ایلمٹ کے بہانے چالان کرنا قابل مذمت ہے،جماعت اسلامی

0

- Advertisement -

جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں کہاگیا ہے کہ حکومت کا غریبوں کی سواری موٹرسائیکل والوں کو تنگ کرنا دانشمندی قبائلی شہرکوئٹہ میں داڑھی پگڑی والوں کو ایلمیٹ نہ لینے ،اگلے پچلے نمبرپلیٹس کے بہانے باربار چالان کرکے تنگ کرنا کسی طور ٹھیک نہیں۔ حکومت شہر میں ناجائز نجی موٹرسائیکل پارکنگ کرنے والوں ،بغیر پرمٹ کے رکشوں وناجائزشورومزکے حوالے سے توخاموش ہیں مگرغریب موٹرسائیکل سواروں کو اکثرڈبل سواری اور آج کل ایلمیٹ کے بہانے چالان کی صورت میں نقدی سے محروم کردیتے ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ بیان میں کہاگیاہے کہ ایلمیٹ کی اہمیت اپنی جگہ مگر علمائے کرام ،مدارس کے طلبہ ،پگڑی استعمال کرنے والے قبائلی عمائدین کو اس حوالے سے خصوصی رعایت دینے کیساتھ شہر سے ناجائز نجی موٹرسائیکل ،سائیکل پارکنگ ،غیر قانونی شورومزجن کی وجہ سے راہ چلنے والوں کو مشکلات اور اکثر ٹریفک جام رہتے ہیں ان کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائیں ۔ شہر کابلی گاڑیوں ،بغیر کاغذات کے رکشوں سے بھراہے کالی شیشے والی گاڑیاں پھر رہی ہیں اسے کوئی نہیں پوچھنا ٹریفک پولیس اور حکومت کا بس صرف غریب موٹرسائیکل والوں پر چلتا ہے اور انہیں تنگ کرتے ہیں روزانہ سینکڑوں موٹرسواروں کو چالان کرکے لاکھوں روپے بٹورے جارہے ہیں جو قابل مذمت ہے شہر میں غیر قانونی نجی موٹرسائیکل پارکنگ کی وجہ سے عوام کا چلنا محال ہوگیا ہے جگہ جگہ شورومزبنے ہوئے ہیں جوکہ حکومت اورٹریفک پولیس کو نظر نہیں آتے بدامنی کے معمولی واقعہ کوبنیاد بناکر موٹرسائیکل ڈبل سواری پر پابندی لگائی جاتی ہے ۔کبھی رکشے یا کالے شیشے والی گاڑی یاکابلی بغیر کاغذات کے گاڑیوں کے حوالے سے حکومت وٹریفک پولیس والوں کے کوئی بڑی کاروائی نہیں کی ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت داڑھی پگڑی والے قبائلی دینی شخصیات،علمائے کرام ودینی مدارس کے طلبہ کو ایلمیٹ پہننے سے استثنیٰ دے دیں اور چالان وجرمانہ نہ کریں ۔ایلمیٹ کی اہمیت اپنی جگہ مگر علماءکرام قبائلی عمادین اور مدارس کے طلبہ کی اپنی مجبوری ہیں اس کیلئے ٹریفک پولیس،ایس ایس پی ودیگر اعلیٰ حکام موٹرچلانے والے علمائے کرام ،مدارس کے طلبہ اور قبائلی عمائدین پر زیادہ سختی نہ کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.