہیں جہاں اہلکار موجود نہیں ہوتاتاہم جہاں ٹریفک پولیس اہلکاروں کے سامنے آجاتے ہیں انہیں بھاری جرمانے عائد کئے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ شہر میںٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد 6سو ہے جبکہ ہمیں 12سوسے زائد کی نفری ضرورت ہوتی ہے،حالات کے پیش نظرہرچوک پر ٹریفک پولیس اہلکار کی سیکورٹی کےلئے ایک اہلکار لازمی تعینات کررہے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے،ٹریفک پولیس کاکام ٹریفک کی روانی کوبہترکرنا ہے اورہم اس پر کام کررہے ہیں کوئٹہ شہر میںبہت جلدسگنلزبحال ہوجائیںگے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سابق مشیرعظیم کاکڑ نے کہا کہ جام کمال خان کی قیادت میں موجودہ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے ،بڑے بڑے دعوے نہیںکریںگے بلکہ کچھ نیا کرکے دکھائیںگے اوربلوچستان میں تبدیلی لائیںگے،عوام نے سابق حکمرانوں کو 5سال تک برداشت کیااورانہوں نے ان کی فلاح وبہبودکیلئے کچھ بھی نہیں کیا اورروڈوںکی تعمیرات کے نام پر کرپشن کیا ،ہمیں ایک سال تک موقع دیا جائے اس کے بعدعوام تبدیلی محسوس کریںگے،ابھی اس کوبدلنا ہوگاہم قانون سازی کرکے صوبے کے عوام کوسہولیات فراہم کریںگے۔انہوںنے کہا کہ روزانہ کی بنیادپرکوئٹہ کے سرکاری ونجی ہسپتالوں سے 1سو85کلوگرام میڈیکل فضلات نکلتے ہیںجن کو ری سائیکل اوردھلائی کرکے واپس مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتاہے جو کہ انسانی صحت پر بری طرح اثراندازہورہے ہیں ،لوگ جلدسمیت دیگر موذی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرنا ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری آر ٹی اے حبیب الرحمن مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں لوکل بسوں کے 16روٹ ہیں اورریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کوئٹہ میں 8سو13بسوںکوپرمٹ جاری کئے جبکہ شہر میں اس وقت 3سو80بسیں چل رہی ہیں جوکئی سالوںسے خستہ حالت میں ہیں،کوئٹہ شہر میں سڑکوں کی حالت بھی ابتر ہے1985کے بعد سڑکوں کو تعمیرنہیںکیاگیا۔انہوںنے کہا کہ کوئٹہ شہر ایک پرفضا مقام ہواکرتا تھا جہاں پر بیمار لوگ آکر صحت مندہوتھ تھے مگر اب اس شہر کواتناگندہ کیا ہے کہ صحت مندلوگ بھی بیمارہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات کے مطابق کمشنرکوئٹہ کی سربراہی میں لوکل بسوں کامعائنہ کرکے ٹریفک کامسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں
عوام کو بہترلوکل ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرکام کرکے حکومت،بینک اور عوام کے تعاون سے لوکل بسوںکوبدل لیںگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.